بس فرق اتنا ہے ؟
ملخص :گل رضاراہی ارریاوی
"پندرہ اگست 15" یہ جملہ ناقصہ ہے،اور آپ جانتے ہیں کہ جملہ ناقصہ مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر ہے ؛مگر یہ ایسا ناقصہ ہے ،جو معانی کی وسعت، فکر کی گہرائی ،واقعات کا بحر بیکراں، صدیوں کے درد انگیز داستان کا شہ گلستاں، لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کا دبستاں ہے،یہ جملۂ ناقصہ مفہوم ہی نہیں؛ بلکہ مفاہیم ادا کرتاہے سن 47 بھی کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ،سب خود بہ خود سمجھ آجاتاہے کہ واقعہ کیا ہے ،ہوا کیا تھا ہم اسے کیوں اہمیت دیتے ہیں ؟
سوال تو بہت سارے ہیں ،کہ ہندوستان غلام کب ہوا؟ کس کاہوا؟ کس سے ہوا؟کیوں ہوا؟ کس نے غلام بنایا تھا؟ کیوں بنایا تھا ؟ کیسے بنایاتھا؟ اس کی آزادی کی کوشش کی گئی یا نہیں ؟،اگر کی گئی تو کس نے؟ کب کی ؟ کیسے کی ؟ کیوں کی؟ کتنا جانی نقصان ہوا ؟کتنا مالی نقصان ہوا ؟،کتنا دینی نقصان ہوا؟ اور کتنا دنیوی نقصان ہوا؟ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ کیا ہم آزاد ہوۓ یا نہیں؟-
یہ سارے سوالات ہیں ،جو پندرہ اگست کے موقع پر ذہن میں آتے ہیں ، مؤرخ نے اس کو لکھا ہے ،طویل کتابیں اس سلسلے میں لکھی گئی ہیں،کیا ہمیں ان تاریخوں سے واقفیت یا نہیں ؟-
آج ہندوستان میں اکثروں کی تعداد ان لوگوں کی ہے،جو ان تاریخوں سے ناواقف ہے،اور کوئی جاننا بھی نہیں چاہتا اور جو جانتے بھی ہیں تو پورے طور پر واقف نہیں اور کچھ غلط فہمی میں ہیں کہ جنگ آزادی کی پہلی 1857میں ہوئی-
سن 47 میں کیا ہوا تھا پورے طور پر یہ لوگوں کو یاد بھی نہیں کہ
آخر ہم پندرہ اگست 15 کیوں مناتے ہیں ؟،اس میں لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ ہم آزاد ہوۓ؛ لیکن سوال ہے کہ کیا ہم آزاد ہوۓ تھے؟ سب کی اپنی راۓ ہے "راۓ "راۓ ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ ہر راۓ ہر کسی کو پسند آۓ، مگر اظہار راۓ کی آزادی ہر کوئی رکھتا ہے، میرا ماننا ہے کہ ہم آزاد ہی نہیں ہوۓ؛ بلکہ آزادی کی خبر لوگوں میں یونہی پھیلادی گئی، تاکہ ذہن سے ایک جنون ایک اتر جاۓ ،ہم آج بھی اسی غلط فہمی میں جی رہے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، یہ ایک افواہ تھی جو اڑا دی گئی اور ہم نے اسے لپک لیا-
دشمن جھوٹی افواہیں اڑانے میں بہت ماہر رہا ہے ،ہم آزاد نہیں ؛ بلکہ غلامی کی نوعیت بدل دی گئی ، ہم پہلے بھی غلام تھے اور اب بھی غلام ہیں،فرق بس اتناہے کہ پہلے دشمن دشمن سمجھ کر غلام بنایا ،اب دشمن دوست کہہ کر غلام بنایا ، آپ کو کتنی آزادی حاصل ہے؟یہ آپ بھی جانتے ہیں ،آپ کتنا یہاں آزادی رکھتے ہیں؟ یہ آپ کے علم میں ہے،سب کچھ کا ایک پیمانہ آپ کےلئے طے ہے ،آپ اس کو آزادی کہتے ہیں ، ہم اپنے غلامی کاپٹا غیر ملکی طاقت سے چھڑا کر ملکی طاقت کو دے دیا، فرق بس اتنا ہے کہ پہلے کسی اور ہاتھ سے ظلم سہتے تھے اور اب کسی اور ہاتھ سے ،پہلے ہمیں کوئی مرہم دینے والا نہیں تھا نتیجتاً ہم مرجاتے تھے اب ہمیں مریم دینے والا میسر ہے تاکہ دوبارہ ظلم کا نشانہ بنایا جاۓ ،پہلے ہمیں وطن سے وفاداری کی وجہ سے ظلم کیا جاتا تھا جو کہ ہمارےلیے فخر کی بات تھی اور اب غدار وطن اور غیر ملکی الزام دے کر ہمیں ستم کا نشانہ بنایا جاتاہے -
بتاؤ !یہ آزادی ہے ،ہم آزاد اس وقت ہوتے ،جب ہم آپ اپنی راۓ میں آزاد ہوتے ، جب ہم ہرطرح کی ظلم وزیادتی سے محفوظ ہوتے ، اپنی اصل شناخت کے ساتھ پورے ملک میں بےخوف و خطر جانے کی طاقت رکھتے ، ہم مذہبی عمل میں آزاد ہوتے ،ہمارے خلاف ہونے والی سازشوں سے آزاد ہوتے ، الزامات کے زنجیر سے آزاد ہوتے ہمیں بھی اتنا حق ملتا جتنا کہ ایک آزاد آدمی کو ملتا ہے، یہ سوال تو ذہن میں آنا چاہیے کہ کیاہم آزاد ہیں؟ یا پھر ہم کسی خوش فہمی مبتلا ہیں
ہمیں پڑھنا چاہیے تاریخ کے ذریعے شعور پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہمارے ذہن میں سوالات پیدا ہو اور اس کے جوابات کی تلاش و جستجو جاری رہے