:قسط اول
مظاہر علوم سہارنپور وہ منبعِ علم و حکمت ہے جس نے ہر دور میں طالبانِ علومِ نبویہ کو اپنے چشمۂ فیض سے سیراب کیا۔
ایک ایسی دینی، علمی اور روحانی درس گاہ، جس نے ہندوستان ہی میں نہیں؛ بل کہ عالم اسلام میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔
  یکم رجب۱۲۸۳ھ مطابق ۹/نومبر ۱۸۶۶ءکو محلہ چوک بازداران کی قاضی مسجد سے شروع ہونے والا یہ مختصر سا چراغ، دیکھتے ہی دیکھتے ایک آفتابِ تاباں میں تبدیل ہوگیا۔ ابتدا نہایت سادہ تھی، وسائل حد درجہ محدود تھے؛ مگر عزم بلند اور نیتیں خالص تھیں۔
 علم حدیث و تفسیر فقہ و فتاویٰ کی خدمات اور جنگِ آزادی میں ادارے نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے بغیر تاریخ کا روشن باب ہیں۔ 
مانا کہ اس کے آغوش میں فلک بوس عمارتوں کی فراوانی نہیں ہے؛ لیکن جو کچھ اس نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے وہ جاذب نظر، دلکش، دیدہ زیب اور پرکشش ہے۔ 


دفتر مدرسہ قدیم :

 انھی یادگاروں میں سے ایک باوقار عمارت"دفتر مدرسہ قدیم" ہے، اسے مظاہر علوم میں وہی مقام حاصل ہے، جس طرح دار العلوم دیوبند میں نودرہ کی عمارت کو، جو شخص مظاہر علوم آئے اور اس عمارت کی زیارت سے محروم رہے، گویا اس نے مظاہر علوم کی روح کو قریب سے محسوس ہی نہیں کیا؛ کیوں کہ اس عمارت سے ان اکابر مظاہر کی یادیں وابستہ ہیں، جنھوں نے اپنے خون و جگر سے اس گلشن کو سیچا، اور اسے سر بلندی عطا فرمائی۔
 محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری کی مساعی جمیلہ سے مظاہر علوم کی یہ پہلی عمارت ١٢٩١ھ یا ١٢٩٢ھ میں پائے تکمیل کو پہنچی۔
اس سے پہلے مدرسہ، محلہ چوک بازداران کی قاضی مسجد سے متصل ایک کرایے کے مکان پر قائم تھا۔
افتتاح کے بابرکت موقع پر حضرت سہارنپوری نے اپنے شاگرد رشید قاسم العلوم و الخیرات حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کو مدعو کیا، آپ نے مدرسے کے احاطے میں طویل اور روح پرور خطاب فرمایا۔ یوں یہ مدرسہ کرایے کے مکان سے اپنے اس مستقل مسکن میں منتقل ہوا۔ 
عمارت کی مشرقی جانب قدیم طرز تعمیر پر ایک دروازہ ایستادہ ہے، شمالی جانب مسجد جلوہ گر ہے، درس گاہوں اور کمروں کو محرابوں سے مزین کیا گیا ہے۔
 آرکیٹیکچر کے اعتبار سے عمارت فن تعمیر کا ایسا شاہکار ہے، کہ مغلیہ دور کی یاد تازہ کردے۔
موسم گرما میں صدر دروازے کے اوپر موجود دار الافتاء کے آٹھوں در اگر گھول دیے جائیں، تو بادِ نسیم کی ایسی لہر دوڑتی ہے کہ پسینہ نام کی کسی شے کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔ مسافر آرام کی غرض سے مدرسے کے صحن میں بیٹھے تو الگ ہی راحت محسوس کرے۔ اور سائح باہر سے عقیدت و محبت کی نگاہ سے اگر مدرسے کا مشاہدہ کرے تو دیر تک محوِ تماشہ رہ جائے؛ کیوں کہ اس عمارت کی اصل خوب صورتی، ظاہری ارائش و زیبائش میں نہیں؛ بل کہ اس رُوحانیت و نورانیت اور تقدّس میں ہے، جو اکابر مظاہر یہاں ودیعت کر گیے ہیں۔
عمارت میں قدیم طرز تعمیر پر چاروں طرف درس گاہیں اور رہائشی کمرے قدیم اسلوب پر ترتیب دیے گئے ہیں، دوسری منزل پر دار الافتاء اور عظیم لائبریری واقع ہے، جس میں تورات، انجیل، زبور، گیتا اور رماین کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے متعدد نسخے اور تقریباً ١٢ سو ایسے نایاب مخطوطات موجود ہیں، جن کا ہندوستان ہی کیا پوری دنیا کی کسی لائبریری میں ملنے کو اگر معدوم و مفقود کا درجہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
شمالی حصے میں مسجد اولیاء واقع ہے اسی مسجد کے اندر جنوب میں داعیِ کبیر بانیِ تبلیغ جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کا حجرہ اور شمالی حصے میں حضرت مولانا اکرام الحسن کاندھلوی (والد ماجد حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی) کا کمرہ موجود ہے۔
مزید براں امیر تبلیغ جماعت حضرت مولانا یوسف کاندھلوی، محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری، بانئ مظاہر علوم حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی اور حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئی کے کمرے احاطے میں موجود ہیں، جو اس عمارت کو ایک زندہ تاریخ کا درجہ دیتے ہیں۔
 طلبہ کی کثرت کے پیش نظر رہائش اور تعلیم دار الطلبہ قدیم، دار الطلبہ جدید، احاطہ دار السلام، احاطہ مطبخ اور رواق مظفر میں منتقل کردی گئی ہے۔ عمارت میں دفتر اہتمام، دفتر تعلیمات اور دیگر دفاتر موجود ہیں، نیز شعبۂ فارسی اور شعبۂ افتاء کو بھی اسی احاطہ میں جگہ دی گئی ہے۔ (جاری) 

٥/ربیع الاول ١٤٤٨ھ بہ مطابق 19/اگست 2026ء