*ماں کی خوشی آخر کس میں ہوتی ہے؟*
✍🏻 *محمد عادل ارریاوی*
______________________________
آج دن میں میں سنن ابنِ ماجہ کھول کر بیٹھا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ کچھ احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرلوں۔ ابھی پڑھنے میں مشغول ہی تھا کہ اچانک میری والدہ کا فون آگیا فون کی گھنٹی سنتے ہی دل خوشی سے بھر گیا۔
سلام و دعا کے بعد میں نے ان کی خیریت دریافت کی والدہ اپنی روزمرہ کی کچھ روداد اور گھر کے حالات بڑے محبت بھرے انداز میں سناتی رہیں اور میں پوری مسرت کے ساتھ سنتا رہا۔ ان کی آواز ہی میرے لیے سکون کا ذریعہ بن گئی۔
باتوں ہی باتوں میں میں نے والدہ سے ایک سوال کیا اماں جان آپ کو سب سے زیادہ خوشی اور سکون کب ملتا ہے؟ میں نے سوچا تھا کہ شاید وہ کوئی عام سا جواب دیں گی مگر ان کے جواب نے مجھے خاموش اور حیران کردیا۔
انہوں نے فرمایا مجھے سب سے زیادہ خوشی اور سکون اُس وقت ملتا ہے جب میں اپنی ساری اولاد سے بات کرکے ان کی خیریت معلوم کرلیتی ہوں۔
یہ جملہ سن کر مجھے احساس ہوا کہ مائیں واقعی کتنی عظیم ہوتی ہیں۔ وہ اپنی خوشی کو اپنی اولاد کی خیریت میں تلاش کرتی ہیں۔ نہ انہیں دولت کی طلب ہوتی ہے نہ آرام و آسائش کی ان کے دل کا سکون صرف اس بات میں ہوتا ہے کہ ان کے بچے سلامت خوش اور خیریت سے ہوں۔
میری والدہ اکثر فرمایا کرتی ہیں میں روزانہ بلا ناغہ اپنی تمام اولاد کے لیے دعا کرتی ہوں۔ شاید یہی وہ مخلص دعائیں ہیں جن کی برکت سے ہم سب بھائی بہن اللہ کے فضل سے خوش و خیریت سے ہیں اور تمام بیماریوں سے محفوظ ہیں۔ الحمد للّٰہ۔
اللہ رب العزت میرے والدین کو ہمیشہ شاد و آباد خوش و خرم رکھے انہیں صحتِ کاملہ عمر دراز اور عافیت والی زندگی عطا فرمائے اور ہمیں ان کی خدمت و قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔