آزادی، مکمل یا ادھوری؟

محمد علی چھیاسی سالہ بزرگ تھے۔ ہر 14 اگست کو وہ روتے۔ لوگ ان سے کہتے کہ یہ تو خوشی کا دن ہے، آپ روتے کیوں ہو؟ سبھی اصرار کرتے، مگر خاموشی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

آخر ایک دن انہوں نے اپنی داستانِ غم کچھ اس انداز سے سنائی کہ محفل میں موجود ہر شخص اشکبار ہو گیا۔

محمد علی کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا تھا، جس کی عمر تقریباً 18 ماہ تھی، جس وقت آزادی کا اعلان ہوا تو ہم بھی قافلوں کا حصہ بن گئے۔ کبھی کسی قافلے کا حصہ بنتے تو کبھی کسی قافلے سے بچھڑ جاتے۔ یوں ہی ہمارا سفر کٹ رہا تھا کہ شام کا سایہ ڈھلنے لگا۔

رات جب تاریک ہو گئی تو قافلے والوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو خاموش رکھو، کوئی آواز نہ نکالے، مبادا یہ کہ کوئی سکھ شور سن کر قافلے کو لوٹ نہ لے اور قتلِ عام نہ شروع ہو۔

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سکھوں کا شور بلند ہوا اور بچے نے گھبرا کر رونا شروع کر دیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ بچہ خاموش ہو جائے، مگر وہ خاموش نہ ہوا۔ میں اس وقت نوجوان تھا۔ خیر، سکھوں نے ہمیں پا لیا۔ لڑائی جھگڑا شروع ہوا، خواتین کی عزت پامال کی جانے لگی، بچوں کو مارا جانے لگا۔

ایک سکھ نے میرے بیٹے کو پکڑا اور ہوا میں اچھال دیا، نیچے نیزہ رکھ دیا۔

بس، وہ منظر مجھے نہیں بھولتا۔ جب میں نوجوانوں کو ڈانس کرتا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ میرے بچے کے مارے جانے پر ڈانس کر رہے ہیں یا خواتین کی عصمت دری پر؟

اور میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے نوجوان کن چیزوں میں پھنس چکے ہیں۔ محمد علی جیسے ہزاروں بزرگ ہیں جو اپنے سینے میں درد رکھے ہوئے ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ پرچمِ ہلال لہرانے کے ساتھ ساتھ انڈین گانوں کی دھمک اور ڈانس کرتے نوجوان، بچے، بچیاں، اور اگر اس سے آگے بڑھیں تو انگلش گانوں کے ساتھ شراب نوشی، عریانی و فحاشی کا راج ہے۔

کیا ہم آزاد ہیں؟

اگر ہم کہیں کہ ہم آزاد ہیں تو صرف ہماری یہ باتیں ہوں گی، حالانکہ آزادی منانی چاہیے، مگر سجدوں کے ساتھ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں، بچوں کو ذبح کروایا۔

آزادی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے، اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ، نیکی کرنے کے ساتھ، نہ کہ نافرمانی کرنے کے ساتھ۔

آئیے، آج سے عہد کرتے ہیں کہ آزادی منائیں گے، اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ۔ آزادی منائیں گے سجدوں کے ساتھ، تاکہ ہمارے آباؤ اجداد کی روح خوش ہو۔ جس مقصد کے لیے انہوں نے جان کی قربانیاں دیں، جس کلمے کی بنیاد پر کہ وطن وجود میں آیا، جس مقصد کے لیے انہوں نے ہجرت کی، ان کا یہ مقصد پورا ہو گیا ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

وطن تو آزاد ہو چکا
دماغ و دل ہیں غلام اب بھی
پیے ہوئے ہیں شرابِ غفلت
یہاں کے خاص و عام اب بھی

میرے میخانے، وطن کا وہی ہے
کونۂ نظام اب بھی
کسی پہ جام و شراب جائز
کسی پہ پانی حرام اب بھی

غلط ہے تیرا یہ نعرہ، ساقی
نظامِ محفل بدل دیا ہے
وہی شکستہ سی بوتلیں ہیں
وہی شکستہ سے جام اب بھی