لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ تدفین کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ میت کو غسل دیا جا چکا تھا۔ اب وہ مرحلہ شروع تھا جب ہر کوئی آ کر آخری دیدار کر لے، اس کے بعد اسے سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

وہ شخص جسے دیکھنے کے بعد اب شاید صرف خوابوں میں دیکھا جا سکے، یا پھر وقت گزرنے کے ساتھ یادوں سے بھی محو ہو جائے۔

محرم اور غیر محرم، ہر طرف لوگوں کی آمد تھی۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ صفِ اوّل میں رہ کر آخری دیدار کی سعادت حاصل کر لے۔

مگر ذرا ٹھہریے!

یہ اس شخص کی میت تھی جس نے اپنی زندگی میں نامحرم عورتوں سے حتی الامکان اپنی نگاہ اور اپنا چہرہ بچائے رکھا تھا۔

اگر کبھی اتفاقاً یا کسی مجبوری کے تحت نظر پڑ جاتی تو فوراً نگاہ پھیر لیتا۔ کبھی ایسا مرحلہ آ جاتا کہ آمنا سامنا ہو جائے تو وہ اپنا چہرہ دوسری سمت پھیر کر کھڑا ہو جاتا، تاکہ بے پردگی نہ ہو اور سامنے سے گزرنے والے بھی آسانی سے گزر جائیں۔

کبھی کسی نامحرم سے گفتگو کی ضرورت پیش آتی تو دروازے کے پیچھے کھڑے ہو کر چند ضروری جملوں میں بات مکمل کر لیتا۔

یہ اس وقت کی بات تھی جب جسم میں جان تھی، اختیار تھا، اور اپنے جسم و نگاہ پر قابو رکھنے کی قدرت تھی۔

مگر آج؟

آج وہ بے بس تھا۔

اس کی روح جسم سے پرواز کر چکی تھی۔ اب وہ نہ اپنی نگاہ جھکا سکتا تھا، نہ اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر سکتا تھا، نہ اپنے لیے پردے کا انتظام کر سکتا تھا۔

اور آج وہ ان لوگوں کے درمیان تھا جن سے اس نے اپنی زندگی میں پردہ اختیار کیا تھا۔

مگر سوال یہ ہے:

اگر میت بے بس ہو گئی ہے تو کیا زندہ لوگوں کی ذمہ داری بھی ختم ہو گئی؟


کیا صرف “آخری دیدار” کے نام پر وہ حدود بھلا دی جائیں گی جن کی حفاظت کے لیے اس شخص نے اپنی پوری زندگی کوشش کی؟

اسلام نے محرم اور غیر محرم کے درمیان واضح حدود مقرر فرمائی ہیں۔ کن رشتوں سے پردہ ہے اور کن سے نہیں، شریعت نے اس کی وضاحت کر دی ہے۔

میت بے اختیار ہو جاتی ہے، لیکن زندہ انسان کے لیے حیا، نگاہ اور پردے کے شرعی تقاضے اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔

اس لیے کسی میت کے آخری دیدار کی خواہش اپنی جگہ، مگر اس خواہش کے ساتھ میت کی حرمت، حیا اور شرعی حدود کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔

سوچیے!

جو شخص زندگی بھر نامحرم سے اپنا چہرہ چھپاتا رہا، کیا اس کے جانے کے بعد ہمارا یہ حق بن جاتا ہے کہ “آخری دیدار” کے نام پر اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے بے احتیاطی کریں؟

میت بے بس ہے، مگر ہم بے بس نہیں۔

وہ اپنے لیے پردے کا اہتمام نہیں کر سکتی،
ہم اس کے لیے کر سکتے ہیں۔

وہ اپنی نگاہ نہیں جھکا سکتی،
ہم اپنی نگاہ جھکا سکتے ہیں۔

وہ اپنی حرمت کی حفاظت خود نہیں کر سکتی،
ہم اس کی حرمت کا احترام کر سکتے ہیں۔

اور یہ بات صرف مرد کی میت تک محدود نہیں۔

چاہے میت مرد کی ہو یا عورت کی، ہمیں اس کی حرمت، حیا اور پردے کے تقاضوں کا احترام کرنا چاہیے۔

خاص طور پر وہاں جہاں زندگی میں کسی شخص نے پردے اور حیا کو اپنی پہچان بنایا ہو، وہاں اس کے انتقال کے بعد بھی اس کی اس حیا کا احترام ہماری ذمہ داری اور ہمارے اخلاق کی علامت ہونا چاہیے۔

یاد رکھیے!

موت کسی انسان کو بے اختیار کر دیتی ہے، لیکن زندہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکام ختم نہیں ہوتے۔

آخری دیدار محبت ہو سکتا ہے،
مگر محبت کے نام پر شرعی حدود کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

کسی کی زندگی بھر کی پردہ داری کا احترام کیجیے۔

شاید اس کی خاموش میت بھی ہمیں یہی سبق دے رہی ہو:

“میں اب اپنے لیے پردہ نہیں کر سکتا…
اب میری حرمت کی حفاظت تمہارے اختیار میں ہے۔”


اللہ تعالیٰ ہمیں حیا، پردے، نگاہ کی حفاظت اور میت کی حرمت کا صحیح شعور عطا فرمائے۔ آمین۔
ازقلم:زا-شیخ