بریلویت کا بیڑا غرق ہو
عشقِ رسول ﷺ یا رسومِ عشق؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم مضمون (116)
محترم قارئین :-کبھی کبھی معاشرے میں کچھ ایسے مظاہر سامنے آتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ آخر دینِ اسلام، جس کی بنیاد توحید، رسالت، اتباعِ سنت، پاکیزہ اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی بندگی پر قائم ہے، اسے ہم نے رسوم و روایات، جذباتی نعروں اور عجیب و غریب مظاہر کا مجموعہ کیوں بنا دیا ہے؟رسول اللہ ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ نہیں کہ دین کے نام پر ہر وہ کام اختیار کر لیا جائے اور جسے چاہے محبت کا عنوان دے دیا جائے۔ محبت اگر سنت سے جدا ہو جائے تو وہ محض جذبات رہ جاتی ہے، اور جذبات اگر شریعت کے تابع نہ ہوں تو بسا اوقات دین کی اصل روح ہی کو دھندلا دیتے ہیں۔
اسی پس منظر میں بعض بریلوی حلقوں میں رائج بعض رسوم و مظاہر پر یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ آخر ان کا ماخذ کیا ہے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور قرونِ اولیٰ کے معمولات سے ثابت ہیں؟ یا بعد کے ادوار میں انہیں دین اور عشقِ رسول ﷺ کے عنوان سے مذہبی تقدس دے دیا گیا؟
اور جب ان چیزوں پر سوال کیا جائے تو جواب دلیل سے آنا چاہیے، جذباتی نعروں سے نہیں۔
قبر پوجاری بریلویوں نے اسلام کو رسوا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی؟
آج یہ قبر پوجاری بریلویوں نے مسلمانوں کو چھوڑو، اسلام کو رسوا کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی.یہ مت پوچھو کہ یہ کیا کرتے ہیں، بلکہ یہ پوچھو: کیا یہ نہیں کرتے؟ اگر بات صرف جاہل عوام تک ہوتی تو شاید معاملہ الگ تھا؛ لیکن یہاں تو دستار و جبہ میں ملبوس بعض مذہبی پیشوا بھی ایسے ایسے دعوے اور تاویلات پیش کرتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ قرآن کی آیات اور احادیث کو اپنی مخصوص تعبیرات کے ذریعے عید میلاد النبی ﷺ کے اثبات میں پیش کرنے کی ایسی کوشش کی جاتی ہے کہ بعض اوقات اصل نص اور بعد کی مذہبی روایت کے درمیان فرق ہی باقی نہیں رہتا۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عمل دین کا لازمی حصہ ہے تو اس کے لیے واضح اور مضبوط شرعی دلیل کہاں ہے؟
کیا رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی صورت میں کیا؟ کیا صحابۂ کرامؓ نے اسے اسی عنوان سے منایا؟ کیا تابعین اور تبع تابعین نے اسے دین کا مستقل شعار بنایا؟ اگر نہیں، تو پھر بعد کی صدیوں میں پیدا ہونے والی رسوم کو دین کے بنیادی شعائر کا درجہ کیوں دیا جائے؟
ہمیں شرابی نہ کہنا، ہم عاشقِ رسول ہیں!
اس ساری صورتِ حال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات گلی محلے کے شرابیوں اور لوفر نوجوانوں کو بھی میلاد شریف کے نام پر ناچ ناچ کر یہ وارننگ دینے کا موقع مل جاتا ہے:’’ہمیں نہ چھیڑنا، ہمیں شرابی نہ کہنا؛ ہم عاشقِ رسول ہیں!‘‘
واہ رے عشق! شراب بھی موجود، بدعملی بھی موجود، اخلاق بھی غائب، نماز سے بے اعتنائی بھی موجود، مگر میلاد کے جلوس میں شرکت ہوئی تو اچانک _عاشقِ رسول‘‘ کا تمغہ بھی حاصل ہوگیا یہ عشقِ رسول ﷺ کا کون سا معیار ہے؟
کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے عاشقوں کو صرف نعرے سکھائے تھے یا نماز، تقویٰ، پاکیزگی، حسنِ اخلاق، صدق، امانت اور سنت کی پیروی بھی سکھائی تھی؟ قرآن نے محبت کا معیار واضح کر دیا:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
’’کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔(آل عمران: 31)
یعنی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کا ثبوت اتباع ہے۔
- محرم کی رسوم اور اسلام کا نام
ایسے ہی پھر جب محرم آتا ہے تو اسلام کے نام پر ایسے ایسے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ اسلام کا علم اٹھاتے ہیں، انگاروں پر کودتے ہیں، مختلف رسوم ادا کرتے ہیں، اب تو حضرت زینبؓ اور حضرت سکینہؓ کے نام پر مجسمے بنانے لگے ہیں اور پھر ان کی زیارت بھی کرتے کراتے ہیں۔- محرم کی رسوم اور اسلام کا نام
- محرم کی رسوم اور اسلام کا نام
سوال پھر وہی ہے:
یہ سب کہاں سے آیا؟
کیا قصور ان بریلوی علماء کا نہیں جو الٹی سیدھی تاویلات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور شاید دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں ایسی خرافات کی طرف رہنمائی کر دیتے ہیں جن کے کرنے سے آدمی مسلمان ہی نہیں رہتا جب تک کہ تائب نہ ہو؟ کیونکہ بات اب صرف رسوم تک نہیں رہی، بلکہ مجسمے اور ان کی مذہبی زیارت تک پہنچ چکی ہے۔
کیا یہ اظہارِ محبت کے جذبات ہیں؟
کیا اہلِ بیتِ نے کبھی اپنی محبت کے اظہار کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اسے اسلام کے نام پر کیوں پیش کیا جاتا ہے؟
اسلام میں جذبات جائز ضرور ہیں، مگر بے لگام جذبات اسلام میں نہیں۔
اسلام محبت بھی سکھاتا ہے اور شریعت بھی؛ عقیدت بھی سکھاتا ہے اور حدود بھی؛ اہلِ بیت سے محبت بھی سکھاتا ہے اور غلو سے بچنے کی تعلیم بھی۔
چاندنی، جھنڈے اور. گھروں میں برکت ''
پھر میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلوس کے ساتھ چاندنی اٹھا کر گلی گلی گھومنا، اس کی زیارت کرانا، اس کے آگے پیچھے ایک جمِ غفیر کا چلنا، اور کچھ تو ڈانس تک کرنے لگتے ہیں، بدن کو مارتے ہیں، اور کسی خوبصورت لیڈیز یا کہیں لیڈی کا مجسمہ بنا کر چاندنی کے سامنے بٹھا کر حور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی آمد پر حوریں خوشیاں مناتی تھیں؛ اسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گلیوں میں گھمایا جاتا ہے۔جھنڈوں اور مخصوص مظاہر کو برکت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کے گھروں میں برکت پہنچنے کے تصورات پیدا کیے جاتے ہیں۔
یہ سب سوال طلب امور ہیں۔
ہم پوچھنا چاہتے ہیں: کیا یہ کھلی گمراہی اور شریعت میں اضافہ نہیں؟
مگر افسوس! کچھ مخصوص لوگ جبہ و دستار پہن کر عید میلاد النبی ﷺ کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت تاویلات کرتے ہیں، اور یہیں سے آج یہ خرافات بھی جنم لیتی ہیں۔
’’ہمارے جبہ و دستار والے ابلیسی چچا نے ہمیں خوب سمجھا کر بھیجا ہے!‘‘
اور پھر ذرا ان نوجوانوں کا اعتماد دیکھیے!
وہ گویا کہہ رہے ہوں:’’ہمیں یوں ہی بے سہارا جاہل نہ سمجھنا، ہمارے جبہ و دستار والے ابلیسی چچا نے ہمیں خوب سمجھا کر بھیجا ہے۔ ہمارے کرشمے دیکھنے ہوں تو جھنڈے کے پاس آ جانا؛ ہم تمہیں طواف (چکر) لگاتے ہوئے کبھی بھی مل جائیں گے!‘‘
یاد رکھیے: یہ طنز صرف نوجوانوں پر نہیں، ان مذہبی رہنماؤں پر بھی ہے جو اپنے پیروکاروں کو دین کی بنیادی تعلیمات، قرآن و سنت اور توحید و اتباع کی طرف متوجہ کرنے کے بجائے ایسی رسوم کے دفاع میں اپنی علمی صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔
اگر واقعی کوئی عالم ہے تو اسے عوام کو جذبات نہیں، دلیل دینی چاہیے۔ اگر کوئی رسم دین ہے تو اس کا شرعی ماخذ پیش کیا جائے۔ اگر کوئی عمل سنت ہے تو اس کی سنت ثابت کی جائے۔
اور اگر کسی آیت سے کوئی حکم اخذ کیا جاتا ہے تو اس آیت کا سیاق و سباق، تفسیر اور سلف کا فہم بھی سامنے رکھا جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یا رسومِ عشق؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہمیں عشقِ رسول ﷺ چاہیے یا رسومِ عشق؟
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ نبی ﷺ کا ذکر آئے تو دل جھک جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت زندگی میں آئے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ نماز قائم ہو۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ جھوٹ چھوڑا جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ شراب چھوڑی جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ ظلم چھوڑا جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ حرام کمائی چھوڑی جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔
عشقِ رسول ﷺ یہ ہے کہ مسلمان اپنے اخلاق سے نبی ﷺ کی تعلیمات کی گواہی بن جائے۔
محض جھنڈا اٹھا لینا، جلوس میں شامل ہو جانا، نعرے لگانا اور پھر زندگی بھر سنت سے دور رہنا—یہ عشق کا وہ معیار نہیں جو قرآن نے بتایا ہے۔
لہٰذا، اسی طرح سے ہوتا ہے بریلویت کا بیڑا غرق اور اسلام کا دنیا کے سامنے تمسخر، اور ایک سچا مسلمان رسوا _کیوں کہ جب دین کی جگہ رسوم لے لیں، سنت کی جگہ جذبات لے لیں، دلیل کی جگہ تاویلیں لے لیں، اور عمل کی جگہ نعرے لے لیں تو نقصان صرف ایک گروہ کا نہیں ہوتا؛ اسلام کی تصویر مسخ ہوتی ہے۔
دنیا جب ایک شرابی کو ’’عاشقِ رسول‘‘ کا نعرہ لگاتے، جھنڈوں کے گرد چکر لگاتے، مجسموں کی زیارت کرتے اور مختلف رسوم کو اسلام کے نام پر ادا کرتے دیکھتی ہے تو اسے اسلام کی حقیقی تعلیمات کا علم نہ ہو تو وہ انہی مظاہر کو اسلام سمجھ بیٹھتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سچا مسلمان درد محسوس کرتا ہے۔
ہمیں رسول اللہ ﷺ سے محبت چاہیے، مگر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق۔
ہمیں اہلِ بیت سے محبت چاہیے، مگر غلو کے بغیر۔ ہمیں صحابہؓ سے محبت چاہیے، مگر ان کے طریقے کو نظر انداز کرکے نہیں۔
ہمیں قرآن چاہیے، مگر اپنی خواہش کے مطابق تاویلوں کے ذریعے نہیں۔ اور ہمیں دین چاہیے، مگر رسوم کے ہجوم میں اس کی اصل روح کو دفن کرکے نہیں۔
لہٰذا آئیے جذباتی نعروں کے بجائے قرآن و سنت کو معیار بنائیں، ہر رسم کو دلیل کے ترازو میں تولیں، اور یہ فیصلہ کریں کہ ہماری وفاداری شخصیات، جھنڈوں، جلوسوں اور رسوم کے ساتھ ہے یا رسول اللہ ﷺ کی سنت کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھ کر پوری طرح سے شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com