Translation unavailable. Showing original.
جب مسلمان دعوت اسلام تھے...اور آج!
22 اگست، 2026
از قلم۔ `مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کبھی مسلمان صرف ایک قوم نہیں تھے بلکہ ایک پیغام تھے؛ ایسا پیغام جسے سننے سے پہلے لوگ دیکھتے تھے، اور دیکھنے کے بعد دلوں سے قبول کر لیتے تھے۔ ان کے کردار میں صداقت بولتی تھی، ان کے اخلاق میں رحمت جھلکتی تھی، ان کے معاملات میں انصاف مسکراتا تھا، اور ان کی زندگیوں میں سنتِ نبوی ﷺ کا نور نمایاں ہوتا تھا۔ وہ جہاں جاتے، اسلام کی خوشبو پھیل جاتی؛ جہاں ٹھہرتے، وہاں ایمان کے چراغ روشن ہو جاتے۔ ان کی تلواروں سے زیادہ ان کے کردار نے فتوحات حاصل کیں، اور ان کی زبانوں سے زیادہ ان کے اعمال نے دلوں کو مسخر کیا۔
مگر آج منظر بدل چکا ہے۔
آج دل خون کے آنسو روتا ہے جب یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ کوئی مسلم نوجوان دین سے دور ہو گیا، کوئی مسلم لڑکی عشق و محبت کے فریب میں آ کر اپنے ایمان کا سودا کر بیٹھی، کوئی قرآن سے بے تعلق ہو کر گمراہی کی تاریکیوں میں کھو گیا۔ جو قوم کبھی دوسروں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کرتی تھی، آج اسی قوم کے بعض افراد کے دلوں سے ایمان کی روشنی بجھتی جا رہی ہے۔
یہ محض چند افراد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری امت کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟
اس کے پیچھے صرف بیرونی سازشیں ہی نہیں، بلکہ ہماری اپنی کوتاہیاں بھی ہیں۔ ہم نے قرآن کو تلاوت کی حد تک محدود کر دیا، اس کے پیغام کو زندگی سے نکال دیا۔ ہم نے سنتِ نبوی ﷺ کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ لیا۔ دین کو مسجدوں تک محدود کر دیا اور دنیا کو دلوں کا معبود بنا لیا۔ گھروں سے دینی ماحول رخصت ہو گیا، والدین نے اولاد کی دنیا سنوارنے کی فکر تو کی مگر ان کے ایمان کی حفاظت کو ثانوی حیثیت دے دی۔
آج ہماری نئی نسل سوشل میڈیا کے طوفان میں بہہ رہی ہے۔ محبت کے نام پر جذبات کا استحصال ہو رہا ہے۔ آزادی کے نام پر بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایمان کی قیمت پر وقتی تعلقات خریدے جا رہے ہیں۔ افسوس! بہت سے نوجوانوں کو یہ احساس ہی نہیں کہ دنیا کی چند روزہ محبت کے لیے ہمیشہ کی نجات کو داؤ پر لگانا کتنی بڑی محرومی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب دل قرآن سے خالی ہو جاتے ہیں تو باطل نظریات ان میں گھر بنا لیتے ہیں۔ جب سنتِ رسول ﷺ سے رشتہ کمزور ہو جاتا ہے تو خواہشاتِ نفس رہنما بن جاتی ہیں۔ اور جب اللہ کی محبت دل سے نکل جاتی ہے تو دنیا کی محبت اس جگہ قابض ہو جاتی ہے۔
امتِ مسلمہ کو آج پھر اپنے ماضی کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں قرآن کی آوازیں بلند کرنی ہوں گی۔ اپنی اولاد کو صرف ڈگریاں نہیں، دینی غیرت بھی دینی ہوگی۔ ہمیں اپنے کردار کو ایسا بنانا ہوگا کہ لوگ پھر مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کی عظمت محسوس کریں۔
یہ وقت غفلت کا نہیں، بیداری کا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے، اگر آج بھی ہم نے اپنی نسلوں کی دینی تربیت کو نظر انداز کیا، اگر آج بھی ہم قرآن و سنت سے اپنا رشتہ مضبوط نہ کر سکے، تو آنے والے دن اور بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پھر شاید ہم صرف واقعات پر افسوس کرتے رہ جائیں اور ہماری آئندہ نسلیں ہم سے یہ سوال کریں کہ جب ایمان پر حملے ہو رہے تھے تو تم کیا کر رہے تھے؟
آئیے! اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے دلوں کو قرآن سے آباد کریں، اپنی زندگیوں کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالیں، اور اپنی نسلوں کو دینِ محمدی ﷺ کی امانت سمجھ کر ان کی حفاظت کریں۔
آج اگر ہم نے اپنی غفلت کا علاج نہ کیا تو کل ہماری آہوں اور ندامتوں کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ وقت کی دیوار پر لکھی ہوئی تحریر صاف بتا رہی ہے کہ قوموں کا زوال باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے۔ ایمان جب کمزور پڑتا ہے تو قلعے مضبوط ہونے کے باوجود ٹوٹ جاتے ہیں، اور جب عقیدہ متزلزل ہو جاتا ہے تو تہذیب و تمدن کی بلند عمارتیں بھی قوم کو بچا نہیں سکتیں۔
کیونکہ جس قوم کا تعلق قرآن سے جڑ جاتا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس کے ایمان کو نہیں چھین سکتی، اور جو قوم اپنے رب کو بھلا دیتی ہے، تاریخ کے صفحات میں اس کا انجام ہمیشہ عبرت کا عنوان بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے، ہمیں قرآن و سنت سے مضبوط تعلق نصیب فرمائے، ہمارے گھروں کو ہدایت کا گہوارہ بنائے اور امتِ مسلمہ کو دوبارہ عزت، وقار اور دینی حمیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H