اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے
ازقلم: محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
"اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے" یہ محض ایک طنزیہ جملہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اردو کو خطرہ ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے خود اپنی زبان کو تنہا نہیں چھوڑ دیا؟
آج بازاروں کا رخ کیجیے۔ ایک زمانہ تھا جب ہر شہر میں اردو اخبارات کی آوازیں گونجتی تھیں، اخباری اسٹالوں پر اردو روزنامے اور ہفت روزے نمایاں ہوتے تھے، گھروں میں صبح کی چائے کے ساتھ اردو اخبار پڑھا جاتا تھا۔ آج منظر یکسر بدل چکا ہے۔ عام آدمی ہندی یا انگریزی اخبار خریدتا ہے، مگر اردو اخبار شاذ و نادر ہی کسی دکان، دفتر یا گھر میں دکھائی دیتا ہے۔ کئی عظیم اردو اخبارات اشاعت بند کر چکے ہیں، کئی اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں، اور جو باقی ہیں وہ بھی شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔
اگر آج اردو کی سانسیں ابھی تک قائم ہیں تو اس کا سب سے بڑا سہرا دینی مدارس کے سر ہے۔ یہی مدارس ہیں جہاں لاکھوں طلبہ روزانہ اردو پڑھتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں۔ یہی ادارے اردو اخبارات، رسائل اور دینی لٹریچر کے سب سے بڑے قاری بھی ہیں۔ اگر مدارس کا یہ مضبوط نظام نہ ہوتا تو شاید اردو کی صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ ابتر ہوتی۔ یہ حقیقت کسی جذباتی دعوے کی نہیں، بلکہ زمینی مشاہدے کی آئینہ دار ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم معاشرہ، جو کبھی اردو کا سب سے بڑا محافظ سمجھا جاتا تھا، خود اس سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ مسلم محلوں میں کاروباری بورڈ دیکھیے؛ اردو تقریباً غائب ہے۔ دکانوں کے سائن بورڈ انگریزی یا ہندی میں ہیں۔ شادی کے دعوت ناموں میں اردو رسم الخط کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ گھروں میں بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے اردو الفاظ کی جگہ انگریزی الفاظ نے لے لی ہے۔ "والد" اور "والدہ" کی جگہ "ممی" اور "ڈیڈی"، "خط" کی جگہ "میسج"، "ملاقات" کی جگہ "میٹنگ" اور "مدرسہ" کی جگہ "اسکول" جیسے الفاظ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ تہذیب کی شناخت بھی ہوتی ہے۔ جب الفاظ بدلتے ہیں تو تہذیب بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم اردو سے محبت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اسے جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ کتنے مسلمان ہیں جو اپنے بچوں کو اردو اخبار پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں؟ کتنے لوگ اردو کتابیں خریدتے ہیں؟ کتنے تاجر اپنی دکان کے بورڈ پر اردو لکھوانے کو ضروری سمجھتے ہیں؟ کتنے خاندان اپنے شادی کارڈ اردو رسم الخط میں شائع کراتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کے جواب دیانت داری سے دیے جائیں تو ہماری غفلت خود ہمارے سامنے آ جائے گی۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دوسری زبانیں سیکھنا غلط ہے۔ ہندی، انگریزی اور دیگر زبانیں علم، روزگار اور رابطے کے لیے بے حد ضروری ہیں، بلکہ ان کا سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مگر ترقی کا مطلب اپنی تہذیبی زبان کو ترک کرنا نہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے دوسری زبانیں بھی سیکھیں، لیکن اپنی زبان کو کبھی نہیں چھوڑا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اردو کو صرف جلسوں اور سیمیناروں کا موضوع نہ بنائیں، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں جگہ دیں۔ اپنے کاروباری بورڈ اردو میں بھی لکھوائیں، شادی کے دعوت ناموں میں اردو شامل کریں، بچوں کو اردو لکھنا اور پڑھنا سکھائیں، گھروں میں اردو کتابیں اور اخبارات لائیں، اور جدید ٹیکنالوجی پر معیاری اردو مواد تیار کریں۔
اردو کا جنازہ ابھی نہیں نکلا، مگر اگر ہماری بے حسی برقرار رہی تو آنے والی نسلیں شاید صرف کتابوں میں پڑھیں گی کہ اس سرزمین پر کبھی ایک نہایت شیریں، مہذب اور علمی زبان بھی بولی جاتی تھی جس کا نام اردو تھا۔
آئیے! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہم سب یہ عہد کریں کہ اردو کو محض جذبات کا نہیں، بلکہ عمل کا موضوع بنائیں گے۔ کیونکہ زبانیں تقریروں سے نہیں، اپنے بولنے والوں کے کردار سے زندہ رہتی ہیں۔