عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت
16 اگست، 2026
عید میلاد النبی ﷺ اسلامی علمی و مذہبی روایت میں ایک اہم اور کثیر الجہتی موضوع ہے جس پر مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان طویل عرصے سے علمی گفتگو جاری ہے۔ اس بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کو یاد کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا، صدقہ و خیرات کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر اظہارِ مسرت کرنا شرعاً کس درجہ میں آتا ہے؟ نیز یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا قرآن و حدیث میں میلاد کی موجودہ اجتماعی صورت کی کوئی صریح نص موجود ہے یا اس کا جواز عمومی شرعی اصولوں سے اخذ کیا جاتا ہے؟
زیرِ نظر مقالہ اسی مسئلے کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں قرآنِ کریم کی ان آیات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں انبیاء علیہم السلام کی ولادت کا ذکر، اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی، ایام اللہ کا تذکرہ، اللہ کے فضل و رحمت پر خوشی، رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی نعمت اور رحمت قرار دینا، اور درود و سلام کا حکم شامل ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی معروف حدیثِ صومِ پیر کو بنیادی حدیثی دلیل کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مزید برآں امام جلال الدین سیوطی، حافظ ابن حجر عسقلانی، امام قسطلانی، ابو شامہ مقدسی اور دیگر ائمہ کے منقول اقوال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
مقالہ اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ قرآن و حدیث میں موجود نصوص رسول اللہ ﷺ کی ذات، بعثت اور ولادت سے متعلق اللہ کی نعمت پر شکر، آپ ﷺ کی سیرت و فضائل کے ذکر اور آپ ﷺ پر درود و سلام کو مضبوط شرعی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ تاہم علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ان نصوص کو سالانہ مخصوص مجلسِ میلاد کے صریح حکم کے برابر نہ رکھا جائے۔ سالانہ اجتماعی میلاد کی مشروعیت کا استدلال زیادہ تر عمومی نصوص، حدیثِ صومِ پیر، اصولِ شریعت اور بعض متقدم و متاخر ائمہ کی فقہی تعبیرات سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی طرح میلاد کی مجلس میں شامل ہر عمل کا حکم اس کے اپنے شرعی معیار کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
کلیدی الفاظ: میلاد النبی ﷺ، مولد، قرآن، حدیث، صومِ پیر، بدعتِ حسنہ، سیرت النبی ﷺ، درود و سلام، اصولِ فقہ، اظہارِ مسرت۔
رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس مسلمانوں کے ایمان، محبت اور دینی شعور کا مرکزی محور ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین قرار دیا، آپ ﷺ کی بعثت کو اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان قرار دیا، اور اہلِ ایمان کو آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو انہیں اللہ کی آیات سناتے، ان کا تزکیہ کرتے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔[1]
اسی پس منظر میں رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کو یاد کرنا محض ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا نہیں بلکہ اس عظیم نعمت کے شعور کو تازہ کرنا بھی ہے جس کے ذریعے انسانیت کو قرآن، ہدایت، نبوت اور تزکیہ کا راستہ ملا۔
تاہم علمی سطح پر مسئلہ اس وقت پیچیدہ ہوجاتا ہے جب یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی یاد منانے کے لیے ہر سال ایک مخصوص اجتماعی پروگرام منعقد کرنا عین اسی شکل میں سنتِ نبوی ہے؟ یا پھر یہ ایک ایسا جائز ذریعہ ہے جس میں متعدد پہلے سے مشروع اعمال جمع ہوجاتے ہیں؟
یہی بنیادی سوال اس تحقیق کا مرکز ہے۔
۔ میلاد کا مفہوم
عربی میں مولد یا میلاد کا تعلق مادہ "و ل د" سے ہے اور بنیادی طور پر ولادت، پیدائش یا پیدائش کے وقت سے متعلق مفہوم رکھتا ہے۔ مذہبی اصطلاح میں "میلاد النبی ﷺ" سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، آپ ﷺ کی سیرت، شمائل، معجزات، اخلاق، بعثت اور آپ ﷺ سے متعلق دینی واقعات کو بیان و یاد کرنا ہے۔
یہاں ایک اہم امتیاز ضروری ہے۔ میلاد کا مفہوم صرف ایک مخصوص رات یا تاریخ پر محدود نہیں ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ، آپ ﷺ پر درود و سلام، آپ ﷺ کی سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا پورے سال کے اعمال ہیں۔ سالانہ میلاد کا مقصد، اس نقطۂ نظر سے، ان اعمال کے لیے ایک اجتماعی اور تعلیمی موقع پیدا کرنا سمجھا جاسکتا ہے۔
چنانچہ "میلاد" کے تین الگ پہلو سامنے آتے ہیں:
1. اصل مقصد: رسول اللہ ﷺ کی یاد، محبت اور سیرت کا تذکرہ۔
2. مجلس میں ہونے والے اعمال: قرآن خوانی، درود، نعت، سیرت بیان، صدقہ وغیرہ۔
3. اجتماعی شکل: کسی مخصوص وقت یا تاریخ پر ان اعمال کو ایک مجلس میں جمع کرنا۔
ان تینوں کو ایک ہی شرعی حکم دینا اصولی طور پر درست نہیں ہوگا۔
۔ قرآنِ کریم سے استدلال
3.1 انبیاء علیہم السلام کی ولادت کا ذکر
قرآنِ کریم نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
"وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ..."
یعنی ان پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وفات پائیں گے اور جس دن دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔[2]
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے قرآن نقل کرتا ہے:
"وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ..."
یعنی مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن وفات پاؤں گا اور جس دن دوبارہ اٹھایا جاؤں گا۔[3]
یہ دونوں آیات کم از کم اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ قرآن نے انبیاء علیہم السلام کی ولادت کے دن کو ان کی زندگی کے اہم مراحل میں شمار کیا اور اسے بیان کیا۔
البتہ تحقیقی احتیاط یہاں ضروری ہے۔ ان آیات سے یہ کہنا کہ "قرآن نے سالانہ میلاد منانے کا براہِ راست حکم دیا ہے" ایک زائد دعویٰ ہوگا، کیونکہ آیت میں سالانہ جشن کا صریح حکم موجود نہیں۔ البتہ ان آیات سے یہ عمومی اصول اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی ولادت اور ان کے اہم مراحل کا ذکر بذاتِ خود قرآن کے اسلوب سے متصادم نہیں۔
لہٰذا یہ دلیل براہِ راست حکم کے بجائے عمومی قرآنی نظیر کی حیثیت رکھتی ہے۔
3.2 "ایام اللہ" اور نعمتوں کی یاد
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیتے ہیں:
"وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ"
یعنی انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ۔[4]
مفسرین نے "ایام اللہ" کے تحت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، نصرتوں اور اہم واقعات کو ذکر کیا ہے۔ امام قرطبی کی تفسیر میں ابن عباس، مجاہد اور قتادہ وغیرہ سے "ایام اللہ" کی تفسیر اللہ کی نعمتوں اور گزشتہ واقعات سے منقول ہے۔[5]
یہاں سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے نمایاں واقعات کو یاد کرنا قرآن کے عمومی مزاج میں داخل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ہدایت بھی ایسی ہی عظیم نعمت ہے۔ قرآن خود فرماتا ہے:
"لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا..."
یعنی اللہ نے مؤمنین پر بڑا احسان کیا کہ ان میں ایک رسول بھیجا۔[6]
اس بنا پر رسول اللہ ﷺ کی بعثت، سیرت اور اس نعمت کے تذکرے کو "اللہ کی نعمت کی یاد" کے عمومی اصول کے تحت سمجھنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
4۔ رسول اللہ ﷺ بطورِ نعمت و رحمت
قرآنِ کریم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرماتا ہے:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"
یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔[7]
اسی طرح سورۂ آل عمران میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو مؤمنین پر اللہ کا عظیم احسان قرار دیا گیا۔[8]
اس سے میلاد کے حق میں ایک بنیادی استدلال پیدا ہوتا ہے:
- رسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے عظیم رحمت ہیں۔
- آپ ﷺ کی بعثت مؤمنین پر اللہ کا احسان ہے۔
- آپ ﷺ کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی۔
- لہٰذا آپ ﷺ کی آمد پر اللہ کا شکر اور خوشی ایک قابلِ فہم دینی جذبہ ہے۔
یہاں بھی ایک اہم علمی فرق برقرار رہنا چاہیے: قرآن نے رسول اللہ ﷺ کو رحمت اور بعثت کو نعمت قرار دیا ہے؛ اس سے میلاد کی مخصوص سالانہ تقریب کا حکم براہِ راست نہیں نکلتا، بلکہ اس تقریب کے مقصد کے لیے ایک عمومی شرعی بنیاد اخذ کی جاتی ہے۔
۔ "فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا" — اللہ کے فضل و رحمت پر خوشی
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا"
یعنی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔[9]
اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر نے فضل و رحمت کو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت اور دینِ حق سے متعلق قرار دیا ہے؛ یعنی وہ چیز جس کے ذریعے انسان کو ہدایت اور حق حاصل ہوا، اس پر خوش ہونا دنیاوی مال و متاع سے بہتر ہے۔[10]
یہاں میلاد کے حق میں استدلال کی بنیاد یہ بنتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مظہر ہیں اور آپ ﷺ کی بعثت کے ذریعے ہدایت کا دروازہ کھلا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی آمد پر اظہارِ مسرت کو اس عمومی قرآنی اصول کے تحت سمجھا جاسکتا ہے۔
لیکن پھر وہی علمی احتیاط ضروری ہے: آیت "میلاد مناؤ" نہیں کہتی؛ بلکہ اللہ کے فضل و رحمت پر خوشی کا اصول دیتی ہے۔ میلاد اس اصول کی ایک ممکنہ تطبیق ہے۔
۔ "فاذكروا آلاء الله" اور "فحدث"
قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
"فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ"
یعنی اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔[11]
اسی طرح سورۂ ضحیٰ میں ارشاد ہے:
"وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ"
یعنی اپنے رب کی نعمت کا تذکرہ کرو۔[12]
تفسیر سعدی میں اس آیت کے تحت دینی و دنیاوی نعمتوں کے ذکر اور ان کے ذریعے شکر پیدا ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[13]
اگر رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو قرآن کی تصریح کے مطابق اللہ کا عظیم احسان سمجھا جائے تو آپ ﷺ کی سیرت، صفات، تعلیمات اور بعثت کا تذکرہ "نعمت کے بیان" کے عمومی مفہوم سے مناسبت رکھتا ہے۔
اسی لیے میلاد کی ایک اہم علمی حیثیت تعلیمِ سیرت ہوسکتی ہے۔ ایسی مجلس جس میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ، اخلاق، عبادات، عدل، رحمت، معاملات اور سنتیں بیان ہوں، اس کا بنیادی مقصد محض جشن نہیں بلکہ دینی تعلیم اور تربیت بھی ہوسکتا ہے۔
7۔ سورۂ مائدہ اور "عید" کا قرآنی تصور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی:
"تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا"
یعنی یہ ہمارے پہلے اور بعد والوں کے لیے عید بن جائے۔[14]
اس آیت میں ایک آسمانی نعمت کے واقع ہونے والے دن کو "عید" قرار دینے کا تصور موجود ہے۔ ابن کثیر کی تفسیر میں بھی اس دعا کے تحت یہ مفہوم منقول ہے کہ اس دن کو بعد میں آنے والوں کے لیے بھی عید اور یادگار بنایا جائے۔[15]
تاہم یہاں بھی استدلال قیاسی یا اصولی نوعیت کا ہے۔ مائدہ کے واقعے سے براہِ راست میلاد کی شرعی حیثیت ثابت کرنا درست نہیں، کیونکہ دونوں واقعات اپنی نوعیت میں مختلف ہیں۔ البتہ یہ آیت اس عمومی تصور کی تائید کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ایک عظیم نعمت کے واقعے کو اجتماعی یاد اور خوشی کے موقع کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
8۔ درود و سلام اور میلاد کی مجالس
سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ..."
اور اہلِ ایمان کو رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیتا ہے۔[16]
میلاد کی بہت سی مجالس میں درود و سلام بنیادی عمل ہوتا ہے۔ اس عمل کی اپنی شرعی حیثیت قرآن سے ثابت ہے۔
اس مقام پر اصولی طور پر ایک اہم بات سامنے آتی ہے:
اگر کسی اجتماعی مجلس میں قرآن، درود، ذکر، صدقہ اور سیرت کا بیان ہو تو ان اعمال کے احکام ان کی اپنی شرعی حیثیت کے مطابق دیکھے جائیں گے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ "میلاد میں درود پڑھا جاتا ہے، اس لیے پوری مخصوص مجلس خود بخود سنت ہے" منطقی طور پر کافی نہیں؛ البتہ یہ کہنا درست ہے کہ مجلس میں موجود یہ اعمال اپنی اصل کے اعتبار سے مشروع ہیں، اور ان کے اجتماع کی شرعی حیثیت الگ اصولی بحث کا موضوع ہے۔
9۔ حدیثِ صومِ پیر: میلاد کے مسئلے کی مرکزی حدیثی دلیل
میلاد کے جواز پر سب سے اہم حدیثی استدلال صحیح مسلم کی حدیث ہے۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس دن آپ ﷺ پیدا ہوئے اور اسی دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔[17]
یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے اور اس کی سند و روایت کے متعدد طرق بھی بیان ہوئے ہیں۔[18]
یہاں سے میلاد کے حق میں ایک نہایت اہم استدلال پیدا ہوتا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کی نسبت کو خود بیان کیا اور اس دن روزہ رکھنے کے عمل سے اس دن کی نسبت کو عبادت کے ساتھ جوڑا۔
یہ امر اس بات کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت سے متعلق کسی دن کو اللہ کی نعمت یاد کرتے ہوئے عبادت کے ذریعے یاد کرنا شرعی تصور سے بالکل اجنبی نہیں۔
لیکن حدیث کا دقیق مطالعہ ہمیں ایک اہم حد بھی بتاتا ہے۔
حدیث میں:
- سالانہ جشن کا لفظ نہیں؛
- 12 ربیع الاول کا ذکر نہیں؛
- اجتماعی مجلس کا ذکر نہیں؛
- جلوس یا مخصوص پروگرام کا ذکر نہیں۔
جو چیز براہِ راست ثابت ہے وہ پیر کے دن روزہ اور ولادتِ نبوی ﷺ کی نسبت ہے۔
لہٰذا علمی اعتبار سے زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ:
«حدیثِ صومِ پیر ولادتِ نبوی ﷺ کی نسبت سے عبادت اور شکر کے تصور کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جبکہ سالانہ اجتماعی میلاد کی مخصوص صورت اس حدیث کی براہِ راست عبارت نہیں بلکہ اس سے اخذ کردہ وسیع تر فقہی تطبیق ہے۔»
10۔ یومِ عاشوراء اور شکر کا اصول
میلاد کے فقہی استدلال میں ایک دوسرا اہم واقعہ یومِ عاشوراء ہے۔ صحیح احادیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کے واقعے سے عاشوراء کے روزے کا تعلق بیان ہوا ہے۔ اس میں ایک تاریخی نعمت کی یاد اور اس کے جواب میں عبادت کا عنصر نمایاں ہے۔[19]
حافظ ابن حجر کے حوالے سے منقول میلاد کے استدلال میں بھی عاشوراء کو ایک اصولی نظیر کے طور پر پیش کیا گیا ہے: اگر کسی خاص دن اللہ تعالیٰ نے کوئی بڑی نعمت عطا فرمائی ہو تو اس نعمت کے شکر میں عبادت کرنا ایک معروف شرعی تصور ہے۔[20]
یہاں سے دو تاریخی نمونے سامنے آتے ہیں:
عاشوراء: ایک نجات کے واقعے کی یاد → شکر → عبادت۔
پیر: ولادتِ نبوی ﷺ کی نسبت → روزہ۔
میلاد کے قائل علماء انہی اصولوں کو ملا کر یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی کوئی ایسی اجتماعی صورت جو شرعی حدود کے اندر ہو، اصولاً قابلِ قبول ہوسکتی ہے۔
۔ امام سیوطی اور میلاد
امام جلال الدین سیوطی نے الحاوي للفتاوي میں میلاد کے موضوع پر مستقل بحث کی۔ منقول عبارت کے مطابق وہ ایسی میلاد مجلس کا ذکر کرتے ہیں جس میں قرآن پڑھا جائے، رسول اللہ ﷺ کی ولادت سے متعلق احادیث و آثار بیان کیے جائیں، ولادت کے معجزات و علامات کا ذکر ہو اور لوگوں کو کھانا پیش کیا جائے؛ وہ ایسی صورت کو بدعتِ حسنہ کے عنوان سے بیان کرتے ہیں اور اس میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر خوشی کے اظہار کو بنیادی مقصد قرار دیتے ہیں۔[21]
یہاں امام سیوطی کا موقف انتہائی اہم ہے، کیونکہ ان کے ہاں میلاد کا جواز کسی ایک منفرد نص پر قائم نہیں بلکہ مختلف مشروع اعمال اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر اظہارِ مسرت کے مجموعی تصور پر مبنی ہے۔
اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک کسی نئے اجتماعی انتظام کو اس وقت قابلِ قبول سمجھا جاسکتا ہے جب اس کے اندر موجود اعمال اپنی اصل میں مشروع ہوں اور وہ شریعت کے کسی قطعی اصول سے متصادم نہ ہو۔
۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کا موقف
میلاد کے موضوع پر حافظ ابن حجر کا منقول موقف اس بحث کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
امام سیوطی کے ذریعے منقول جواب میں ابن حجر میلاد کو ایسی نئی صورت قرار دیتے ہیں جو پہلے تین قرون کے صالحین سے اس مخصوص شکل میں منقول نہیں، لیکن وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس میں نیک اور ناپسندیدہ دونوں قسم کے اعمال شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر اس میں صرف نیک اعمال ہوں اور ممنوع امور سے اجتناب کیا جائے تو اسے بدعتِ حسنہ کے درجے میں دیکھا جاسکتا ہے۔[22]
یہ موقف دراصل میلاد کی بحث میں ایک انتہائی اہم اصول پیش کرتا ہے:
کسی اجتماعی مذہبی طریقے کا حکم اس کے اندر موجود اعمال اور اس کے مقصد کے اعتبار سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
لہٰذا اگر مجلس میں:
- قرآن،
- درود،
- سیرت،
- صدقہ،
- وعظ،
- اخلاقی تربیت
ہو تو اس کی صورت مختلف ہوگی، اور اگر اس میں حرام یا شرعی طور پر ممنوع امور شامل ہوں تو حکم بھی مختلف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ میلاد کی شرعی حیثیت پر گفتگو کرتے وقت "میلاد" کو ایک جامد پیکیج سمجھنے کے بجائے اس کے اجزاء کا تجزیہ ضروری ہے۔
۔ ابو شامہ اور دیگر علماء
ابو شامہ مقدسی سے بھی میلاد کے حوالے سے ایک معروف قول منقول ہے جس میں وہ اپنے زمانے کی ان مجالس کو اچھا قرار دیتے ہیں جن میں صدقات، نیک اعمال اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر خوشی و مسرت کا اظہار شامل ہو۔[23]
اسی طرح کلاسیکی علمی روایت میں ابن دحیہ، عراقی، ابن الجزری، مولا علی قاری، قسطلانی اور دیگر علماء کی طرف سے میلاد کے موضوع پر مستقل تصانیف یا گفتگو منقول ہے۔ اس سے کم از کم یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعد کے مسلم علمی حلقوں میں میلاد ایک باقاعدہ فقہی و علمی موضوع بن چکا تھا۔
تاہم "بہت سے علماء نے میلاد پر کتابیں لکھیں" کو اجماعِ امت کا مترادف نہیں بنایا جاسکتا۔ علمی تحقیق میں کسی مسئلے پر متعدد اہلِ علم کا موقف اور "اجماع" دو مختلف دعوے ہیں۔ اجماع کے دعوے کے لیے تمام معتبر مخالف اقوال کا جائزہ ضروری ہے۔
14۔ ابن تیمیہ کے حوالے سے ایک ضروری علمی وضاحت
میلاد کے حق میں بعض تحریروں میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف بھی ایسے اقوال منسوب کیے جاتے ہیں جن میں نبی ﷺ کی ولادت کو عزت دینا اور اس موقع پر نیک نیتی سے عمل کرنے والوں کے اجر کا ذکر ہے۔[24]
لیکن ابن تیمیہ کے موقف کو صرف ایک مختصر اقتباس کے ذریعے پیش کرنا مناسب نہیں۔ ان کی بحث میں یہ بھی واضح ہے کہ وہ میلاد کو نبی ﷺ، صحابہ اور سلف کے زمانے میں معروف سالانہ مذہبی تہوار کی حیثیت سے ثابت شدہ سنت نہیں سمجھتے۔ اس لیے ان کے موقف کی صحیح تعبیر یہ ہوگی کہ وہ بعض صورتوں میں نیت، محبت اور خیر کے اعمال کے اجر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ کہ یہ کہ انہوں نے بلاشرط ہر قسم کی سالانہ میلاد تقریب کو سنت قرار دیا۔
یہ فرق علمی تحقیق میں نہایت اہم ہے۔
۔ "بدعت" کا بنیادی اصولی سوال
میلاد کے مسئلے کی اصل بحث دراصل "بدعت" کے مفہوم پر آکر مرکوز ہوجاتی ہے۔
ایک گروہ یہ استدلال کرتا ہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قرونِ اولیٰ سے سالانہ میلاد کی موجودہ شکل ثابت نہیں، اس لیے اسے دینی عمل کے طور پر اختیار کرنا بدعت ہے۔
دوسری طرف بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی نئی اجتماعی صورت میں پہلے سے مشروع اعمال جمع ہوں، اس میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو اور اسے مستقل فرض یا سنتِ عینی نہ سمجھا جائے، تو اس کی گنجائش عمومی شرعی اصولوں سے پیدا ہوسکتی ہے۔
حافظ ابن حجر کے منقول موقف میں یہی دوسرا اصول نمایاں ہے۔[25]
یہاں ایک اصولی فرق سمجھنا ضروری ہے:
نئی چیز ہونا اور شرعاً ممنوع ہونا ہمیشہ مترادف نہیں۔
البتہ عبادات کے باب میں یہ اصول بھی ملحوظ رہے گا کہ محض نیک نیت کسی ایسے مخصوص عبادتی طریقے کو مشروع نہیں بنا دیتی جس کی شریعت نے ممانعت کی ہو۔
لہٰذا میلاد کے مسئلے میں اصل سوال یہ ہوگا:
«کیا میلاد کو ایک مستقل عبادت اور شریعت کی مقرر کردہ عید سمجھا جارہا ہے، یا اسے مشروع اعمال کے اجتماع، تعلیمِ سیرت اور اظہارِ محبت و شکر کے لیے ایک عرفی و تنظیمی ذریعہ سمجھا جارہا ہے؟»
یہ دونوں تصورات یکساں نہیں ہیں۔
۔ "عید" اور "میلاد" میں فرق
ایک اور علمی مسئلہ لفظ عید کا ہے۔
اسلامی شریعت میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ مخصوص شرعی تہوار ہیں۔ اس لیے میلاد کو ان دونوں کے برابر ایک مستقل شرعی عید قرار دینا ایک الگ فقہی دعویٰ ہے اور اس کے لیے الگ دلیل درکار ہوگی۔
دوسری طرف "عید" کا لغوی استعمال کسی خوشی یا یاد کے موقع کے لیے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ مائدہ 5:114 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا میں "عید" کا لفظ آیا ہے۔[26]
لہٰذا بہتر علمی تعبیر یہ ہوگی کہ:
«میلاد کو "شرعی عید" کہنا ایک مخصوص اصطلاحی دعویٰ ہے، جبکہ میلاد کو خوشی، ذکرِ نعمت اور یادِ رسول ﷺ کا سالانہ موقع کہنا ایک الگ مفہوم ہے۔»
اس فرق کو ملحوظ رکھنے سے بہت سے فقہی اختلافات واضح ہوجاتے ہیں۔
17۔ میلاد کی مجلس کے اجزاء کا فقہی تجزیہ
اگر میلاد کی مجلس کو اس کے اجزاء میں تقسیم کیا جائے تو درج ذیل اعمال سامنے آسکتے ہیں:
17.1 قرآنِ کریم کی تلاوت
یہ مستقل طور پر مشروع عمل ہے۔
17.2 درود و سلام
قرآنِ کریم نے اس کا واضح حکم دیا ہے۔[27]
17.3 سیرت النبی ﷺ کا بیان
رسول اللہ ﷺ کی حیات، اخلاق، عبادات اور تعلیمات کا مطالعہ اسلامی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے۔
17.4 نعت و مدح
رسول اللہ ﷺ کی مدح اگر شرعی حدود کے اندر ہو اور اس میں غلو یا غیر اسلامی عقائد شامل نہ ہوں تو اس کے جواز کی بحث الگ سے کی جاسکتی ہے۔
17.5 صدقہ و خیرات
ضرورت مندوں کی مدد اور صدقہ اپنی اصل میں مشروع ہے۔
17.6 کھانا کھلانا
لوگوں کو کھانا کھلانا بھی اپنی اصل میں نیک عمل ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف، ریا یا حرام ذریعہ شامل نہ ہو۔
17.7 وعظ و اصلاح
اگر مجلس کا مقصد مسلمانوں کو نماز، اخلاق، سنت، تقویٰ اور محبتِ رسول ﷺ کی طرف راغب کرنا ہو تو اس کا تربیتی پہلو مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔
اس تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ میلاد کی مجلس میں موجود بہت سے بنیادی اعمال بذاتِ خود مشروع ہیں۔ اصل اختلاف زیادہ تر ان اعمال کو ایک مخصوص سالانہ اجتماعی موقع پر منظم کرنے کی شرعی حیثیت پر ہے۔
18۔ مخالف نقطۂ نظر: ایک ضروری علمی حصہ
تحقیقی مقالہ اس وقت مکمل نہیں ہوسکتا جب مخالف رائے کو نظر انداز کردیا جائے۔
میلاد کے عدمِ جواز کے قائل علماء کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں سالانہ میلاد کی مخصوص مجلس یا تہوار موجود نہیں تھا۔ ان کے نزدیک عبادات میں کسی مخصوص وقت، کیفیت یا اجتماع کو دینی حیثیت دینا نص کا محتاج ہے۔
وہ بدعت سے متعلق احادیث، خصوصاً دین میں نئی چیز داخل کرنے کے بارے میں وارد نصوص، کو بھی پیش کرتے ہیں۔
اس موقف کی علمی قوت یہ ہے کہ یہ توقیفی عبادات کے اصول پر زور دیتا ہے۔
اس کے مقابل میلاد کے قائل علماء یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر کسی اجتماع میں قرآن، درود، سیرت، صدقہ اور وعظ جیسے مشروع اعمال ہوں اور اسے فرض یا لازمی سنت نہ سمجھا جائے، تو اجتماع کی تنظیم کو ہر صورت میں نئی عبادت قرار دینا ضروری نہیں۔
یہاں اصل اختلاف نص کی عدم موجودگی سے زیادہ فقہی اصول کی تطبیق کا ہے۔
19۔ ایک متوازن اصولی نتیجہ
مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں میلاد کے مسئلے کو تین سطحوں پر سمجھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
پہلی سطح: رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر خوشی
یہ ایک فطری اور دینی جذبہ ہے، اور قرآن رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی رحمت اور مؤمنین پر اللہ کا احسان قرار دیتا ہے۔[28]
دوسری سطح: ولادت کی نسبت سے عبادت اور شکر
صحیح مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے پیر کے روزے کی نسبت اپنی ولادت اور وحی کے نزول سے بیان فرمائی۔[29]
یہ میلاد کے تصور کے لیے سب سے مضبوط حدیثی بنیاد ہے، اگرچہ یہ سالانہ اجتماعی مجلس کی مخصوص شکل کو براہِ راست بیان نہیں کرتی۔
تیسری سطح: سالانہ اجتماعی میلاد
یہ مسئلہ براہِ راست ایک صریح قرآنی یا حدیثی نص سے ثابت نہیں، بلکہ بعض علماء نے اسے عمومی شرعی اصول، مشروع اعمال کے اجتماع، اظہارِ مسرت، ذکرِ نعمت اور قیاس و اجتہاد کی بنیاد پر جائز یا مستحسن قرار دیا ہے۔ امام سیوطی اور حافظ ابن حجر سے منقول اقوال اس فقہی رجحان کی نمایاں مثالیں ہیں۔[30]
20۔ بحث کا تحقیقی نتیجہ
اس تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ میلاد النبی ﷺ کے بنیادی مقاصد—رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا بیان، آپ ﷺ پر درود و سلام، آپ ﷺ کی تعلیمات کا تذکرہ، اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر خوشی—اسلامی نصوص کے عمومی دائرے سے باہر نہیں ہیں۔
قرآن رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو اللہ کا احسان قرار دیتا ہے؛ آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیتا ہے؛ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنے اور ان کا تذکرہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے؛ اور اللہ کے فضل و رحمت پر خوشی کا حکم دیتا ہے۔[31]
حدیث کی سطح پر صحیح مسلم کی روایت خاص اہمیت رکھتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے پیر کے دن کے روزے کی وجہ اپنی ولادت اور وحی کے نزول کو قرار دیا۔[32]
اس کے بعد فقہی سطح پر امام سیوطی، حافظ ابن حجر اور دیگر علماء کی آراء سامنے آتی ہیں، جنہوں نے میلاد کی مخصوص صورت کو اس کے اندر موجود اعمال اور اس کے مقصد کے اعتبار سے پرکھا۔[33]
لہٰذا علمی طور پر سب سے متوازن نتیجہ یہ ہے کہ:
میلاد النبی ﷺ کی موجودہ مخصوص سالانہ اجتماعی شکل کو قرآن و حدیث میں ایک صریح اور مستقل حکم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں؛ لیکن اسے مشروع اعمال، ذکرِ رسول ﷺ، سیرت، درود و سلام، شکر اور اظہارِ مسرت پر مشتمل ایک اجتماعی ذریعہ سمجھنے والے علماء کے پاس قرآن، حدیث، اصولِ شریعت اور فقہی اجتہاد کی بنیاد پر قابلِ ذکر علمی استدلال موجود ہے۔
اسی طرح میلاد کی ہر مجلس کا حکم اس کے مشمولات کے مطابق بھی دیکھا جائے گا۔ اگر مجلس میں قرآن، درود، سیرت، صدقہ، وعظ اور جائز اظہارِ محبت ہو تو اس کی نوعیت مختلف ہوگی؛ اگر اس میں اسراف، اختلاطِ نامشروع، ریا، جھوٹ، غیر ثابت شدہ روایات کو یقینی عقیدے کے طور پر پیش کرنا یا دیگر شرعی ممنوعات شامل ہوں تو ان امور کا حکم الگ سے متعین ہوگا۔
21۔ حتمی کلمات
میلاد النبی ﷺ کا مسئلہ دراصل صرف "جشن منانے یا نہ منانے" کا مسئلہ نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ، شکرِ نعمت، ذکرِ سیرت، عبادت، بدعت، عرف اور اصولِ فقہ کے باہمی تعلق کا مسئلہ ہے۔
اگر میلاد کا مقصد محض رسم، نمود و نمائش اور ایک ثقافتی تہوار بن جائے تو اس کی روح کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر میلاد کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت سیکھنے، آپ ﷺ کے اخلاق اپنانے، درود و سلام کی کثرت، قرآن سے تعلق، صدقہ و خیرات اور سنت کی عملی پیروی کا ذریعہ بنایا جائے تو اس کی اصل روح محبت کو عمل میں تبدیل کرنا بن جاتی ہے۔
اسی لیے میلاد کی سب سے مضبوط علمی تعبیر شاید یہ نہیں کہ:
"صرف ایک دن جشن منانا ہی میلاد ہے"
بلکہ یہ ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ کی ولادت کو اللہ کی عظیم نعمت سمجھتے ہوئے آپ ﷺ کی سیرت، تعلیمات اور سنت کو یاد کرنا، اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور محبتِ رسول ﷺ کو نیک اعمال کے ذریعے زندہ کرنا میلاد کے بنیادی مفہوم کو تشکیل دیتا ہے۔
البتہ سالانہ مخصوص اجتماع کی شرعی حیثیت پر فقہی اختلاف کو تسلیم کرنا بھی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔ اس اختلاف کو "محبتِ رسول ﷺ" کے اختلاف میں تبدیل کرنے کے بجائے نصوص کے فہم اور اصولِ فقہ کی تطبیق کا اختلاف سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
حواشی و حوالہ جات
[1] القرآن الكريم، سورۃ آل عمران، 3:164۔ آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو مؤمنین پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان قرار دیا گیا ہے۔
[2] القرآن الكريم، سورۃ مریم، 19:15۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن سلامتی کا ذکر۔
[3] القرآن الكريم، سورۃ مریم، 19:33۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن سلامتی کا ذکر۔
[4] القرآن الكريم، سورۃ ابراہیم، 14:5۔ "ایام اللہ" کو یاد کرنے کا حکم۔
[5] القرطبی، الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ ابراہیم 14:5۔ قرطبی نے "ایام اللہ" کے تحت اللہ کی نعمتوں اور اہم واقعات کے متعدد تفسیری اقوال نقل کیے ہیں۔
[6] القرآن الكريم، سورۃ آل عمران، 3:164۔
[7] القرآن الكريم، سورۃ الأنبیاء، 21:107۔ رسول اللہ ﷺ کو رحمۃ للعالمین قرار دیا گیا ہے۔
[8] ایضاً، سورۃ آل عمران، 3:164۔
[9] القرآن الكريم، سورۃ یونس، 10:58۔
[10] ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ یونس 10:58۔ ابن کثیر نے فضل و رحمت کو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت اور دینِ حق سے متعلق قرار دیا ہے۔
[11] القرآن الكريم، سورۃ الأعراف، 7:74۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم۔
[12] القرآن الكريم، سورۃ الضحیٰ، 93:11۔
[13] عبد الرحمن بن ناصر السعدی، تيسير الكريم الرحمن، تفسیر 93:11؛ اس آیت میں نعمتوں کے بیان اور شکر کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔
[14] القرآن الكريم، سورۃ المائدہ، 5:114۔
[15] ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر المائدہ 5:114۔
[16] القرآن الكريم، سورۃ الأحزاب، 33:56۔ مؤمنین کو نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم۔
[17] مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث 1162e؛ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں پیر کے روزے کی نسبت ولادتِ نبوی ﷺ اور نزولِ وحی سے کی گئی ہے۔
[18] صحیح مسلم، حدیث 1162b–1162e؛ اس روایت کے متعدد طرق موجود ہیں۔
[19] صحیح بخاری، حدیث 2005؛ یومِ عاشوراء سے متعلق روایت میں اس دن کی تعظیم اور روزے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم میں بھی اس موضوع کی روایات موجود ہیں۔
[20] جلال الدین سیوطی، الحاوي للفتاوي، "حسن المقصد في عمل المولد"؛ اسی بحث میں حافظ ابن حجر کے عاشوراء
سے استدلال کا ذکر منقول ہے۔
شیخ محمد یاسین
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا