"علماء بھوکے، امت خاموش: آخر کب تک؟"
از: قاری محبوب الحسن مظفرنگری
قوموں کی فلاح، معاشروں کی تعمیر، انسانیت کی راہنمائی اور اخلاقی قدروں کی پاسداری کے لیے جو کردار علمائے دین ادا کرتے ہیں، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جب تک علماء کو عزت، مقام اور استحکام دیا جاتا رہا، دین محفوظ رہا، قوم بیدار رہی اور تہذیبیں پروان چڑھتی رہیں۔ لیکن جیسے جیسے علمائے کرام کی معاشی حیثیت کو نظرانداز کیا گیا، ویسے ویسے دین کا وقار بھی پامال ہونے لگا۔
ایک مقام پر ملت کے کسی مفکر نے نہایت دردمندانہ انداز میں کہا تھا "میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر آج کے لوگوں نے علماء کی تنخواہ نہیں بڑھائی اور علم کی قدریں نہ کیں تو یاد رکھنا آنے والے وقت میں یہ علماء بہت زیادہ پھسل جائیں گے، یعنی یہ لوگ دینی تعلیم چھوڑ کر دنیا کمانے لگیں گے۔"
یہ کوئی جذباتی نعرہ یا وقتی فقرہ نہیں تھا، بلکہ مستقبل کی ایک سچی اور دردناک پیشین گوئی تھی۔
قوم کے معمار علمائے کرام ہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اندھیروں میں شمعِ ہدایت جلائی، فرقوں اور فتنوں میں امت کو جوڑ کر رکھا، قرآن و حدیث کے چراغ روشن کیے، مدارس کی چٹائیوں پر علم و عمل کی دولت تقسیم کی، اور معمولی تنخواہوں کے باوجود بچوں کے سینوں کو نور سے معمور کیا۔ لیکن افسوس! آج انہی علمائے دین کی محنت، قربانی اور خدمات کی قدر نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر آج ایک انجینئر، ڈاکٹر یا سرکاری ملازم کو 80000 سے 150000 روپے تنخواہ دی جاتی ہے، تو وہی عالمِ دین، جو پوری زندگی قرآن، فقہ، حدیث اور قوم کی اصلاح میں لگا دیتا ہے، اسے 8000 یا 10000 روپے کی تنخواہ دے کر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس پر بڑا "احسان" کیا ہے؟
یہ رویہ نہ صرف ناعاقبت اندیشی ہے بلکہ قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بھی ہے۔
اگر علما کی تنخواہ نہ بڑھی یا اگر دینی طبقے کو اسی طرح معاشی لحاظ سے نظر انداز کیا گیا تو ذہین و فطین نوجوان دنیاوی شعبوں میں چلے جائیں گے،
مدارس میں کمزور طلبہ رہ جائیں گے،
دین کمزور ہاتھوں میں آ جائے گا،
فتنے بڑھیں گے، اور امت کا روحانی و اخلاقی زوال مزید گہرا ہوگا۔
یہی وہ "خطرہ" ہے جس کی طرف اہلِ بصیرت و خیرخواہوں نے بارہا توجہ دلائی ہے۔
علمائے دین کو صرف چندہ دے دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی عزت کی جائے، ان کی تنخواہیں معقول ہوں، ان کے بچوں کی تعلیم و صحت کا انتظام کیا جائے، ان کی رہائش، کفالت اور عزت نفس کو محفوظ رکھا جائے۔
یاد رکھئے! جس قوم نے اپنے علماء کو فقیر بنا دیا، وہ خود بھی رسوا ہوئی۔ اور جس نے علماء کو عزت دی، اللہ نے اس قوم کو عزت سے نوازا۔
ہمیں غور کرنا ہوگا کہ دینی ادارے، علمائے کرام اور مذہبی معلمین صرف ہمارے دینی ورثے کے محافظ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح اور نسلوں کی تربیت کے علمبردار بھی ہیں۔ اگر ہم نے آج ان کا سہارا نہ دیا، تو کل ہمارا دین، ہماری تہذیب، ہماری نسلیں اور ہماری خودی سب کچھ بکھر جائے گی۔
ہم سب مل کر وہ وقت لائیں جب علمائے کرام کی تنخواہیں بھی باوقار ہوں، ان کا مقام بھی بلند ہو، اور ان کی خدمات کا صلہ بھی دنیا و آخرت میں ان کے
حق میں بہتر ہو۔
مدرسہ کے اساتذہ، ائمہ مساجد، قراء کرام، مفتیانِ عظام جنہوں نے اپنی پوری جوانی دین کو سونپ دی، آج وہ چند ہزار کی تنخواہ پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے افراد کی بیویاں روٹی کے لیے ترستی ہیں، بچے اسکول کی فیس نہ دے سکنے کے سبب تعلیم سے محروم رہتے ہیں، اور وہ خود اپنی عزتِ نفس کچلتے ہوئے دوسروں کے سامنے مدد کی دہائی دیتے ہیں۔
ان ہی تنگ حالات کے چلتے دل دہلا دینے والے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں جیسے 2023 میں بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے امام مسجد نے خودکشی کر لی۔ ان کے گھر کی حالت نہایت خستہ تھی، بچوں کے لیے دودھ نہیں تھا، بیوی بیمار تھی اور دو مہینے کی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ جب ان کی جیب سے آخری خط ملا تو اس پر لکھا تھا "اللہ گواہ ہے، میں دین کا خادم ہوں، مگر میرے بچے بھوکے ہیں... میں مجبور ہوں۔"
یہ صرف ایک انسان کی موت نہیں تھی، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا نوحہ تھا۔
دوسرا واقعہ اتر پردیش کے ایک مدرسہ میں پڑھانے والے حافظ قرآن کی خودسوزی کا ہے۔ حافظ صاحب نے مہینوں تنخواہ نہ ملنے کے سبب مایوس ہوکر اپنے آپ کو آگ لگالی۔ ان کی آخری بات یہ تھی "میں نے قرآن سنایا، مگر میرے گھر میں خاموشی ہے۔ میں نے دوسروں کے بچوں کو جنتی راہیں دکھائیں، مگر میرے اپنے بچے بھوک سے نڈھال ہیں۔"
ایسا لگتا ہے کہ ہم ان چراغوں کو بجھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جو صدیوں سے روشنی بانٹ رہے تھے۔
مدارس کی انتظامیہ اور کمیٹیوں کا حال بھی محتاجِ اصلاح ہے۔ کئی جگہ مہتممین خود اچھی خاصی موٹی تنخواہ لیتے ہیں، مگر مدرسین کو مہینے کے اختتام پر تنخواہ دینے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ چندہ دینے والوں کے سامنے ان کی تعریفیں کرتے ہیں، اور اندرونی طور پر ان کا استحصال کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟
مدرسین و ائمہ کرام کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ طے ہو، جیسے سرکاری اسکول کے اساتذہ کی تنخواہ مقرر ہے، ویسے ہی دینی مدارس و مساجد میں بھی ایک معیار مقرر کیا جائے۔
ائمہ، مدرسین، مؤذنین کی فلاحی تنظیمیں قائم ہوں تاکہ ان کی بیماری، بچوں کی تعلیم، یا مالی بحران کے وقت انہیں سہارا دیا جا سکے۔
عوامی بیداری مہم کے ذریعے امت کو یہ شعور دلایا جائے کہ قرآن پڑھانے والا بھوکا ہو اور ہم گھروں میں راحت کے مزے لیں، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔
اگر ہم نے آج مدرسینِ کرام و ائمہ کرام کی مظلومیت کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمیں اپنے بچوں کے لیے حافظ، قاری اور عالم نہیں ملیں گے۔
قومیں اسی وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب وہ اپنے علماء کی قدر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
لہٰذا، آیئے!
اپنے مدارس کے اساتذہ، مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو عزت، بہتر تنخواہ، اور معاشی استحکام دیں۔
کیونکہ وہی ہمارے دین کے چراغ ہیں
اور اگر یہ چراغ بجھنے لگیں، تو اندھیرا طے ہے۔