*ششماہی امتحان میں طلبۂ عزیز کی محنت*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
الحمد للّٰہ ان دنوں اکثر دینی مدارس میں ششماہی امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ششماہی امتحان گزشتہ چھ ماہ کی علمی محنت کا جائزہ ہوتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالب علم نے اس عرصے میں کیا پڑھا کتنا سمجھا اور کس حد تک اسے محفوظ کیا۔
امتحان کے اعلان کے ساتھ ہی مدارس کا ماحول بدل جاتا ہے ہر طالب علم پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ تیاری میں مصروف نظر آتا ہے۔ کوئی رات گئے تک مطالعہ کرتا ہے کوئی صبح سویرے سبق دہراتا ہے کوئی شروحات سے یاد کرتا ہے کوئی نوٹس نکالتا ہے اور کوئی پوری کتاب کا اعادہ کرتا ہے۔ گویا ہر سمت علم کی خوشبو اور محنت کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔
ہر طالب علم کے دل میں یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کرے اپنے اساتذہ کی دعائیں لے مدرسے کا نام روشن کرے اور جو طالب علم اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کرتا ہے مدرسہ اسے قیمتی انعامات سے نوازتا ہے اسی جذبے کے تحت وہ نمازوں کے بعد بالخصوص تہجد کے وقت اللہ ربّ العزت سے کامیابی کی دعائیں بھی مانگتا ہے۔ یہ اس لئے کہ محنت کے ساتھ دعا بھی کامیابی کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔
کاش یہی شوق یہی پابندی اور یہی لگن پورے سال برقرار رہے تو یقیناً تعلیم کا حق بھی ادا ہوگا اور مدارس سے ایسے جید باعمل اور باکردار علماء تیار ہوں گے جو امت کے لیے بہترین سرمایہ ثابت ہوں گے ان شاء اللہ۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام طلبۂ عزیز کو اعلیٰ نمبرات کے ساتھ کامیابی و کامرانی عطا فرمائے ان کے علم میں برکت دے اور انہیں دین کا مخلص خادم بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔