اعتراض ۔۔
مسلمان کہتے ہیں کہ شیطان انسان کو بہکاکر برا کام کراتا ہے ۔۔اس پر اعتراض یہ ہوتا ہے کہ شیطان کا بہکانے والا کون ہے؟
اسکو بہکانے والا کویی نہیں ہے لہذا شیطان کویی چیز نہیں ۔جب شیطان ہے ہی نہیں تو وہ بہکاتا نہیں ہے اور نہ برا کام کراتا ہے بلکہ انسان اپنے آپ برا کا م کرتا ہے ۔۔۔۔۔
جواب ۔۔حضرت حجۃ اللّٰہ فی الارض نے الزامی جواب دیا ہےجسکا خلاصہ ہےکہ سوال کے تین جز ہیں
(١) شیطان کے وجودکا انکار کرنا اسلیے کہ شیطان کا بہکانے والا کوئی نہیں ۔۔
پھر تو آگ کا گرم کرنے والا ۔آفتاب کو روشن کرنے والا بھی
کویی نہیں ۔
لہذا آگ اور سورج کے وجود کا انکار کرنا ضروری ہوگا۔۔
(٢)شیطان کا انسان کو بہکانا غلط ہے
۔تو پھر آگ کا پانی کو گرم کرنا ۔آفتاب کا زمین کو روشن کرنا بھی غلط ٹھہرا
اس سے بڑھ کرخدا کے وجود کا انکاربھی لازم آئے گا ۔اس لیے کہ خدا کا پیدا کرنے والا کویی نہیں ۔ولم یولد
اور عالم کا مخلوق خدا ہونابھی غلط ہوجائے گا ۔۔
(٣)انسان خود بخود برا کام کرتا ہے ۔کویی برا کام نہیں کراتا
یہ ایسے ہی ہوگیا کہ کہا جائے :کہ مخلوقات بھی اپنے آپ پیدا ہوگئی ہے کویی خالق نہیں ۔پانی بغیر آگ کے خود بخود گرم ہوگیا ۔زمین بغیر آفتاب کے خود بخود روشن ہوگیی ہے ۔۔
یہ سب چیزیں باطل وبیکار ہیں
تو پھر اعتراض بھی فرسودہ ہے ۔۔
(انتصار الاسلام ۔ص.٣٤.٣٥)
محمد شعیب قاسمی سیتاپوری
خویدم
مدرسہ دارالرشاد بنکی بارہ بنکی