*وطن کی خاک سے وابستہ ہے ہماری پہچان*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
13 اگست 2026ء
________________________________
پندرہ اگست کو پورے ہندوستان میں یوم آزادی منائی جاتی ہے ترنگا لہرایا جاتا ہے خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں اور چاکلیٹ تقسیم کیے جاتے ہیں یہ دن اور اس کی خوشیاں جو اس ملک کو نصیب ہوئیں وہ اس وجہ سے کہ ہمارے اکابر اور اسلاف نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے جانوں کی بازی لگائی اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جنگ آزادی کا مختصر تذکرہ کیا جائے اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا جائے کہ کیا ہمارا ملک واقعی ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے؟ کیا ہم ہمارے ملک میں آزادی سے سانسیں لے رہے ہیں؟ کیا سچ مچ ہمارے ملک کو اس وقت آزاد جمہوری ملک جس میں سب کے حقوق یکساں اور برابر حاصل ہوتے ہیں کہے جانے کا حق ہے؟ کیا ہند کا ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں سب بھائی بھائی کے مصداق ساروں کو جینے زندہ رہنے ہر ایک کو اپنے مذہب اور عمل پر قائم و دائم رکھنے کا پورا پورا حق دیا جا رہا ہے؟
اس سال ہمارے ملک ہندوستان کو آزاد ہوئے 78 سال مکمل ہونے اور 79 ویں ہندوستانی یوم آزادی کا جشن منایا جائے گا۔ ہندوستان ان تمام رہنماؤں کو سلام کرتا ہے جنہوں نے ماضی میں ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے لیے برطانوی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ہمارے رہنماؤں آزادی پسندوں اور عام لوگوں نے مل کر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور آزادی کے حصول کے لیے پرعزم تھے۔ اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں شامل افراد کا تعلق مختلف مذاہب ذات برادری اور ثقافت سے تھا۔
آزادی کا دن ہے یہ دن ہمارے وطن کی آزادی اور خود مختاری کی دلیل ہے جو ہمیں برطانوی حکومت سے حاصل ہوئی۔ 15 اگست کو قوم جشن مناتی ہے تاکہ اپنے شہداء اور جنہوں نے آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ان کو یاد کیا جا سکے۔
اس دن کو منانے کا مقصد نہ صرف اپنی آزادی کی خوشی منانا ہے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنا اور ملک کی ترقی کے لیے ایک نئی جستجو پیدا کرنا بھی ہے۔ ہر سال اس دن مختلف مرکزی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں ہمارے اکابرین اور دیگر قومی رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ مدرسوں اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جن میں طلباء و طالبات ملک کی خوشحالی کے لیے عہد کرتے ہیں۔
جب جب زندگی میں 15 اگست کا دن آتا ہے تو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کا حقیقی مطلب کیا ہوتا ہے اور ہمیں اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے۔
میں جشن کیسے مناؤں جب آج بھی لاکھوں انسان غربت بے روزگاری بھوک اور محرومی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟ میں خوشی کے نغمے کیسے گاؤں جب انصاف کے دروازے کمزوروں کے لیے اکثر بند محسوس ہوتے ہیں؟ میں خوشی کیسے مناؤں جب کئی گھروں میں اندھیرا کئی آنکھوں میں آنسو اور کئی دلوں میں مایوسی بسی ہوئی ہے؟
ہندوستان کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا جان و مال کی قربانیاں دیں تحریکیں چلا ئیں تختہ دار پر چڑھے پھانسی کے پھندے کو جرات و حوصلہ اور کمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور حصول آزادی کی خاطر میدان جنگ میں نکل پڑے آخر غیر ملکی ( انگریز ) ملک سے نکل جانے پر مجبور ہوئے ۔
غیر ملکی حکرانوں نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کےلیے طرح طرح کی چالیں چلیں تدبیریں کیں رشوتیں دیں۔
پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کا اصول بڑے پیمانے پر اختیار کیا فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا آپس میں غلط فہمیاں پھیلائیں تاریخ کو مسخ کیا انگریزوں نے ہندوستان کے معصوم باشندوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے اور ناحق لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا ہندوستانیوں پر ناحق گولیاں چلا ئیں چلتی ریلیوں پر سے اٹھا کر باہر پھینکا مگر ان کے ظلم وستم کو روکنے اور طوق غلامی کو گردن سے نکالنے کے لیے بہادر مجاہدین آزادی نے ان کا مقابلہ کیا اور ملک کو آزاد کر کے ہی اطمینان کا سانس لیا۔
ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا حصہ قدرتی طور پر بہت ممتاز رہا ہے انھوں نے جنگ آزادی میں قائد اور رہنما کا پارٹ ادا کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدار مسلم حکمرانوں سے چھینا تھا اقتدار سے محرومی کا دکھ اور درد مسلمانوں کو ہوا انھیں حاکم سے محکوم بننا پڑا اس کی تکلیف اور دکھ انھیں جھیلنا پڑا اسی لیے محکومیت و غلامی سے آزادی کی اصل لڑائی بھی انھیں کو لڑنی پڑی۔
جس ملک کو آزاد کرانے کے لیے ہمارے اکابرین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا طرح طرح کی مشقتیں برداشت کیں آج اسی ملک میں مسلمانوں کو مختلف قسم کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں طرح طرح سے پریشان کیا جا رہا ہے ہر معاملے میں ہندو اور مسلمان کی تفریق پیدا کی جا رہی ہے اور ہماری شناخت کو مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ یہ ملک جتنا غیر مسلموں کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے۔ شعر
وطن کی خاک سے وابستہ ہے ہماری پہچان
یہی ہے دل کی دھڑکن یہی ہے ہندوستان
اللہ ربّ العزت ہمارے وطن ہندوستان کو امن سلامتی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔