سچ تو یہ ہے کہ اندر اک خاموش طوفان برپا ہے مگر دنیا کے سامنے چہرے پر ضبط کی مسکراہٹ سجا رکھی ہے دل الجھنوں کے ایسے جال میں قید ہے جسے کھولنا ممکن نہیں لگتا، مگر لبوں پر شکایت کا کوئی لفظ نہیں نہ کوئی گلہ ہے، نہ فریاد بس اپنی ہی خاموشی کی پناہ میں خاموشی سے خود کو سمیٹنے کی اک مسلسل کوشش جاری ہے

✍️ ایم ایس انجم دربھنگوی