جب کسی مذہب کے عقاید
 اچھے یا برے،برحق یا باطل ہوں تو مذہب بھی اچھا یا برا برحق یا باطل ہوگا،یعنی مذہب کی حقانیت وبطلانیت کا تعلق عقائد سے ہے احکام کی بھلائی برائی کو اس میں دخل نہیں۔ 
کیونکہ اگر احکام سے تعلق ہو تو احکام بھی بہت زیادہ ہیں ہر حکم کی تحقیق کرنا ناگزیر ہے، تجسس کا عمل دشواری سے خالی نہیں ہے 

ہاں اگر مذہب کی حقانیت کو عقائد سے جوڑا جائے تو بجا ہے۔اس لیے کہ اول تو عقیدہ ایک قسم کی خبر ہوتی ہے ۔
 اگر صحیح عقیدہ ہے تو یوں کہاجائے گا وہ واقع کے مطابق ہے اور وہ سچی بات ہے،
 اور اگر غلط ہے تو یوں کہا جائے گا وہ ایک جھوٹی بات ہے 
چوں کہ ہر مذہب میں عقائد دو چار ہی ہوتے ہیں ایسا لمبا چوڑا قصہ نہیں ہوتا جس کی تحقیق دشوار ہو 
اس لیے مذہب کی حقانیت عقائد سے متعلق ہونا بہتر ہے نہ کہ احکام سے 

اسلام کی حقانیت بحیثیت عقائد  

عقائد کے رو سے اسلام کو دیکھا جائے 
تو مذہب اسلام سارے مذہبوں سے عمدہ معلوم ہوتا ہے 
چناں چہ 
اہل اسلام کا
پہلا عقیدہ
 جس پر اسلام کی بنیادہے،یہ ہے
 (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) جس کے یہ معنی ہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ اور کوئی لائق عبادت نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے ہیں ۔

اس کلمہ کا پہلا جز ۔لاالہ الا اللہ ۔۔
جس کا خلاصہ توحید ہے۔

سارے مذاہب اسکا منکر نہیں ہے بلکہ ہر مذہب میں توحید کی شکل کسی نہ کسی درجہ میں موجود ہے
جیسے جاہلان عرب ۔عیسائی لوگ۔
جاہلان عرب۔ ہزاروں بتوں کی پرستش کرتے تھے 
مگر زمین و آسمان کا خالق ایک خدا ہی کو سمجھتے تھے چنا نچہ قرآن شریف ان کے حال پر یوں گویا ہے،
ولَئِن سَأَلْتُهُم مَنْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَيَقُولَنَّ الله 
 کہ اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمینوں کو، تو یوں کہیں کہ اللہ نے۔
 رہے نصرانی وہ اگر چہ شرک میں اول نمبر پر ہیں۔اسلیے کہ وہ ذات میں شریک ٹھراتے ہیں یعنی وہ ذات کے مرتبہ میں تین خداؤں کے قایل ہیں کہ ان کے نزدیک حقیقت میں تین خدا ہیں اور وہ تینوں حقیقت میں بھی ایک ہی ہیں۔لہذا ان کے یہاں توحید کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹا ۔
القصہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا کویی انکار ی نہیں بلکہ اصل الاصول سب کے نزدیک توحید ہی ہے اور جب توحید سب کے نزد مسلم اور اصل ٹھیری تو پھر جو باتیں توحید کے خلاف ہوں گی وہ خود غلط ہوں گی۔ یعنی شرک اور بت پرستی اور کثرت معبودان اپنے آپ غلط ہوجائیں گے۔۔۔۔۔

(مجموعہ رسائل قاسمیہ میلۂ خدا شناسی ۔ص۔90تا92)