`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا

یہ آیت پڑھتے ہوئے دل پر ایک سوال دستک دیتا ہے:

قیامت کے دن اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کے حضور ہماری شکایت کردی تو ہمارا کیا ہوگا؟

يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي…

اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔

ہم وہ لوگ ہیں جن کے گھروں میں قرآن موجود ہے، مگر کتنے دل ہیں جن میں قرآن زندہ ہے؟
ہم قرآن کو غلاف میں رکھتے ہیں، اونچی جگہ رکھتے ہیں، احترام سے چومتے ہیں؛ لیکن کیا ہم نے اسے اپنے فیصلوں میں بھی جگہ دی ہے؟

قرآن ہمیں نماز کی طرف بلاتا ہے، ہم غفلت کرتے ہیں۔وہ نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے، ہم بہانے بناتے ہیں۔وہ سچائی، عدل، پاکیزگی اور تقویٰ سکھاتا ہے، مگر ہم اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

پھر سوال یہ نہیں کہ قرآن ہمارے پاس ہے یا نہیں؟
سوال یہ ہے کہ:
کیا ہم قرآن کے پاس ہیں؟

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دنیا کی کتابیں پڑھ کر اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جس کتاب کو رب العالمین نے ہماری ہدایت کے لیے نازل کیا، اسے پڑھ کر بھی وہی رہتے ہیں جو پہلے تھے۔
شاید یہی ہجرانِ قرآن کا سب سے دردناک پہلو ہے۔
قرآن ہمارے گھروں میں ہے، مگر ہمارے اخلاق میں نہیں۔
ہماری زبان پر ہے، مگر ہمارے معاملات میں نہیں۔
ہماری تلاوت میں ہے، مگر ہماری زندگی میں نہیں۔

ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے…
اگر آج قرآن ہم سے پوچھے:
میں تمہیں بدلنے آیا تھا، تم نے مجھے کتنا اپنے اندر اتارا؟ تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
اب بھی وقت ہے۔
قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہ بنائیں؛ اسے اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔
روز چند آیات پڑھیں، ان کا مطلب سمجھیں، اور پھر خود سے پوچھیں:
آج قرآن نے مجھے کیا سکھایا، اور میں نے اپنی زندگی میں کیا بدلا؟
شاید ایک آیت ہماری پوری زندگی بدل دے۔
اور شاید اسی ایک تبدیلی کی وجہ سے قیامت کے دن ہمارے نبی ﷺ کی زبان سے شکایت کے بجائے ہمارے حق میں قرآن کی گواہی ہو۔

اے اللہ! ہمیں قرآن پڑھنے والا ہی نہیں، قرآن پر چلنے والا بنا۔ ہمیں قرآن سے وابستہ کر دے، اور ہمیں اُس دن کی شرمندگی سے بچا لے جب تیرے محبوب ﷺ اپنی امت کی شکایت کریں گے۔

آمین یا رب العالمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H