​میری ڈائری سے

آج جب میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۶ء تک کے ان سات سالوں کی مسافت پر نظر ڈالتا ہوں، تو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے میرے جسم کی عمر تو شاید نہیں بڑھائی
 مگر میری روح کو صدیوں کا بوڑھا کر دیا ان سات برسوں نے مجھ سے میری معصومیت اور بے فکری چھین کر میرے دامن میں آگاہی کا زہر بھر دیا

​جن چہروں کی وفا پر مجھے اندھا مان تھا، 
وہ اتنی بے دردی سے بدلے کہ اعتبار کا پیرہن تار تار ہو گیا
 آنکھوں میں سجے روشن سپنے شیشے کی مانند چور چور ہو گئے، اور دل کے نہاں خانوں میں سلگتی آرزوؤں نے گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیا
​مگر اس بوجھل مسافت کا سب سے بڑا کرب وہ صدمات ہیں جن پر وقت کا مرہم بھی بے اثر رہا
 وہ اب ماضی کے دھندلے نقش نہیں بلکہ میری ذات کے اندر پیوست وہ دائمی گھاؤ ہیں جو میری ہر تنہائی میں خاموشی سے رِستے رہتے ہیں
​میں سانس تو لے رہا ہوں، مگر اس خاموش چہرے کے پیچھے چھپا وجود اب پہلے جیسا نہیں رہا


           *قطعہ*
پیرہن چاک ہوا مانِ وفا ٹوٹ گیا 
سات برسوں کی مسافت میں یہ کیا کیا دیکھا

​شیشۂِ خواب ہوا چور، تعلق نہ رہا
زیست کے روپ میں اک زندہ جنازہ دیکھا

 ایم ایس انجم دربھنگوی