نرالی شان کا مالک

سیرتِ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

ماہِ ربیع الأول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں عالمِ انسانیت کو وہ عظیم ہستی عطا ہوئی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ایمان، ہدایت، اخلاق اور بندگی کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ صرف ایک قوم یا ایک خطے کے رہنما نہیں، بلکہ رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجے گئے۔

آپ ﷺ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی آپ کی آمد کی بشارتیں، آپ کی نشانیاں اور آپ کی غیر معمولی شان کے آثار مختلف واقعات میں ظاہر ہونے لگے تھے۔

یتیمی میں بھی عظمت کی جھلک

رسول اللہ ﷺ ابھی کم سن ہی تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا۔ آپ ﷺ کی کفالت آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے اپنے ذمہ لی۔

حضرت عبدالمطلب کو آپ ﷺ سے غیر معمولی محبت تھی۔ کعبہ کے پاس ان کے لیے ایک مخصوص فرش بچھایا جاتا تھا جس پر قریش کے بڑے بڑے سردار بھی ان کے احترام میں نہیں بیٹھتے تھے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو اس فرش پر بیٹھ جاتے۔

بعض لوگ ادب کی وجہ سے آپ ﷺ کو وہاں سے ہٹانا چاہتے، مگر حضرت عبدالمطلب محبت سے فرماتے کہ اس بچے کو چھوڑ دو، اس کی شان بہت بلند ہونے والی ہے۔

یہ محض ایک دادا کی اپنے پوتے سے محبت تھی یا مستقبل کے کسی عظیم واقعے کی ایک جھلک؟ حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن تاریخِ سیرت میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی شخصیت بچپن ہی سے غیر معمولی توجہ کا مرکز رہی۔

قیافہ شناسوں کی حیرت

سیرت کی بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ بنو مدلج کے کچھ افراد حضرت عبدالمطلب کے پاس آئے۔ وہ قیافہ شناسی میں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے کم سن محمد ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کی بعض جسمانی علامات کو دیکھ کر آپ کی غیر معمولی شان کی طرف اشارہ کیا۔

ایسے واقعات کو سیرت کی کتابوں میں آپ ﷺ کی عظمت اور غیر معمولی شخصیت کے ابتدائی آثار کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اہلِ کتاب کی کتابوں میں بشارت

اللہ تعالیٰ نے سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کی بشارتیں بیان فرمائی تھیں۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

«الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْاِنْجِيْلِ»

یعنی وہ لوگ جو اس رسول، نبیِ اُمّی کی پیروی کرتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

(الأعراف: 157)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کو بھی آخری رسول کی تشریف آوری کی خبر دی تھی۔

عبدالمطلب کی محبت

حضرت عبدالمطلب کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ کو اپنے قریب رکھتے، اپنے ساتھ کھانا کھلاتے اور آپ کی موجودگی سے بے حد خوش ہوتے۔

جب حضرت عبدالمطلب کا آخری وقت آیا تو بھی آپ ﷺ ان کے قریب موجود تھے۔ دادا کا سایہ اٹھ گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کا انتظام پہلے ہی فرما رکھا تھا۔

حضرت عبدالمطلب نے اپنے صاحبزادے حضرت ابو طالب کو آپ ﷺ کی کفالت سونپی۔

یہاں سے آپ ﷺ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

ابو طالب کی شفقت

حضرت ابو طالب مالی اعتبار سے زیادہ خوش حال نہ تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ سے ان کی محبت بے مثال تھی۔

سیرت کی بعض روایات میں آپ ﷺ کی برکت سے کھانے کے بڑھ جانے اور اہلِ خانہ کے سیر ہونے کے واقعات بھی مذکور ہیں۔ ان واقعات نے حضرت ابو طالب کی محبت میں مزید اضافہ کیا۔

آپ ﷺ جہاں تشریف رکھتے، لوگ آپ ﷺ کے وقار اور وجاہت سے متاثر ہوتے۔

قحط اور دعا

مکہ مکرمہ میں قحط پڑتا تو اہلِ مکہ بارش کے لیے دعائیں کرتے۔ سیرت کی بعض روایات میں حضرت ابو طالب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنا کر بارش کی دعا کرنے کا واقعہ بھی نقل ہوا ہے۔

صحیح بخاری میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک واقعہ منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں قحط کے موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کی گئی۔

اس سے ہمیں یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ مشکل حالات میں انسان کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی مددگار صرف وہی ہے۔

یمن کے بادشاہ کا واقعہ

سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں میں یمن کے بادشاہ سیف بن ذی یزن کے ساتھ حضرت عبدالمطلب کی ملاقات کا ایک طویل واقعہ بھی مذکور ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ بادشاہ نے اپنی بعض کتابوں اور روایات کی بنیاد پر ایک ایسے نبی کی آمد کی خبر دی جو مکہ میں پیدا ہوگا، اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوگا اور اس کے دادا اور چچا اس کی پرورش کریں گے۔

جب حضرت عبدالمطلب نے اپنے خاندان کے حالات بیان کیے تو بادشاہ نے ان علامات کو رسول اللہ ﷺ سے منطبق کیا۔

یہ روایت سیرت کی کتابوں میں مشہور ہے، تاہم اس کی تمام تفصیلات کو قطعی اور یقینی تاریخی حقیقت سمجھنے کے بجائے روایت کے درجے میں بیان کرنا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔

نرالی شان کا اصل راز

رسول اللہ ﷺ کی اصل عظمت نہ صرف آپ ﷺ کے بچپن کے واقعات میں ہے، نہ صرف آپ ﷺ کے نسب میں، نہ صرف آپ ﷺ کے ظاہری اوصاف میں۔

آپ ﷺ کی سب سے بڑی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔

آپ ﷺ نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، بت پرستی کے اندھیروں سے نکالا، اخلاق کی بلندی عطا کی، عدل و انصاف قائم کیا، کمزوروں کے حقوق بتائے، عورتوں کے حقوق واضح کیے، یتیموں کی کفالت کی تعلیم دی اور پوری انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا پیغام دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ»

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔‘‘

(الأنبیاء: 107)

یہی وہ شان ہے جو آپ ﷺ کو تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔

ربیع الأول ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟

ربیع الأول صرف خوشی کا مہینہ نہیں؛ یہ سیرت سے جڑنے کا مہینہ ہے۔

اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں میں آپ ﷺ کی سنت زندہ کرنی ہوگی۔

ہماری زبان سچی ہو،
ہمارا معاملہ پاکیزہ ہو،
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہو،
چھوٹوں پر شفقت ہو،
بڑوں کا احترام ہو،
پڑوسیوں کے حقوق ادا ہوں،
یتیموں اور کمزوروں کا خیال ہو،
اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہماری زندگی کا مقصد بنے۔

محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے محبت کا اظہار نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی اتباع ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ»

’’اے نبی! کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

(آل عمران: 31)

اختتامیہ

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ واقعی نرالی شان کے مالک ہیں۔

وہ شان جس کا آغاز نبوت سے پہلے کی بشارتوں سے ہوا، جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے کمال بخشا، جسے مکہ کی گلیوں نے دیکھا، مدینہ نے اپنایا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانوں سے محفوظ رکھا اور جس کا فیض قیامت تک پوری انسانیت تک پہنچتا رہے گا۔

آئیے! ربیع الأول میں ہم صرف سیرت سنیں نہیں، سیرت اپنائیں۔

صرف درود پڑھیں نہیں، سنت پر چلیں۔

صرف محبت کا دعویٰ نہ کریں، بلکہ اپنی زندگی کو اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، کامل اتباعِ سنت اور آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔