ربیع الاول: ماہِ سیرتِ نبوی ﷺ اور تجدیدِ عہدِ وفا
از: محمد معصوم ارریاوی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی تقویم کا تیسرا مہینہ ربیع الاول ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا کرتا ہے، کیونکہ اسی مہینے میں سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ ربیع الاول کی آمد دراصل ہمیں اس عظیم ہستی کی یاد دلاتی ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و ہدایت کی روشنی عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
ترجمہ: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔"
نبی کریم ﷺ کی بعثت پوری انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے حقیقی مقصدِ زندگی سے روشناس کرایا، توحید کا پیغام دیا، شرک و کفر کے اندھیروں کو دور کیا، اخلاق و کردار کو سنوارا، عدل و انصاف قائم کیا اور ایسی امت تیار فرمائی جس نے دنیا کو علم، تہذیب، انسانیت اور ہدایت کا پیغام دیا۔
ربیع الاول ہمیں سب سے بڑھ کر محبتِ رسول ﷺ کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک رسول اللہ ﷺ اسے دنیا کی ہر محبوب چیز سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ لیکن محبتِ رسول ﷺ محض دعویٰ، جذبات یا نعروں کا نام نہیں؛ حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ ﷺ کی اطاعت کرے، آپ کی سنت کو اپنائے اور آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا دستور بنائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾
ترجمہ: "آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کا سب سے روشن ثبوت اتباعِ سنت ہے۔ لہٰذا ربیع الاول کا حقیقی پیغام یہ نہیں کہ ہم صرف چند دن سیرت کے تذکرے تک محدود رہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کا عہد کریں۔
آج امتِ مسلمہ کو سیرتِ نبوی ﷺ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی، معاشرتی اور فکری مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ جھوٹ، غیبت، بدگمانی، وعدہ خلافی، والدین کی نافرمانی، رشتوں کی ناقدری، باہمی اختلاف اور سوشل میڈیا کے غیر محتاط استعمال نے ہماری زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ان تمام مسائل کا بہترین علاج ہمیں سیرتِ طیبہ میں ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سچائی، امانت، عفو و درگزر، صبر، شجاعت، عدل، حسنِ معاشرت اور انسانیت کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا معاملہ فرمایا، کمزوروں کا سہارا بنے، یتیموں اور مسکینوں کی خبرگیری فرمائی اور اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی بہترین مثال قائم فرمائی۔
ربیع الاول میں سیرتِ نبوی ﷺ کے تذکرے ضرور ہونے چاہئیں، محافلِ سیرت بھی منعقد ہونی چاہئیں اور نعت و درود سے دلوں کو منور بھی کرنا چاہیے؛ لیکن ان سب کے ساتھ ضروری ہے کہ ہم سنت کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر زبان پر محبتِ رسول ﷺ کے دعوے ہوں اور زندگی سنت سے خالی ہو تو ہمیں اپنے دعوائے محبت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ربیع الاول کے موقع پر ہمیں افراط و تفریط سے بھی بچنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، مگر محبت کے اظہار کا طریقہ بھی شریعت اور سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر ایسے عمل سے اجتناب کرنا چاہیے جو دین میں ثابت نہ ہو اور جسے ثواب یا عبادت سمجھ کر لازم قرار دیا جائے۔
ہمیں چاہیے کہ اس ربیع الاول میں اپنے گھروں، مدارس، مساجد اور معاشرے میں سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کو عام کریں۔ بچوں اور نوجوانوں کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق، عبادات، معاملات اور معاشرتی زندگی سے واقف کرائیں، تاکہ ان کے سامنے کامیابی کا حقیقی نمونہ موجود ہو۔
ربیع الاول ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت صرف ایک قوم یا خطے کے لیے نہیں تھی، بلکہ آپ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ اس لیے آپ ﷺ کی سیرت کا پیغام بھی عالمگیر ہے: اللہ کی عبادت، انسانیت سے محبت، عدل و انصاف، اخلاقِ حسنہ، علم و عمل اور امن و خیر خواہی۔
آئیے! اس ربیع الاول میں ہم محض خوشی منانے کے بجائے اپنی زندگی بدلنے کا عہد کریں۔ نماز کی پابندی کریں، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، سنتوں کو زندہ کریں، والدین کے حقوق ادا کریں، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کریں، مسلمانوں کے درمیان محبت و اتحاد پیدا کریں اور اپنے اخلاق و کردار کو نبوی اخلاق کا آئینہ بنانے کی کوشش کریں۔
اگر ربیع الاول گزر جائے اور ہمارے اعمال میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے کیا حاصل کیا؟ اور اگر اس مہینے کی برکت سے ہماری نماز بہتر ہوجائے، اخلاق سنور جائیں، گناہوں سے توبہ نصیب ہوجائے اور سنتِ نبوی ﷺ سے ہمارا تعلق مضبوط ہوجائے تو یہی ربیع الاول ہمارے لیے حقیقی کامیابی اور سعادت کا ذریعہ بن جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ عطا فرمائے، سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، ہماری زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے نور سے منور فرمائے اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
۵/ربیع الأول ۱۴۴۸ھ مطابق ۱۹/اگست ۲۰۲۶ بروز بدھ