برادران اسلام ! دنیا آزادی، حریت اور حقوق کے جتنے بھی خوشنما دعوے کر لے، انسانی قوانین اور نظریات کی بنائی ہوئی آزادی ہمیشہ ناقص اور ادھوری رہی ہے۔
اگر کسی ملک یا سماج میں انسان کو اپنے خالق کے علاوہ کسی مخلوق، کسی وطن، یا کسی انسانی قانون کے سامنے جبراً جھکنے پر مجبور کیا جائے، یا اسے اپنے رب کے احکام پر عمل کرنے سے روکا جائے، تو یاد رکھیے کہ وہ سچی آزادی ہرگز نہیں ہے، بلکہ وہ بدترین قسم کی ذہنی، فکری اور سیاسی غلامی ہے۔ اسلام دنیا کا وہ واحد اور عالمگیر دین ہے جس نے انسانیت کو ہر قسم کی بندگی، خوف، اور انسانی تسلط کی زنجیروں سے آزاد کر کے حقیقی حریت کا تاج پہنایا ہے۔ اسلام سے پہلے دنیا کا نظام یہ تھا کہ طاقتور کمزور کو اپنا غلام بنا لیتا تھا، حاکم وقت خود کو خدا کہلواتا تھا، اور انسانوں سے اپنے آگے سجدے کرواتا تھا۔
لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے ان تمام باطل خدا کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
تاریخ کا وہ سنہری واقعہ یاد کیجئے جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک حاکم کے بیٹے نے ایک عام شہری پر ظلم کیا، *تو امیر المومنین نے اس حاکمانا غرور اور جبری تسلط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے وہ تاریخی اور عالمگیر جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی انسانی حقوق کا سب سے بڑا منشور ہے ! آپ نے فرمایا: مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا؟ یعنی تم نے لوگوں کو کب سے اپنا غلام بنا لیا، جبکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟"* اسلامی تاریخ کا یہ درخشندہ باب دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ آزادی انسان کو کسی حکومت یا بادشاہ کا دیا ہوا عطیہ نہیں ہے کہ جسے جب چاہے چھین لیا جائے، بلکہ اللہ تعالی کا عطا کردہ پیدائشی اور بنیادی حق ہے۔
اسی طرح جب حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ ایران کے جابر سپہ سالار رستم کے دربار میں پہنچے رستم نے پوچھا کہ تم اس صحرا سے نکل کر ہمارے ملک میں کیوں آئے ہو؟ *تو صحابی رسول نے کسی ملکی فتح، سیاسی اقدار یا معاشی مفاد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اپنے ایمانی جاہ و جلال کے ساتھ اسلام کے پیغامِ آزادی کا خلاصہ ایک جملے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ، وَمِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا إِلَى سَعَةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْيَانِ إِلَى عَدْلِ الْإِسْلَامِ". "یعنی" اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کو بندوں کی بندگی اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لے آئیں، دنیا کی تنگیوں اور خوف سے نکال کر دنیا و آخرت کی وسعتوں میں لے آئیں، اور باطل نظاموں، مذاہب کے ظلم و ستم سے نکال کر اسلام کے عدل و انصاف کے سائے میں لے آئیں۔"*
پس اسلام انسان کو یہ سچائی سکھاتا ہے کہ انسان کی پیشانی صرف اپنے خالق و مالک کے سامنے جھکنے کے لیے بنی ہے۔ ہمارا سجدہ، ہماری تعظیم، ہماری عبادت اور ہماری بندگی صرف اور صرف اللہ رب العزت کا حق ہے، کسی مخلوق، کسی انسان، کسی آستانے یا کسی وطن کا نہیں۔ اور جو قوم ایک اللہ کے سامنے جھک جاتی ہے، اللہ تعالی اسے دنیا کی ہر مخلوق اور ہر جابر قوت کے خوف سے مکمل آزاد کر دیتا ہے ۔