*وہ انتظار تھا جس کا،یہ وہ سحر تو نہیں* 
_________________________
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
________________________

   آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جو ہر مخلوق کےلیے عام ہے ، یہ ایک فطری چیز ہے بھی ہے اس لیے انسان فطرتاً آزاد ہوتاہے ،وہ پیدا بھی آزاد ہوتاہے ،وہ ہرچیز میں آزادی رکھتاہے ،یہ حق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دی ہے؛ مگر جب کوئی بندہ خالق کی نافرمانی کرتاہے ،توحید کو نہیں مانتا،اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہراتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ بطورِ سزایہ کہتا ہے جب تو مجھے نہیں مانتا،میری عبادت وریاضت ، بندگی اور غلامی قبول نہیں کرتاہے تو جو میرے بندے اور غلام ہیں جو مجھے اپنا خالق ومالک مانتے ہیں، میرے سامنے جس کی کوئی حیثیت نہیں ،جو میرا قدم قدم پر محتاج ہے تو اس محتاج غلام کا غلام بن جو تیرے لیے مزید رسوائی ہے-

بعثت نبوی سے قبل بھی لوگ جنگوں کو فتح کرنے کے بعد ایک انسان دوسرے انسان کو اپنا غلام بناتا تھا اس کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا،ظلم وجبر کی انتہا کردی جاتی تھی ،ان سے خوب کام لیا جاتا تھا،شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد انہوں نے غلاموں کے حقوق مقرر کیے ،ظلم وستم سے منع کیا -

ایک طبقہ یہ سوال کرتاہے کہ اسلام نے غلامی والے نظام کو ختم کیوں نہیں کیا ؟اس کو باقی کیوں رکھا تو جواب یہ ہے کہ جنگ جن سے ہوتی ہے، وہ دشمن ہوتے ہیں اور دشمنوں سے ہوشیار رہنا چاہیے -
ایک صورت تو یہ ہے کہ فتح حاصل کرنے کے بعد سب کو یونہی چھوڑ دیا جاۓ اور مسلمان واپس آجائیں؛ مگر کسی بھی صاحب عقل انسان کا کام نہیں کہ اپنے دشمن کو یوں چھوڑدے تاکہ دوبارہ حملہ آور ہو یہ تو "اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنا"ہوا-

دوسری صورت یہ ہے کہ سب کو قید خانہ میں ڈال دیا جاۓ تو اس سے حکومت کا ایک بڑا صرفہ ان کی دیکھ ریکھ ،کھانے پینے اور دیگر چیزوں میں صرف ہوجاۓ گا جس سے حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اس صورت کو بھی اختیار نہیں کیا جاسکتا -

تیسری صورت یہ ہے کہ سب کولقمۂ اجل بنادیا جاۓ تو پھر یہ اسلام پر ظلم وستم کا الزام ہوگا جو کہ درست نہیں 

چوتھی صورت یہ ہے کہ ان قیدیوں کو بقدرِ ضرورت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا جاۓ ،جس سےوہ اپنی خدمت بھی لے اور ان کی ضروریات بھی پوری کرے، اور یہ دشوار بھی نہیں ،آسانی سے یہ کام کرسکتے ہیں -
اسی ضرورت کے پیش نظر غلامی والی صورت کو ختم نہیں کیا مگر ان کے حقوق مقرر کرکے اسلام نے غلاموں پر احسان عظیم کیا ،ان پر ظلم وستم سے روکا ، ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا-

مختلف بہانوں سے آزادی کی راہیں ہموار کی ، غلاموں کی آزادی پر طرح طرح کے ثواب کا اعلان ہوا ،کفارے میں غلام آزاد کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد ہوسکے ،پھر بدل کتابت ، مدبر ،ام ولد کے ضابطے بناۓ جس سے مزید آسانی آزادی کی راہیں ہموار ہوئی -
یہ سب وہ احکامات تھے، جو پہلے نہیں تھے
خیر رفتہ رفتہ زمانے نے ترقی کی، ایک وقت آیا کہ غلامی کا رسم ورواج ختم ہوگیا اور آزادی کے ساتھ سب رہنے لگے ،مسلمانوں کا غلبہ تھا اس لیےکئی سو سال اس خطۂ اراضی پر حکومت کی ،مگر نسلا بعد نسل یہ حکومت منتقل ہوتی رہی جس کی وجہ سے حکومت کی اہمیت اور اس کی قدر دل سے نکل گئی ، شاہان ہند عیش وعشرت کا شکار ہوۓ ،خدائی نظام سے کھلی بغاوت کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے حکومت چھین لی حالانکہ مرد حق نے سمجھایا؛ مگر مانے نہیں ،خدا نے آزمایا، کچھ لالچی لوگوں کو اس خطہ میں بغرض تجارت بھیجا تا کہ غفلت کے پردے چاک ہوں ؛مگر یہ سمجھے نہیں ، اس کو تجارت کے مواقع فراہم کرتے رہے اور یہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوۓ، کئی سالوں کی جد وجہد کے بعد انہوں نےاپنی منصوبہ بندی میں کامیابی حاصل کی ،اور حکومت میں دخل اندازی شروع کی ، اور یہ قوت دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی-

 مسلمانوں کے زوال کا دور شروع ہوچکا تھا ہر جگہ ناکامی ، بعض جگہ پر مسلم حکمران قوت وطاقت سے مدافعت کررہے تھے ؛مگر کچھ لالچی مسلمان غدار نکل گیے، جس کی وجہ سے فتح شکست میں بدل گئی اور میر کارواں جان جاں آفریں کے سپرد کرکے شہید ہوگیے، علی وردی خان ، نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان نے خوب بہادری کا مظاہرہ کیا ،خوب لڑے ،جب تک زندہ رہے، انگریز خوف کے ساۓ میں جی رہے تھے ،اس کے مرنے کے بعد بھی انگریز اس کے جسم کے قریب جانے سے ڈر رہا تھا، جب اس کے شہادت پر اطمینان ہوا تو 1799ء میں اس کے سینے پر کھڑے ہو کر کہا کہ آج سے یہ ہندوستان ہمارا ہے، وہی ہندوستان جو کبھی عدل وانصاف،امن وامان اور قومی یکجہتی کا بے مثال نمونہ تھا، دولت وثروت کا مخزن تھا،فن تعمیر کا گہوارہ تھا ،جس کی تاریخ کے نمونے آپ کو کتابوں میں ملیں گے،اسی مسلم حکمرانوں نے اس ملک کو نئی شناخت دی،اس کو ترقی کے بام عروج پر لے گیا ،لیکن وقت بدلا تو سب کچھ بدل گیا ، اب خوش حال لوگ بدحال ہوگیے،حاکم محکوم ہوگیے ،غالب مغلوب ہوگیے ،شاہان ہند یا تو شہید ہوگیے یا پس دیوار زنداں میں محبوس ہوگیے اور یہ ہونا تھا چونکہ دور اندیشی کی کمی تھی -

ہندوستان انگریزوں کے تسلط میں آگیا ،ظلم وستم کی تاریکی باشندگان ہند کی مقدر بنی ، پھر کیا تھا روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جانے لگے ، مگر کچھ ماؤں کے سپوتوں نے ذلت بھری زندگی کو پسند نہیں کیا ،وہ انگریزوں کو کھدیڑنے کی فکر میں تھے ،وہ بہادر ،نڈر اور جانباز سپہ سالار تھے ،سینے تان کرکھڑے ہوۓ اور مقابلے کی تیاری کی ، کئی جنگیں لڑی گئیں،اس میں اولا مسلمان پیش پیش تھے کیوں کہ ملک ان ہی کے ہاتھوں سے نکلا تھا تو فکر بھی انہی کو زیادہ تھی ،کئی جنگیں لڑی،علماء کی جماعت ہزاروں کی تعداد میں شہید ہوتے رہے ،شاملی کا میدان کسے یاد نہیں یہ تاریخ کا جلی عنوان ہے کہ 1857ء کو شاملی کے میدان میں کئی علماء شہید ہوۓ ،جنگ میں ناکامی ہوئی ،الحاد ولادینیت کا دور تھا ،لوگوں میں دینی رجحان ہلکا پڑ رہاتھا اور دہلی میں مدارس بند کیے جارہے تھے، علماء بھی شہید ہورہے تھے،حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی اوران کے رفقاء باہمی مشورے سے دیوبند کی غیر معروف بستی میں دینی چراغ روشن کیا، یہ دراصل آزادی ملک کی ایک ترکیب تھی کیوں کہ دہلی میں باہمی مشورے بند کردیے گیے تھے اور اس کی بھنک لگ جاتی تھی ،اس لیے اب اس فکر کو یہیں سے جلا ملنی تھی ،محمود الحسن یہیں سے نکلے، جنہوں ریشمی رومال تحریک چلائی ،جس کے نتیجے میں کئی سال مالٹا کی جیل میں اپنے مایہ ناز شاگرد مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ رہے، ان کے شاگرد بھی بے باک تھے، حق گوئی میں کوئی تأمل نہ کرتے، 1922میں جمعیتہ علما ہند کی بنیاد رکھی گئی اور 1925ء میں ایک تعصب پرست جماعت کی بنیاد رکھی گئی ،ایک نے نہایت بے باکی سے ہندو مسلم کے ساتھ انگریزوں کے خلاف لڑا اور دوسرے نے کائرانہ حرکت کا مظاہرہ کیا ، ایک نے حق بات کھل کر کہی اور دوسرے نے معافی مانگی،ایک نے انگریزوں کی نوازشوں کا انکار کیا اور ایک نے نوازش کی خاطر خطوط لکھے ، ایک جماعت نے پھر ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف جد وجہد کی اور ان کو ملک بدر کرنے میں کامیاب ہوۓ
دوسرے نے معافی مانگنے میں عافیت سمجھی -

لمبی جد وجہد،مسلسل قربانی کے بعد 15اگست 1947 کی صبح نئی کرنوں کے ساتھ آفتاب حریت لیتے ہوۓ آسمان کے افق پر طلوع ہوئی ،پھر متعصب جماعت کے ایک نامور آدمی نے آزادی میں میر کارواں کا کردار ادا کرنے والے شخص کو شہید کردیا ،خیر یہ بھی تاریخ کا تاریک حصہ ہے ،ملک آزاد ہوا ،آزادی کی نئی صبح نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوئی ،لوگوں میں ایک طرح کی خوشی تھی کہ اب ہم راحت کی سانس لیں گے کہ اب ہم آزاد ہوگیے ،کسے معلوم تھا؟ کہ انگریزوں نے ایک ایسے تنظیم کی بنیاد ڈالی ہے ،جو انہیں چین سے رہنے نہیں دیں گے اور انگریز یہ کوشش بہت کررہاتھا اس لیے مندر مسجد کرا کر ہندو مسلم میں کئی لڑائی کرائی،مذہبی جذبات کو بھڑکا کر بھاگا تھا-
 آزاد ہوتے ہی تقسیم ملک کی بات ہونے لگی ؛کیوں کہ عہدے ہندو مسلم دونوں کو محبوب تھے ،یہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی ماننے والے نہیں تھے ،تو محمد علی جناح نے ملک تقسیم کرکے پاکستان بنالیا بہت سے مسلمان ان کے حامی ہوۓ تو رخت سفر باندھ کر چلے گیے-

 ہندوستان میں آزادی کے بعد ہندو مسلم کئی فسادات ہوۓ، جس میں نقصان مسلمانوں نے زیادہ اٹھایا ،جمعیتہ علماء ہندوستان میں رہنے کا قائل تھا کیونکہ یہاں ہمارے آباؤ اجداد کی نشانی ہے ،ہم نے ملک کو سنوارا ہے، یہاں ہمارے بزرگوں کے مزارات ہیں،یہاں ہماری مساجد ہیں ان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ یہ ہمارا اپنا دیش ہیں ،ہمارے اپنے لوگ یہاں ہیں، ہماری زمین ہے ،ہماری مٹی ،ہمارا وطن ہے، یہ سوچ کر بہت سے مسلمان یہیں رہ گیے، اور یہ خواب دیکھا کہ نیا ہندوستان بنائیں گے ،ہندو مسلم اتحاد کی پہلی والی تاریخ رقم کریں گے ،محبتیں بانٹیں گے اور دنیا کو بتائیں گے ہم مذہب میں مختلف ہونے کے باوجود کس طرح مل جل کر رہتے ہیں ؟
خیر مسلمان ہی نہیں ہر مذہب کے لوگ یہاں رکے ،قانون بناۓ گیے ،جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو آزادی راۓ کا حق دیا گیا تاکہ سب اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ رہیں ؛ مگر کچھ سالوں تک اس پر عمل ہوا، مگر زیادہ دن تک یہ بات نہ چلی ،مسلمان اور اسلام کے خلاف سازشیں ہونے لگی ،کچھ مذہبی عناصر نے نفرت پھیلانے کے لیے جھوٹ اور چھل کپٹ کا دامن تھا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جنگ چھیڑ دیا ،بہانے بہانے سے فساد برپا کی گئی ، مساجد کو نشانہ بنایا گیا،کئی مسلمان شہید ہوۓ اور نہ جانے کس طرح کی گندی زبان اسلام اور اس کے مقدسات کے خلاف استعمال کی گئی -
بابری مسجد کا قصہ کوئی پرانا نہیں کیسے؟ بغیر دلائل و شواہد کے توڑ کر اسی جگہ اپنی مرضی کامحل تعمیر کردی ،ایک کے عقائد کا احترام کیا گیا اور دوسرے عقائد کے عزت کو تار تار کیا گیا،-
تاریخ کے ساتھ کھلواڑ اور اس میں تحریف کی سازش تو بہت پہلے کامیاب ہوگئی تھی ؛مگر اس کا اظہار بعد میں ہوا ، بیچارے ناخواندہ یا کم خواندہ لوگ تھے جو پڑھایا اسی کو سچ مان کر سر بسجود ہوکر ہوگیے ،افسوس تو یہ ہے جاہل کو جہالت کا علم نہیں تو کہاں سے علم کی تلاش وتحقیق کریں گے؟ جس سے حقیقت تک پہونچ سکے-

ان جذبات کو اچھالا گیا ان کی آنکھوں میں سیاسی گروہ نے مذہب کی پٹی ڈال دی اور بے لگام گھوڑے کی طرح بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ دیا،انسانیت کیا ہے ؟جانتے نہیں حقیقت کیا ہے ؟مانتے نہیں، اصل بات کیا ہے؟سنتے نہیں،اصل تاریخ کیا ہے؟غور کرتے نہیں؟ بس گنگے بہرے کی طرح کسی کے سہارے بہتے گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے -

آج اس نفرت کا نقصان صرف ہندوستان ہی نہیں؛ بلکہ دنیا ریکھ رہی ہے، اس کا مذاق اڑایا جارہے ،معاشی حالت دن بہ دن تنزلی کی طرف جارہی ہے ،تعلیم یافتہ طبقہ ملازمت سے محروم ہے،باہمی فتنہ و فساد کی وجہ سے ملک کو بے شمار خطرات لاحق ہے ،امن وامان آخری ڈگر پر ہے ،کب ؟کس کے ساتھ؟ کیا سلوک ہوجاۓ ؟کچھ پتا نہیں،ہرطرح پریشانی ،داخلی وخارجی فتنوں کا سامنا ہے پیارا وطن خود خون کے آنسو رو رہا ہے ،تعلیمی انحطاط کا عالم یہ ہے کہ تعلیمی اداروں پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے ،اسکول گاڑی پر حملے کیے جارہے ہیں ،طلبہ کے ساتھ مار پیٹ خود حکومت کروارہی ہے،79 سال میں بے شمار دنگے ہوۓ1992 ء 2002ء '2012ءکے واقعات کس سے پوشیدہ ہے 
یہ سب تاریخ کا المناک باب ہے ،کئی ماؤں کی گود خالی کردی گئی ،کئی بچوں کو یتیم کیا گیا ، کتنے لوگوں کے مکانات توڑ کر بے گھر کردیاگیا، قانون کی بات کریں تو قانون خود قانون پہ شرمندہ ہےکہ وہ صرف ایک طبقہ کے خلاف استعمال ہو رہا ہے اور ایک طبقہ کے سلسلے میں بے بس وخاموش ہے، گویا آپ کہہ سکتے ہیں ہم آزاد نہیں ہے بلکہ آزادی کا ناٹک کررہے ہیں ،ہم نفرتی زنجیر میں قید ہیں ،ذہنی توازن کھو چکے ہیں ،امن وامان بھول چکے ہیں ،نہ خود سکون سے رہتے ہیں اور نہ کسی کو سکون سے رہنے دیتے ہیں - 
افسوس کہ جو خواب بزرگوں نے دیکھا وہ شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا اور ایک طبقہ کے ہاتھ میں اقتدار آئی اور ایک طبقہ بالکل ہی خالی ہاتھ رہا اور انتخاب کے وقت یتیم بچے کی طرح مختلف سیاسی جماعتوں کے گروہ میں شامل ہوکر جھنڈا اٹھانے کا کام کرتاہےـ

یہ سیاسی محرومی مسلمانوں کی پہلی غلطی تھی ،جس کی بنیاد پر ظلم کی عمارتیں ان کے خلاف تعمیر کی گئی ہے ،کیا کیاظلم نہیں ہوۓ؟ آزادی کے بعد سے مسلمانوں نے کبھی بھی راحت کا سانس نہیں لیا، ہمیشہ کسی نہ کسی مسائل شکار بناکر ظلم کا نشانہ بناگیا ،اس کے جذبات کو غداری جیسے الفاظ کے ذریعے مجروح کیا جاتاہے ،حالانکہ یہ سب جانتے ہیں مسلمان ہی اس ملک سچے وفادار ہیں ورنہ یہ غدار کہنے والے آج بھی کسی کی غلامی کررہے ہوتے، غدار وفادار کو غدار کہے تو غدار کو کیا کہے، یہ عجیب بات ہے، 
خیر یہ بیچارے اپنے کو کسی اور کے حوالے کرچکے ہیں اگر وہ دن کو رات کہہ دے کہ تو اس کو آنکھ بن کرکے سچ جانیں گے -
یہ وطن عزیز کئی زخموں کا شکار ہے، انگریزوں کے زخم سے چور تھا تو اپنوں سے شکایت کی ،اب اپنوں کے زخموں کا شکار ہے تو کس سے شکایت کرے؟
کاش یہ آج کا مقتدر جماعت بھی آزادی وطن میں کچھ حصہ لے لیتی تو انہیں آزادی کا مفہوم سمجھ آتا-

جو خواب ہمارے لوگوں نے دکھا اس کی تعبیر کسی کو نہ ملی ،جس کی تمنا مجاہدین آزادی نے کی وہ لیت ولعل کے دام فریب کا شکار ہوا -
بہار تو آۓ گی ،آنکھیں تو سب کی کھلے گی ، نقصان تو سب کو نظر آۓ گا مگر وقت لگے گا کیوں ظلمت شب چاہے جتنا بھی طویل ہوجاۓ ،صبح کا عندیہ ضرور دیتی ہے-

اس کائنات ہست و بود میں بے شمار لوگ آۓ ،قوت وطاقت میں خدائی کا دعویٰ کرنے والے لوگ بھی آۓ ؛مگر آج تاریخ میں بے نام ونشاں ہیں ،برے القاب و محاورات سے یاد کیے جاتے ہیں 
بس یہ کہاجاۓ گا کہ 
یہ ہمارے خوابوں کا ہندوستان نہیں،ہماری آرزؤں کا گلستاں نہیں ،جس سحر کی ہم نےتمنا کی وہ سحر نہیں ،جس کےلیے جیلیں کاٹیں،ظلم سہے پھانسی کے پھندے کو خوشی خوشی قبول کیا ،یہ ہندوستان اس قربانیوں کا ثمرہ نہیں، جس کے انتظار میں ہم نے عمریں گزاردی وہ انتظار ہی رہا نہ جانے کب تک انتظار کرنا پڑے گا -
اور کب آزاد ہندوستان کو دیکھیں گے ؟
آج پورے ملک کےلوگ مجبور ہیں ہندوستان کو آزاد کہنے میں اگر یہ نہ کہے تو ڈر اس بات کاہے کہیں ظلم وستم کا نشانہ نہ بنالیاجاۓ -
آزادی راۓ اب براۓ نام ہے ،آپ کچھ بولیے تو فورا کسی کو برا لگتاہے اور اس پر کارروائی ہوجاتی ہے، ہم خوشیاں لاکھ منائیں ،ہم آزادی کی جشن قدر بھی دھوم دھام سے منائیں سوال ہمیشہ قائم رہے گا کہ کیا ہم آزاد ہیں؟ حالات پر غور کرنے کے بعد ہوگا کہ ہم غلام تھے اور اب ایک طرح سے غلام ہیں،بس نوعیت بدل گئی،پہلے دشمن غلام بنایا ،اب پیار سے دوستوں نے غلام بنایا لیکن ٹائل غلام کا ہی ہے ،بس یہی کہا جاۓ گا کہ ہمیں اپنے خوابوں کا ہندوستان نہیں ملا-

فیض احمد فیض کا یہ شعر آج کے ہندوستان کی درست عکاسی کرتاہے 

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر 
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں