سیاست کے میدان میں بعض اوقات ایسے عجیب و غریب موڑ آتے ہیں کہ انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ مگر پھر کچھ دیر بعد وہی منظر ایک نئے زاویے سے دیکھیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں (بی جے پی) کے تعلق سے کچھ ایسا ہی معاملہ دکھائی دیتا ہے۔
عام تاثر تو یہی ہے کہ یہ ہندوؤں کی پارٹی ہے، مگر اگر ذرا گہرائی میں جائیں تو لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی “اصلاحی کمیٹی” کا کردار بھی بڑی دلجمعی سے ادا کر رہی ہے۔
بی جے پی کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی ہر چھوٹی بڑی غلطی پر عقابی نظر رکھتی ہے۔ کہیں کوئی کاغذ ادھورا ہو، کہیں کوئی قانونی کمی ہو، کہیں کوئی بے ترتیبی ہو — فوراً پکڑ میں آ جاتی ہے۔ اب اس کو کوئی سختی کہے یا نگرانی، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے بھی کمر کس لی۔
کل تک جن لوگوں کو اپنے پیدائش سرٹیفکیٹ کا بھی علم نہ تھا، آج وہ فائلوں کے ماہر بن چکے ہیں۔ مکانوں کے کاغذات ہوں یا زمین کی رجسٹری، سب کچھ ترتیب سے سنبھال کر رکھا جا رہا ہے۔ گویا بی جے پی نے ایک غیر سرکاری “دستاویز درستگی مہم” چلا دی ہو!
تعلیم کے میدان میں بھی عجیب بیداری آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیاوی تعلیم کو کچھ لوگ نظرانداز کر دیتے تھے، اب وہی لوگ اپنے بچوں کو اسکول، کالج اور کوچنگ کی طرف بھیجنے میں پیش پیش ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہلکی سی چوٹ لگا کر جگا دیا ہو کہ “بھائی! اب سنبھل جاؤ”۔
سماجی برائیوں میں بھی کسی حد تک کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ غنڈہ گردی، لاپروائی اور بے فکری جیسے رویے پہلے کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔ لوگ قانون کو سمجھنے اور اس کے دائرے میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گویا ڈر نے وہ کام کر دکھایا جو نصیحتیں برسوں میں نہ کر سکیں۔
مذہبی شعور بھی ایک نئی کروٹ لیتا دکھائی دیتا ہے۔ دین کی طرف رجحان بڑھا ہے، مساجد آباد ہو رہی ہیں، اور لوگ اپنی شناخت کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سیاسی شعور بھی بیدار ہوا ہے—اب لوگ ووٹ کی اہمیت سمجھنے لگے ہیں اور اپنے حقوق کے بارے میں سوال بھی کرتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ کیا یہ کوئی منصوبہ بند اصلاحی پروگرام تھا؟ یا حالات نے خود بخود یہ رنگ اختیار کر لیا؟
طنزاً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:
“وہ جو ہمیں دبانے آئے تھے، انجانے میں ہمیں سنبھال گئے!”
یقیناً یہ کہنا کہ بی جے پی مسلمانوں کی پارٹی ہے، ایک مزاحیہ جملہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت اور ایک دلچسپ پہلو دونوں موجود ہیں۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ سخت حالات نے قوموں کو جگایا ہے، انہیں منظم کیا ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ:
اگر مخالفت میں بھی اصلاح کا پہلو نکل آئے، تو سمجھ لیجیے کہ قوم نے مشکل کو موقع میں بدلنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔
اور شاید یہی اصل کامیابی ہے۔