IC 1101: کائنات کی دیو ہیکل کہکشاں

کائنات میں ایک ایسی کہکشاں بھی موجود ہے جو ہماری ملکی وے سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ آخر یہ دیو ہیکل کہکشاں کتنی بڑی ہے، اور اس کے اندر کون سے راز چھپے ہوئے ہیں؟

سائنس دانوں نے دریافت کی جانے والی عظیم ترین کہکشاؤں میں سے ایک IC 1101 کا مشاہدہ کیا ہے، جو ہماری ملکی وے کے مقابلے میں حیرت انگیز حد تک وسیع ہے۔

اس دیو ہیکل کہکشاں کا قطر تقریباً 40 لاکھ نوری سال تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ ہماری ملکی وے کا قطر تقریباً 1 لاکھ نوری سال ہے۔ یعنی IC 1101 ہماری کہکشاں سے تقریباً 40 گنا زیادہ بڑی ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ کہکشاں اربوں سال تک چھوٹی چھوٹی کہکشاؤں کے آپس میں ٹکرانے اور ضم ہونے سے وجود میں آئی۔ اسی مسلسل عمل نے اسے کائنات کی عظیم ترین کہکشاؤں میں شامل کر دیا۔

اس میں کھربوں ستارے موجود ہو سکتے ہیں، اور اس کے مرکز میں ایک انتہائی طاقتور سپر میسیو بلیک ہول بھی موجود ہونے کا امکان ہے۔ یہ کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ اس کا حقیقی حجم اور ساخت آج بھی سائنس دانوں کے لیے تحقیق کا موضوع ہے