*والدین کی کوتاہی اور بچوں کا ڈوبتا ہوا مستقبل*

آج گھروں میں ایک عجیب منظر عام ہے،ماں موبائل میں مصروف،باپ دیر سے جاگنے کے عادی،اور بچے بھوکے پیٹ اور نیم سوئی آنکھوں کے ساتھ اسکول اور مدرسے کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ کوئی معمولی غلطی نہیں،یہ آنے والے کل کی بربادی کی بنیاد ہے،مالیگاؤں کے گھروں میں یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، والدین صبح کی ذمہ داریوں کو معمولی سمجھ رہے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ صبح کا وقت بچے کے مستقبل کا دروازہ ہے،اور جب تک صبح کے وقت میں اسکو ایکٹو نا کیا جائے گا پھر آپ کیا سمجھتے ہیں وہ مجاہد بنے گا،آپ کیا سمجھتے ہیں فقط آرام ہی اس کا مقدر ہے، جب یہ سوچیں ہمارے ذہن میں پہلے سے ہوں گی تو مجھے بتاؤ خدارا وہ بچے کیسے کسی اعلٰی مقام پر پہنچ سکتے ہیں، اگر شاید آپنے ہندوستان میں کامیابی حاصل کرنے والے ان چیپٹرس کا مطالعہ کیا ہو جس میں لکھا ہے کہ%60 مسلمان بچے پڑھتے ہیں اور اس میں کچھ 10th کچھ 12th کچھ BA, or MA کرکے گھر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ اس اعلی مقام تک نہیں پہنچ پاتے جہاں جا کر نوکریاں ملتی ہیں بلکہ حالت یہ ہے کہ %02 سے %03 مسلم بچے رہ جاتے ہیں جو وہاں پہنچتے ہیں، پھر بھائی یقینی بات ہے جب اتنے کم لوگ پہنچے گے تو اتنے ہی کم کی سرکاری نوکری ہوگی، بھائی وہاں تک پڑھو نا تب ہی تو نوکری لگے گی پھر ہمارا یہ کہنا کہ سرکار نوکری نہیں دے رہی یہ ایک حماقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں بلکہ سچی بات یہ ہے کہ ہم وہاں تک پہنچ ہی نہیں رہے جہاں کے سرکاری نوکری ملتی ہے۔

ہمارے بزرگ رات جلدی سوتے، صبح جلدی اٹھتے، فجر کے بعد کے وقت کو علم عبادت اور محنت میں لگاتے،اسی نظم میں ان کی کامیابی چھپی تھی،آج ہم رات دیر تک جاگ کر صبح کی برکتیں نیند میں ضائع کر دیتے ہیں،اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ سکون کیوں نہیں،رزق میں تنگی کیوں، اور بچے کمزور کیوں ہیں، شاید کے آپنے قرآن مقدس کی وہ تمام آیات پڑھیں ہوں جو چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ اللہ نے دن کو معیشت کے لیے اور رات کو آرام کے لیے بنایا ہے، اب میں پوچھنا چاہوں گا والدین آپنے پچاس ہزار کا موبائل لے کر دیا پھر آپ بھول گئے ہمارا بیٹا کیا کرتا کب تک جاگتا ہے، کب سوتا ہے کیا کرتا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی ذمے داری آپکے بچے سے ختم ہو گئی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب باپ خود شرابی ہو تو بیٹے کو شراب سے کیسے منع کر سکتا ہے،جب خود کو فون اور ٹیوی سوشل میڈیا سے فرصت ملے گی تبھی تو پوچھیں گے،آج قوم مسلم کے زوال میں سب بڑا ہاتھ والدین کا ہے، ورنہ آج بھی تاریخ کے پنّے گواہ ہیں کہ جب انکی تربیت اسلام کے طور و طریقہ پر کی جائے پھر وہ دن دور نہیں،جب یہ مجاہد، مفسر، مبلغ، مدرس، مفکر، بنتے ہوئے نظر آئیں گے، انشاءاللہ العزیز۔

دوسرے مذاہب بھی ہیں،ہم اسلام کے ماننے والے ہیں قرآن سچی کتاب ہے اسی قرآن کریم کی بےشمار آیات اس چیز کا تقاضہ کرتی ہیں مسلمان عقلمند ہے مسلمان ہوشیار ہے مسلمان کامیاب ہے پھر ان تمام چیزوں کے باوجود نا کامی مسلمانوں کا مقدر کیوں؟

بھائی ہمارے پاس اصول ہے لیکن عمل کرنے والا نہیں،ہمارے پاس تہذیب ہے لیکن اس تہذیب پر کارگر کوئی نہیں، یہ بات حقیقت ہے ہم مسلمان کامیاب ہیں ہوشیار ہیں، عقلمند ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن بھائی دنیاوی پلاٹ فارم پے اتر کے دیکھا جائے، تو معاشی اعتبار سے بھی ہم ہی کمزور ہیں،خدارا میں نے تاریخ ان صفحات کو پڑھا ہے جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے،اور اسلامی ریاست کو عروج ملا پھر ایک ایسا زمانہ بھی آیا اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اتنا مال عطا فرمایا تھا کہ انہیں اپنے مال کی ذکٰوۃ، خیرات، اور عشر کے لیے بیت المال بنوانے پڑے تھے،مسلمان تو دور دوسرے غریب طبقے کے لوگ بھی مالدار ہو گئے تھے، اور اب ہر انسان اپنی ذکٰوۃ کو لیکر ہاتھوں پر پھرا کرتا تھا لیکن کوئی مستحق ذکوٰۃ نظر نہیں آتا تھا یہ دور بھی اسلام نے دیکھا،ہمیں سمجھنا ہوگا بھائی اسلام کوئی غریبی سکھانے کا مذہب نہیں بلکہ ہمیشہ ترقی کا قائل ہے۔

لیکن ہم نے اپنی نیند کے سبب صبح کے خوشنما وقت کو ضائع کر دیا اور بھول گئے کہ کیا تعلیم دی تھی پیغمبر اسلام ﷺ نے اور کیا فائدہ ہے صبح بیداری کا اور یہی چیز ہمارے بچوں میں داخل ہو رہی ہے، نبی کریم ﷺ نے صبح کے وقت میں برکت کی دعا فرمائی،اس وقت میں سکون ذہنی تازگی رزق کی وسعت اور خیر رکھی گئی ہے،لیکن ہم فجر کے بعد دوبارہ سونے کو معمول بنا چکے ہیں،برکتیں تقسیم ہو رہی ہوتی ہیں،اور ہم کمبل اوڑھے رہتے ہیں،یہ لمحوں کی نہیں نسلوں کی محرومی ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھوکے پیٹ بچے مالیگاؤں میں بڑی تعداد میں ناشتہ کیے بغیر اسکول اور مدرسے جاتے ہیں،نہ پیٹ میں کچھ ہوتا ہے،نہ جسم میں طاقت،ایسا بچہ کیا پڑھے گا،کیا سمجھے گا،کیا مقابلہ کرے گا؟ یہ بچوں کی کمزوری نہیں

یہ والدین کی بے توجہی کا نتیجہ ہے،ناشتہ وقت پر تیار کرکے دینا یہ والدہ کی ذمے داری ہے بھائی آپ حضرات جب اپنے بچوں سے غفلت کا ارتکاب کرتے ہو پھر وہ بچے کیوں وقت کو برباد کرنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جب انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم بھونک کو برداشت کر سکتے ہیں، پھر وہ کھانے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے، خدارا ہمیں اپنے بچوں پر توجہ دینا ہوگا سمجھنا ہوگا سکھانا ہوگا،اور یہ ذمے داریاں والدین کی ہیں اور جب یہ وقت گزرنے کے بعد خیال کریں گے پھر وہ بچے بڑے ہو چکے ہوں گے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ ملتے ہوئے رہ جائیں گے پھر کچھ یوں ہوگا کہ: نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم،نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے،ہمیں اپنے بچوں پر توجو دینی ہوگی۔

اسی میں سے تیاری بھی تربیت کا حصہ ہے،صفائی،سلیقہ،کپڑوں کی درستگی،تیل،ٹوپی یا دوپٹہ،بستہ،پانی،چھوٹا ناشتہ، یہ سب بچے میں ذمہ داری پیدا کرتے ہیں اور جب گھر والے ہی لاپروا ہوں تو بچے کیسے ذمہ دار بنیں گے،آج کی چھوٹی غفلت کل کی بڑی غلطی بن جاتی ہے،آج کی سستی کل کی نافرمانی کی شکل میں سامنے آتی ہے، *اور اس بات کا خاص خیال رکھا،جائے نہ حد سے زیادہ چھوٹ دی جائے،اور نہ حد سے زیادہ سختی کی جائے، بلکہ اسلام کا نطریہ فکر تو یہ ہے کہ ہر چیز میں کہ اعتدال(درمیانی)والی صورت رکھی جائے*

اور یہ سب سے بہتر ہے،اور یہی اسلام کا اصول بھی ہے اور اسی سے اسلام کے سچا اور یقینی مذہب ہونے کا بھی اعتقاد ہوتا ہے،جہاں اسلام سختی دیکھتا ہے وہاں سختی سے عمل کرنے کا بھی قائل ہے،اور جب نرمی دیکھتا ہے تو نرمی کا بھی قائل ہے ہمیں ضرور سوچنا ہوگا اس کے بارے میں۔

لیکن ہمارا رویہ عمل تو موسم کی تبدیلی سے بھی بدل جاتا ہے،سردی سب سے بڑا بہانہ،جیسے ہی سردی آتی ہے گھروں میں ایک جملہ گونجتا ہے،سونے دو سردی ہے،اگر سردی ہے تو کپڑے گرم کرلیں،آگ سے گرماہٹ حاصل کر لیں یہ کس نے کہہ دیا کہ کمبل میں لیٹے رہو،یا جلدی سو جائیں،لیکن سردی کو وجہ بنا کر صبح ضائع کرنا نقصان ہے، فجر کے بعد سونا صرف نیند نہیں،بلکہ بےبرکتی کا بھی سبب ہے،اے والدین:آپ صرف اپنے نہیں

اپنی اولاد کے مستقبل کے بھی جواب دہ ہیں،صبح خود اٹھیں،بچوں کو جگائیں،انہیں تیار کریں،ناشتہ کروائیں،اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں،یہ وہ چند منٹ ہیں جن سے اخلاق بنتے ہیں،گھر میں روشنی آتی ہے،اور بچوں کے مقدر بدلتے ہیں،ہمیں اس بارے میں سوچنا نہیں بلکہ عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

اللہ کریم اپنے حکم کے مطابق ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قوم کے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*