*خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل* 

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

انسان اشرف المخلوقات ہے ،وہ حس و ادراک کے ساتھ عقل و شعور کی صفت بھی رکھتاہےجس سے یہ ہر چیز کی حسن وقبح کو سمجھتا ہے ،اسی عقل کی وجہ سے ہر کام کو احسن طریقے پرانجام دینے کی کوشش کرتا ہے،چاہے عقل و شعور ہو یا حس و ادراک یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیاہے تاکہ وہ اپنی زندگی اس کے مرضیات کے مطابق گزارے ،اس کو مانے اور اس کی مانے ،اپنی زندگی اصول پسندی،درست مسلک ومشرب ،بہتریں ترجیحات کے ساتھ گزارے،ایسی زندگی ہو، جس میں لوگوں کےلیے بہترین سبق ہو ،تاریخ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو ،کیوں کہ تاریخ ہر ایک کو اس کی صفتوں کے ساتھ یاد رکھتی ہے،اس کے کارنامے کو محفوظ رکھتی ہے تاکہ نسل نو کو اس سے سبق ملے -

اس عالم فانی میں بے شمار اقوام نے جنم لیا اور دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،اپنے جوہر دکھاۓ،اپنے نقوش کے گہرے اثرات تاریخ کے اوراق میں ثبت کیے ہیں ؛مگر دنیا میں وہی قوم تاریخ کا بہترین باب سمجھے جاتے ہیں، جو اپنے اصول ،اپنے موقف اور اپنے مسلک ومشرب پر صبر و استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہے -
تاریخ نے ایسے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جن کی زندگی جہد مسلسل سعی پیہم، اور بے انتہا قربانیوں سے عبارت ہے-

مسلمانوں کی زندگی ان تمام تر صفتوں کے ساتھ متصف رہی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ زمانے نے ان سے بہت سی مرتبہ رخ پھیرا ہے،ان کے لیےحالات دگر گوں ہوۓ ہیں ،لوگوں نے ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ،دشمنوں نے ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا ،ان کے خلاف جان توڑ کوشش کی گئی ؛مگرانہوں نے کبھی بھی اپنے اصول،عقائد اور موقف سے انحراف نہیں کیا؛ بلکہ صبر واستقامت ، بہادری اور دلیری سے اس کا مقابلہ کیا،یہ قوم مصائب وآلام سے کبھی نہیں گھبرائی،تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں ان پر زمین تنگ کی گئی ،ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گیے ،انہیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی تاریخ تو پرانی ہے مگر یہ ہر فتنوں کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے رہے ،کیا کیا سازش نہیں کیا گیا ،اندلس میں مسلمانوں کے وجود کو ختم کردیا گیا ،برما سے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کہ گھناؤنی سازش کی گئی، ملک شام وعراق کےلوگوں پر بم بارود گراکر ان کو موت کے منھ میں ڈالا حالیہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی نسل نے انسانیت کو شرمسار کردینے والا رویہ اختیار کیا ،ان کےلیے کھاناپانی پر بندش لگادی گئی ،لوگوں نے بھوکے پیاسے ملبے کے نیچے جان دے دی؛ مگر ایمان کے ساتھ سودا نہیں کیا، لاکھوں لوگوں کو ان کے سامنے شہید کردیا گیا مگر وہ ڈرے نہیں،انہوں نے صبر کے دامن کو تھامے رکھا، بچے، بوڑھے جوان ،مرد وعورت سب نے مل کر ان حالات میں رب کے حضور اپنے کو پیش کیا مگر کسی کے سامنے جھکے نہیں، یہ بہادری نے دشمن کو رعب میں ڈالا ہوا تھا کہ ہم مٹ کے بھی مٹیں گے نہیں،ہم دب کے بھی دبیں گے نہیں ،بلکہ دنیا کے ظاہری تصویر سے مٹ کر دائمی تصویر یعنی تاریخ کے نقوش کا حصہ بنیں گے ،ہم دبیں گے بھی ابھرنے کےلیے،یہ ہماری تاریخ ہے کہ ہم نے کبھی حالات سے سمجھوتا نہیں کیا بلکہ حالات کا مقابلہ نہیں کیا کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم اس میں شکست بھی کھالیں تو بھی ہماری فتح ہے کیوں کہ ہم شہادت کو بھی سعادت سمجھتے ہیں،ہمارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، ہم اس کے ہر فیصلہ پر راضی رہتے ہیں -

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے 
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

یہ روشن تاریخ ایسے مسلمانوں کی ہے جنہوں نے اللہ سے محبت ،رسول اللہ سے عقیدت ، دین واسلام سے الفت رکھا،جو انبیا کرام اور صحابۂ کرام کی قربانیوں کو جانتے تھے، اس لیے یہ سب کچھ کرگیے؛مگر منافقوں کی بھی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے ،جس میں دین سے بیزاری ،مفاد پرستی ،سوداگری ، بدعہدی وغیرہ شامل ہے، ایسے لوگ ہر دور میں رہے ہیں، جو کاسہ لیسی کا کام کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنے آقاؤں سے چند روٹی کے ٹکڑے مل جاۓ ، جس سے وہ دنیا کی بھوک مٹا سکے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں منافق بھی تھے جو حلیہ میں مسلمان ہوتے تھے نماز پڑھتے تھے؛ مگر اندر سے وہ حامیان کفر اورباغیان دین تھے اور مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے درپے تھے -

آج بھی کچھ لوگ بظاہر مسلمان لگتے ہیں ،ان کی بات چیت ،رہن سہن میں آپ کو اسلامی روش نظر آۓ گی ،خود کو مسلمان بھی کہیں گے اور موقع لگے تو خود کو ایسے مسلمان ظاہر بھی کریں گے جو وقت کا جنید بغدادی معلوم ہو؛ مگر یہ اپنے مفاد کےلیے کرتے ہیں تاکہ انہیں کسی طرح کا نشانہ نہ بنایا جاۓ -

ہمارے یہاں بہت سے لوگ تو بیچارے بھائی چارے میں اپنے اصول سے ہٹ جاتے ہیں اور دین کی بنیاد کو بھی ہلا دیتے ہیں جو کہ نہیں کرنا چاہیے،کچھ لوگ اپنے مفاد میں یہ کچھ کرتے ہیں یہ دونوں غلط ہے-

ہمارے یہاں جمہوریت کا نظام ہے، یہاں ہر مذاہب کےلوگ رہتے ہیں ،انسانی حقوق میں ہم سب کے ساتھ ہیں ،سب کا احترام کرتے ہیں؛ مگر ہم ان کے نظریات کے حامی ہوجائیں یہ نہیں ہوسکتاہے، دین کے معاملات میں موقف صاف ہے،انہیں ان کادین مبارک اور ہمیں ہمارا دین،آپ اپنے مذہب پر عمل کریں ہمیں اس سے کوئی پریشانی نہیں اور ہم اپنے دین پر عمل کریں گے اس میں کسی کو پریشانی نہیں چاہیے،مگر ہم آپ کے ساتھ دین میں اتفاق کرلیں یہ خود اتحاد و اتفاق کے اصول کے خلاف ہے ؛جس طرح ہر چیز میں اختلاف درست نہیں اسی طرح ہر چیز میں اتفاق بھی ضروری نہیں،اس لیے ہر دکھنے والے کو مسلمان سمجھنا بھی غلطی ہے ،ہم اپنے وجود کو ختم کرکے نہیں رہ سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے اصل شناخت کو باقی رکھتے ہوۓ ملک وملت کے ساتھ وفادار تھے ،ہیں اور رہیں گے -
کچھ لوگ اسلامی حلیہ میں دوسرے مذہب کی رسومات ادا کررہے ہیں یہ خود ان کے مذہب کے اصول و ضابظے کے خلاف ہے اس کو غور کرنا چاہیے کیوں کہ ہر مذہب کا اپنا شعار ہے اس کو کیسے چھوڑا جاسکتا ہے،محض کسی کو خوش کرنے کےلیے یہ کرنا درست نہیں -

ایسے دو رخے لوگوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا ہے!

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل 
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں