نَحْنُ أَنْصَارُ اللّٰه
اے اہلِ ایمان! اٹھو، حق کی نصرت کا وقت ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (118)
محترم و معزز قارئین : آج کا دور صرف ظلم و ستم کا دور نہیں، بلکہ فکر پر حملے، عقیدے پر یلغار اور ایمان کو کمزور کرنے کی سازشوں کا دور بھی ہے۔ کہیں مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو اور دینی آزادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کہیں اسلام کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور پسماندگی کے القابات سے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کہیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں دین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں، اور کہیں آزادی، ترقی اور جدیدیت کے خوش نما نعروں کی آڑ میں ایمان، حیا اور اسلامی شناخت سے دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔آئے دن کسی مسلمان، خصوصاً مسلم بہنوں کے ارتداد اور پھر ان کی بے چارگی کی خبریں سن کر اور پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ ایک خاندان، ایک نسل اور پوری امت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
آج ہمارے خلاف ایک ایسی جنگ بھی مسلط ہے جس کا میدان صرف سرحدیں نہیں بلکہ انسان کا ذہن، موبائل کی اسکرین، سوشل میڈیا، تعلیمی ماحول، فلمیں، ڈرامے، فکری مباحث اور تہذیبی تصورات ہیں۔ دشمن ہمیشہ تلوار لے کر نہیں آتا؛ کبھی وہ ایک خیال بن کر آتا ہے، کبھی ایک شبہ بن کر، کبھی ایک دلکش نعرہ بن کر اور کبھی ایک ایسی تہذیب بن کر جو انسان کو اپنی اصل شناخت سے غافل کر دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں ایک سوال ہر مسلمان، بالخصوص اہلِ علم، داعیانِ دین اور ذمہ دار افراد کے دل پر دستک دیتا ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
تماشائیوں کی صف میں یا حق کے علم برداروں کی صف میں؟
قرآن کی پکار: کُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ
ایسے ہی نازک حالات میں قرآن ہمیں ایک عظیم پیغام کی طرف متوجہ کرتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ
”اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بن جاؤ۔“
(سورۃ الصف: 14)
یہ اعلان محض ایک نعرہ نہیں؛ یہ ایمان کا مطالبہ، کردار کا امتحان، عظیم ذمہ داری اور زندگی کے مقصد کی یاد دہانی ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ بے نیاز ہے، سب سے بے پروا ہے اور تمام کائنات اس کی محتاج ہے۔ اللہ کے ”مددگار“ بننے کا مطلب دراصل اللہ کے دین کا مددگار بننا ہے۔
اس کا مطلب ہے: حق کا ساتھ دینا، باطل کے سامنے ایمان نہ بیچنا، قرآن و سنت کو اپنی زندگی میں قائم کرنا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا، دین کی صحیح تعلیم عام کرنا، جہالت اور گمراہی کا علمی مقابلہ کرنا، اقامتِ دین کی جائز کوشش کرنا، دین کے تشخص اور اسلامی شناخت کی حفاظت کرنا، اسلام کے خلاف نت نئے پروپیگنڈوں کا علم، عقل اور حکمت کے ساتھ جواب دینا اور اپنے کردار سے اسلام کی سچائی دنیا کے سامنے پیش کرنا۔
ہم سے کل سوال ہوگا
یہ مسلمانوں پر عائد ہونے والی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ اگر ہم آج نہ اٹھے تو کل وقت ہم سے سوال کرے گا:
جب ایمان پر سوال اٹھ رہے تھے، تم کہاں تھے؟
جب اسلام کو بدنام کیا جا رہا تھا، تم کہاں تھے؟
جب نوجوانوں کے دلوں میں شکوک ڈالے جا رہے تھے، تم کہاں تھے؟
جب مظلوم پکار رہے تھے، تم کہاں تھے؟
جب تمہاری نسل دین سے دور ہو رہی تھی، تم کہاں تھے؟
اگر ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو شاید اس دن ہمارے پاس کوئی مؤثر جواب نہ ہو۔
لہٰذا اے مسلمانوں! اٹھو، گھبراؤ نہیں۔ باطل کا ہر جائز میدان میں مقابلہ کرو؛ مگر جذبات کے اندھے پن سے نہیں، بلکہ علم و حکمت، صبر و تحمل، بصیرت، علماء کے مشورے اور دور اندیشی کے ساتھ۔
باطل کے شور سے حق کا نور نہیں بجھ سکتا
انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کے مقابلے میں بھی اعتراضات کیے گئے، الزامات لگائے گئے اور حق کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ
”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا۔“
اسلام کسی پروپیگنڈے، کسی ظلم اور کسی سازش سے ختم نہیں ہوسکتا۔ اسلام وہ شجر نہیں کہ جس کی جڑ اکھاڑ دی جائے؛ یہ اللہ کا دین ہے، کل بھی باقی تھا، آج بھی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت کے لیے ہمیں ذمہ داری دی ہے؛ ہمیں حق کی گواہی دینی ہے، دعوت دینی ہے، باطل کے شبہات کا جواب دینا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنی ہے۔
مِنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے درمیان اللہ کی نصرت کے لیے پکارا:
مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ
”کون ہے جو اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا مددگار ہو؟“
تو حواریوں نے جواب دیا:
نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ
”ہم اللہ کے مددگار ہیں۔“
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے مشکل دور میں حق کی دعوت پیش کی، مخالفتیں برداشت کیں، اور جب اہلِ ایمان کے لیے ایک محفوظ مرکز کی ضرورت پیش آئی تو مدینہ کے انصار نے اپنے مال، جان اور گھر تک اسلام کے لیے پیش کر دیے۔
یہی جذبۂ نصرت آج بھی مطلوب ہے؛ البتہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ آج ہمیں اپنے دور کے میدانوں کو پہچاننا ہوگا۔
نصرتِ دین کا آغاز اپنے گھر سے
- لہٰذا ”نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ“ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام کا دفاع صرف تقریروں، قلموں، جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کا آغاز کریں۔
اپنی بیوی، بچوں اور ماتحتوں کو حکمت، محبت اور دور اندیشی کے ساتھ دین کی اہمیت سمجھائیں۔ انہیں ایمان و استقامت، نماز، پردہ، حیا، علم، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر جھوٹ، بہتان، نفرت، اشتعال انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے بچنے کی ترغیب دیں۔- لہٰذا ”نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ“ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام کا دفاع صرف تقریروں، قلموں، جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کا آغاز کریں۔
- لہٰذا ”نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ“ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام کا دفاع صرف تقریروں، قلموں، جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کا آغاز کریں۔
- لہٰذا ”نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ“ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام کا دفاع صرف تقریروں، قلموں، جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کا آغاز کریں۔
اپنی اولاد کو عصرِ حاضر کے فتنوں اور نئے نئے پروپیگنڈوں سے ان کی عمر اور عقل کے مطابق باخبر کریں، تاکہ وہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو حقیقت اور ہر مقبول بات کو حق سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔
اپنے گھر کے ایک بچے کو دین سے جوڑ دینا بھی نصرتِ دین ہے،
ایک نوجوان کے شبہے کا حکمت سے جواب دینا بھی نصرتِ دین ہے،
ایک غلط پروپیگنڈے کی علمی تردید کرنا بھی نصرتِ دین ہے،
اور اپنے کردار سے اسلام کی خوب صورتی دکھانا بھی نصرتِ دین ہے۔
صرف غصہ نہیں، شعور چاہیے
لہٰذا اگر آج ہمیں اسلام کے حواری اور انصار بننا ہے تو یاد رکھو!
اس دور میں محض جذباتی ہجوم اسلام کی حقیقی نصرت کے لیے کافی نہیں۔ اسلام کو ایسے باشعور، باعمل، باکردار اور ثابت قدم سپاہیوں کی ضرورت ہے جو علم و حکمت کے ساتھ حق کا علم بلند کریں۔
قوم کو صرف غصہ کرنے والے مسلمان نہیں چاہیے؛
ہمیں سمجھنے، سمجھانے اور سنبھالنے والے مسلمان چاہیے۔
ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جو قرآن جانتے ہوں، حدیث سمجھتے ہوں، اپنے عقیدے سے واقف ہوں، عصرِ حاضر کے سوالات کو سمجھتے ہوں، جدید ذرائع ابلاغ کے اثرات سے باخبر ہوں، جھوٹے پروپیگنڈے اور صحیح علمی تنقید میں فرق کرسکتے ہوں، اور اسلام کی دعوت کو حکمت، اخلاق اور بصیرت کے ساتھ دنیا تک پہنچا سکتے ہوں۔
آج ہمیں ایسے اہلِ علم بھی چاہیے جو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ میدانِ فکر میں بھی موجود ہوں؛ ایسے والدین چاہیے جو صرف اولاد کی دنیا بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ ان کے ایمان کی بھی حفاظت کریں؛ ایسے اساتذہ چاہیے جو صرف روزگار کی تعلیم نہ دیں بلکہ کردار اور مقصدِ زندگی بھی سمجھائیں؛ اور ایسے نوجوان چاہیے جو اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی کامیابی کے لیے نہیں بلکہ دین و ملت کی خیر خواہی کے لیے بھی استعمال کریں۔
اے غیور مسلمانوں! اٹھو
اے غیور مسلمانوں : وقت ہمیں پکار رہا ہے۔ قرآن ہمیں پکار رہا ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں پکار رہی ہیں۔آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم تماشائی بن کر تاریخ پڑھیں گے یا کردار ادا کرکے تاریخ لکھیں گے۔
ہمیں باطل سے مرعوب نہیں ہونا، مگر باطل سے مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار ضرور کرنا ہے۔ ہمیں نفرت کے جواب میں نفرت نہیں، بلکہ حق، علم، حکمت، کردار اور صبر کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔
یاد رکھو!
نصرتِ دین صرف میدانِ جنگ میں تلوار اٹھانے کا نام نہیں؛
کبھی قلم اٹھانا نصرتِ دین ہے،
کبھی علم حاصل کرنا نصرتِ دین ہے،
کبھی ایک شبہے کا جواب دینا نصرتِ دین ہے،
کبھی اپنی اولاد کا ایمان بچانا نصرتِ دین ہے،
کبھی مظلوم کا ساتھ دینا نصرتِ دین ہے،
اور کبھی اپنے کردار سے اسلام کی سچائی ثابت کرنا نصرتِ دین ہے۔
پس اے اہلِ ایمان!
اپنی ذمہ داری پہچانو، اپنے گھروں سے آغاز کرو، اپنی نسلوں کو سنبھالو، علم حاصل کرو، حکمت سیکھو، اتحاد و بصیرت پیدا کرو اور حق کی نصرت کے ہر جائز، پُرامن اور مؤثر میدان میں اپنا کردار ادا کرو۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ ہم سے پوچھے:
جب حق کو تمہاری ضرورت تھی، تم کہاں تھے؟
آؤ آج عہد کریں کہ ہم تماشائی نہیں ہوں گے۔
ہم باطل کے شور سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
ہم اپنے ایمان کا سودا نہیں کریں گے۔
ہم اپنی نسلوں کو بے سمت نہیں چھوڑیں گے۔
ہم علم و حکمت کے ساتھ حق کی گواہی دیں گے۔
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے اس تاریخی جواب کو اپنے عہد کا شعار بنائیں گے:
نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ
ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں!
یہی ایمان کا تقاضا ہے،
یہی وقت کی پکار ہے،
اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔
_____________________________اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ، اخلاص کے ساتھ عمل، حق پر استقامت اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com