دورِ حاضر میں مطالعہ سیرت کی ضرورت
از: مفتی محمد سلمان قاسمی کریم نگری
سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا بحرِ بیکراں ہے کہ جس میں ہر غوطہ لگانے والا تشنہ ہی نکلتا ہے کیونکہ سیرت محض ایک ہستی کی سوانح حیات نہیں ہے بلکہ ایک عالمی تہذیب و تمدن، کامیاب و خوشگوار طرزِزیست، عالمگیر انسانی معاشرے اور زندگی کے ہر گوشے میں تبدیلی اور انقلاب کی ایک نوید ہے نیز احکام خداوندی کے آغاز و ارتقاء کی انتہائی اہم اور بے نظیر داستان ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ایک نئے دور کا آغاز تھی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و شرک کی تاریکیوں کو کافور ہونا تھا اور ایمان و یقین عدل و انصاف کا چراغ اس جہاں میں روشن ہونا تھا،یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ہر فرد بشر کے لیے نمونہ اور آپ کی ذات کو سرچشمۂ ہدایت بنایا ہے اسی لیے قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا "لقد كان لكم فى رسول الله أسوة حسنة" حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، اس آیت سے رسول اکرم کے اقوال و افعال سب کی اقتدا کا حکم ثابت ہوا،لہذا اہل ایمان کو چاہیے کہ آپ کے نقشِ قدم پر چلے اور ہر معاملے میں حضور پرنور کی ذات بابرکت کی پیروی کرے (معارف القرآن 240/6)
یہ بات ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہی وہ واحد تاریخی شخصیت ہے جس کی زندگی کے ایک ایک پہلو کو محفوظ کیا گیا ہے،جس کی سیرت طیبہ میں مسائل زیست کا حل رکھا گیا ہے کیونکہ اگر آپ دنیا میں رائج دیگر مذاہب پر نظر ڈالیں گے تو ان میں کسی مذہب کے بانی و مؤسس کی شخصیت کاوجود اور ان کی زندگی کے ہر ہر پہلو کا ذکر تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ نہیں ہے،خود ان کے ماننے والوں کو بھی یقین نہیں ہے کہ واقعی اس نام کی کوئی شخصیت موجود تھی بھی یا نہیں؟ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متعلق کوئی یہ بات نہیں کہہ سکتا(محاضرات سیرت: 39) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کا ہر ہر گوشہ آفتاب کی طرح روشن ہے جس کے بارے میں قرآن نے اسوۂ حسنہ کہا ہے،اسی اسوۂ حسنہ سے واقفیت کے لیے اور اپ کی شخصیت کے فہم کے لیے نیز عالمگیر انسانی مساوات، تہذیب و تمدن ،اخلاق و کردار اور عدل و انصاف کے نظام کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ایک مسلمان کے لیے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے
لیکن زمانۂ رواں میں جہاں یہ دنیائے فانی اپنی مصنوعات اور اپنی ایجادات میں جتنی برق رفتاری سے رواں دواں ہیں وہیں امت مسلمہ دین و شریعت اسلامی تعلیمات اور خصوصا محسن انسانیت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور ان کی طرز سے دور ہوتی جا رہی ہے نیز سیرت النبی سے ناواقفیت کی وجہ سے ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی غیروں کی تہذیب سے آراستہ و پیراستہ ہو رہی ہے،یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری مسلم عوام اور نوجوان جرنل نالج اور دنیاوی معلومات میں جتنا ترقی پذیر ہیں اسلامی معلومات اور سیرت نبوی کے سلسلے میں اتنا ہی تنزلی اور جہالت کے شکار ہیں،اگر اپ کسی سے جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں یا کسی اسمارٹ فون کے استعمال سے متعلق یا کسی اور دنیاوی معلومات سے متعلق کوئی بھی سوال کریں گے تو وہ آپ کو تشفی بخش جواب دے کر مطمئن کر دے گا لیکن افسوس کہ اگر اپ اس کو اسلام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت سے متعلق کچھ سوال کریں گے تو وہ خاموشی میں اپنی جہالت کا اعتراف کرے گا، کیونکہ وہ اس بات سے نا آشنا ہے کہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے زندگی گزاری، آقا کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا کیسا تھا، آپ کے اخلاق و کردار آپکی معاشرتی، معاملاتی تجارتی، زندگی کیسی تھی۔
بہرحال یہ سیرت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے گھریلو مسائل، خاندانی جھگڑے، رشتہ داروں سے تعلقات کا نظام، سسرالی مسائل الغرض زندگی کا ہر گوشہ زبو حالی اور انتشار کا شکار ہے اور تباہی کی طرف رواں دواں ہیں،چنانچہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں سیرت کا مطالعہ ہمارے لیے ایک امید کی کرن، راحت کی لہر اور سکون و اطمینان کی ایک نوید ثابت ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے قیمتی ہدایات اور رہنمائی موجود ہے آپ کی سیرت ایک انسان کامل کے لیے ہر اعتبار سے اعلی درجے کی نادر مثال ہے، علامہ ابن قیم جوزی رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ"سیرت نبویہ کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے کیونکہ سعادت دارین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہیں (محاضرات سیرت: 27)
سیرت کا مطالعہ ہم سب کی نہ صرف یہ کہ روحانی ضرورت ہے بلکہ ایمان و یقین کا جذبہ بیدار کرنے اور دلوں کو راحت و سکون اور اطمینان ملنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسی کے ذریعے سے ہم سب کی زندگیوں میں تبدیلیاں آسکتی ہیں کیونکہ انسانیت کی تکمیل انبیاء کی سیرت سے ہوسکتی ہے اور عالمگیر اور دائمی نمونۂ عمل صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے،لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سال ربیع الاول کی آمد پر ہم سب اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کتنا مطالعہ کیا ہے؟ہمیں اپنے آقا کی سیرت سے متعلق کیا معلومات حاصل ہیں کیا ہم نے آج تک سیرت کی کوئی سو یا دیڑھ سو صفحات کی کتاب کا مطالعہ کیا ہے؟اگر نہیں کیا ہے تو ابھی سے یہ عزم کریں کہ ہم سیرت کا مطالعہ ضرور کریں گے،اور پھر موجودہ دور میں سیرت سے متعلق ہر زبان میں چاہے وہ اردو ہو یا رومن انگلش ہو یا تیلگو ہو کتابیں دستیاب ہیں لیکن کمی ہے تو پڑھنے والوں کی کمی ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کا مطالعہ کرکےاس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین