بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (119)
محترم غیّور مسلمانوں اور معزز قارئین : آج مسلمانوں پر جو حالات، فتنے اور سازشیں ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہر طرف سے مسلسل مسلمان ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ اس کا ذمہ دار دشمن اور ظالموں سے زیادہ خود مسلمان ہے؛ کیونکہ مسلمانوں نے اپنے اور اپنے دین کے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ صبر کا بہانہ بنا کر خاموش رہے۔
آج وقت مسلمانوں سے پوچھنا چاہتا ہے:
اے مسلمانوں! بتاؤ، کب تک خاموش رہو گے؟
کب تک ظلم سہتے رہو گے؟کب تک اپنے زخم چھپاتے رہو گے؟
کیا تم صرف اس انتظار میں بیٹھے ہو کہ کوئی اور آئے گا، تمہاری جنگ لڑے گا، تمہارے حقوق دلائے گا اور تمہارے زخموں پر مرہم رکھے گا؟
نہیں!
قومیں صرف دعاؤں سے نہیں، ایمان، بیداری، اتحاد، ہمت اور عمل سے زندہ رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
“کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مومن ہو۔”
(آل عمران: 139)
آخر کتنے ظلم سہو گے؟
اے مسلمانوں! ذرا اپنے گرد دیکھو!
کیا موب لنچنگ کا ظلم نہیں ہو رہا ہے؟
کیا حجاب کو پابندیوں اور تحقیر کا سامنا نہیں؟
کیا لبِ جہاد کے بہانے ظلم کے دروازے نہیں کھولے گئے؟ دینی شعائر کو مذاق بنانے، دبانے اور مٹانے کی کوششوں اور سازشوں پر بھی خاموش رہو گے؟
کیا تجارت، روزگار اور معیشت میں ہونے والی ناانصافیوں کو ہمیشہ برداشت کرتے رہو گے؟
کیا ناموسِ رسالت ﷺ اور امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گستاخیوں پر خاموش بیٹھے رہو گے؟
کیا مساجد، مدارس اور دینی مراکز کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر بھی خاموش رہو گے؟
کیا نوجوانوں کے خلاف ناانصافی پر بھی خاموش رہو گے؟
کیا تمہارے گھروں پر ظلم ہو تو بھی خاموش رہو گے؟
تمہارے حقوق پامال ہوں تو بھی خاموش رہو گے؟
بتاؤ! آخر کون سا ظلم باقی ہے جس پر تمہاری خاموشی ٹوٹے گی؟
. ظلم پر احساس
اے مسلمان! اپنے دل سے پوچھو:کیا تمہیں اپنے بھائی کا خون دیکھ کر درد نہیں ہوتا؟
کیا تمہیں اپنی بہن کے حجاب کی توہین پر غیرت نہیں آتی؟
کیا تمہیں اپنے نبی ﷺ کی گستاخی پر دل میں تڑپ محسوس نہیں ہوتی؟
کیا مسجد کا دروازہ بند ہو تو تمہارا دل نہیں جلتا؟
کیا مدرسہ اجڑ جائے تو تمہیں کوئی فکر نہیں ہوتی ؟
کیا تمہارے حقوق چھین لیے جائیں اور تم صرف یہ کہہ کر بیٹھ جاؤ گے کہ:
“اللہ سب دیکھ رہا ہے!”
ہاں! اللہ سب دیکھ رہا ہے؛ مگر اللہ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ تم نے اپنی استطاعت کے مطابق کیا کیا!
اے مسلمانوں بتاؤ ! کیا خدا کو جواب دو گے؟
کیا اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو جواب دو گے؟
کب تک ڈرتے رہو گے؟
کب تک بکھرے رہو گے؟
کب تک اپنے حق سے دستبردار ہوتے رہو گے؟
تمہاری کمزوری نے ظالم کو طاقت دے دی ہے!
تمہاری خاموشی نے ظلم کو حوصلہ دے دیا ہے!
تمہارے باہمی اختلاف نے تمہاری صفوں کو کمزور کر کے رکھ دیا ہے!
اب وقت ہے کہ سوئی ہوئی غیرت کو جگاؤ، بکھری صفوں کو جوڑو اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرو!
ہمت دکھاؤ! اٹھو! شیر دل جوان بن کر ظالم کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ!
مگر یاد رکھو:
ہمت کا مطلب فساد نہیں،
اتحاد کا مطلب نفرت نہیں۔
اسلام کسی طرح کے بھی فساد کی اجازت نہیں دیتا۔ ہر آواز پُرامن ہونی چاہیے، اور ہر احتجاج قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
اپنے حق کے لیے قانونی، پُرامن، منظم اور باوقار جدوجہد کرنا، ظلم کے خلاف گواہی دینا، مظلوم کا ساتھ دینا، قلم اٹھانا، آواز اٹھانا اور اپنے جائز مطالبات احتجاج کے ذریعے سرکاری ایوانوں تک پہنچانا ہر شہری کا حق ہے۔
اس لیے اے مسلمانوں! تم کس خوابِ غفلت میں پڑے ہو؟
کیا تم کوشش بھی نہیں کرو گے؟
کیا جائز طاقت بھی نہیں دکھاؤ گے؟
کیا تم گھروں سے نکل کر اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن آواز بھی نہیں اٹھاؤ گے؟
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ موت برحق ہے؟
کیا تمہارا ایمان اب کسی کام کا نہیں رہا؟
کیا اللہ کے دین کی خاطر اپنے آپ کو جدوجہد کے لیے پیش نہیں کرو گے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ
“اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔”
(محمد: 7)
مددِ الٰہی کا انتظار ضرور کرو، مگر اپنی ذمہ داری ادا کیے بغیر مدد کی شکایت نہ کرو۔
جب تم ایمان کو عمل سے، دعا کو جدوجہد سے، اور بکھری قوت کو اتحاد سے جوڑو گے، تب اللہ کی نصرت کی امید رکھو۔
پھر وہی وعدہ تمہارے سامنے ہوگا:
وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
“تم ہی سربلند رہو گے، اگر تم مومن ہو!”
ہمت کرو، اٹھو!
اے مسلمان!
اپنی نسلوں کے لیے ہمت کرو!
اپنے دین کے لیے ہمت کرو!
اپنے جائز حقوق کے لیے ہمت کرو!
مظلوم کے لیے ہمت کرو!
حق اور عدل کے لیے ہمت کرو!
اپنی خاموشی کو بیداری میں،
اپنی کمزوری کو قوت میں،
اپنے اختلاف کو اتحاد میں،
اور اپنی شکایت کو عمل میں بدل دو۔
اور ہم سب یک زبان ہو کر کہیں:
نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ
ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں!
کیونکہ جو قوم اپنے دین، اپنے جائز حقوق اور اپنے مظلوموں کے لیے کھڑی نہیں ہوتی، وہ زندہ قوم ہونے کا حق کھو دیتی ہے۔
لہٰذا ہمت کرو، بیدار ہو، متحد ہو اور حق و عدل کے لیے پُرامن و قانونی جدوجہد کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو!
اور دنیا کو بتادو کہ ہم ظلم کو برداشت نہیں کریں گے
اے طائرِ لاہوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
(علامہ محمد اقبالؒ)
________________________________
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com