باپ؛ صرف ایک رشتہ نہیں ہے، بلکہ ایک سائبان، ایک حصار اور ایک خاموش نعمت کا نام ہے، وہ اپنی خواہشات کے چراغ بجھا کر اولاد کے مستقبل کو روشن کرتا ہے، اپنی آسائشیں قربان کرکے ان کے خوابوں کو تعبیر دینے کی کوشش کرتا ہے، اور اپنی زندگی کی توانائیاں ان کی کامیابیوں کے لئے صرف کر دیتا ہے۔
باپ کی محبت عموماً الفاظ سے نہیں، قربانیوں سے پہچانی جاتی ہے، اس کی شفقت میں وقار، اس کی سختی میں خیرخواہی، اور اس کی خاموشی میں دعاؤں کا ایک جہاں پوشیدہ ہوتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ علم، کردار اور قیادت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے والوں کی کامیابیوں کے پس منظر میں اکثر کسی ایسے باپ کی محنت، تربیت اور قربانیاں موجود رہی ہیں، جس نے اپنی اولاد کو صرف جینے کا ہنر نہیں سکھایا، بلکہ زندگی کا مقصد بھی سمجھایا۔
راقم کے والدِ ماجد دامت برکاتہم نے بچپن ہی سے گھر میں ایک خوبصورت معمول قائم کر رکھا ہے، میرا معمول بھی یہی ہے کہ رات کا کھانا اولاد کے ساتھ کھایا جائے، اس دوران ان سے گپ شپ، بات چیت اور دن بھر کے مختلف احوال معلوم کئے جائیں، اس سے ان میں اعتماد بھی آتا ہے اور رہنمائی بھی ملتی ہے، بچوں کو سنا جائے، مختلف سوالات کے ذریعہ ان کی سرگرمیوں، مصروفیات اور مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے اور پھر حسب ضرورت مفید مشورے دیئے جائیں، غلطیوں کی اصلاح کی جائے اور زندگی کے مختلف معاملات میں فکری رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
والد صاحب دامت برکاتہم کا یہ عمل بظاہر ایک سادہ سا گھریلو معمول تھا لیکن انہوں نے اس کے ذریعہ خاموش تربیت کی، جہاں ہمیں کتابوں سے ہٹ کر زندگی پڑھنے کا موقع میسر ہوا۔
باپ کی یہی تربیت اولاد کے لئے سرمایہ ہوتی ہے جس میں وہ اپنے وقت، توجہ، تجربہ اور خاموش نگرانی سے اولاد کی شخصیت تعمیر کرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات باپ کی چند منٹ کی گفتگو، برسوں کی کتابوں سے زیادہ اثر چھوڑ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے، ان کی محنتوں اور قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور ہمیں ان کے احسانات کو سمجھنے، ان کی قدر کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H