انس الشریف: غزہ کی آواز
(یوم شہادت کی مناسبت سے )
عبدالعلیم الاعظمی
" تم انس الشریف سے کہو کہ وہ قیدیوں کے حق میں آواز بلند کرے، قیدیوں کی مصائب و مشکلات اور ان پر ہونے والے تشدد کو دنیا کے سامنے لائے۔ " یہ الفاظ اسرائیل کی جیل میں قید فلسطینی طبیب ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے ہیں، یہ پیغام انہوں نے انس الشریف کی شہادت کے تقریبا 10/ ماہ بعد جون 2026ء اپنے بیٹے کو دیا تھا۔ ، جب کہ انس الشریف 10/ اگست 2025ء کو اسرائیلی جارحیت میں شہید ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جو کہ کمال عدوان ہاسپٹل کے ڈائریکٹر تھے، ان کے ذہن و دماغ میں یہ بات تھی کہ انس الشریف ایک بہادر صحافی ہیں اور غزہ کی سب سے بڑی آواز ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انس الشریف تک یہ پیغام پہنچایا۔
انس الشریف کی شہادت کے آج پورے ایک سال مکمل ہوگئے ہیں۔ آج سے ٹھیک ایک سال قبل اسرائیل مجرم، سفاک اور انسانیت کی دشمن فوج نے انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ الشفاء اسپتال کی بیرونی دیوار سے منسلک الجزیرہ کے ٹینٹ میں آرام کررہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے پہلے ہی انس الشریف کو دھمکیاں دی تھیں، ڈرانے کی کوشش کی تھیں؛ لیکن انس الشریف تو بہادری و استقامت کا استعارہ تھا، ان دھمکیوں کے باوجود اس کے پائے ثبات میں میں تزلزل محسوس نہیں ہوا۔ بار بار غزہ چھوڑنے کی دھمکیوں پر بھی انس الشریف غزہ تو دور کی بات ہے، شمالی غزہ کو بھی چھوڑنے کو گوارہ نہیں کیا۔ انس الشریف کے یہ الفاظ تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھے جائیں گے، جو انہوں نے اپنے ایک دوست، جنہوں نے غزہ سے نکلنے کے سلسلے میں دریافت کیا تھا، کے جواب میں لکھا تھا کہ " غزہ سے صرف اور صرف جنت کا سفر ہی ہوسکتا ہے "
انس الشریف اپنی غیر معمولی محنت، جد و جہد، کام کی تئیں اخلاص، قضیہ فلسطین سے غیر معمولی دلچسپی، غزہ اور اپنے لوگوں سے پناہ الفت و محبت اور بے باکانہ و بہادرانہ صحافت کی وجہ سے پوری دنیا میں غزہ کے نمائندہ اور غزہ کی آواز بن گئے تھے، حالاں کہ اس خوں ریز اور نسلوں کو تباہ کرنے والی جنگ سے قبل نہ تو وہ نامہ نگار تھے اور نہ ہی کسی صحافتی ادارہ سے وابستہ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تباہ کن جنگیں انسانوں کی پرورش و پرداخت اور ان کے عقل و شعور میں غیر معمولی اضافہ کرتی ہے۔ ان کی سوچیں دیگر امن پسند علاقوں میں رہنے والوں سے مختلف ہوجاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم ہی اس غیر معمولی بہادری اور استقامت کو جنم دیتا ہے۔ انس الشریف نے شمالی غزہ کو اپنی کاوشوں کی آماجگاہ بنایا تھا۔ شمالی غزہ اس جنگ میں سب سے زیادہ تباہی و بربادی کا سامنا کرنے والا علاقہ ہے۔ اسرائیل نے اس علاقے کو مکمل طور پر خالی کرنے کا کئی مرتبہ وارنٹ جاری کیا تھا۔ اگرچہ الجزیرہ کی آفس شمال ہی میں واقع ہے ؛ لیکن جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیلی دھمکیوں اور آس پاس حملوں کے بعد الجزیرہ کو اپنی آفس خالی کرنی پڑی تھے۔ الجزیرہ کے اکثر صحافیوں نے شمال سے جنوب کی جانب ہجرت کی تھی؛ لیکن انس الشریف گنتی کے ان چند صحافیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے شمال میں رہنے اور اپنی کوریج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
11/ دسمبر ، 2023ء کو اسرائیلی طیاروں نے انس الشریف کے گھر کو ٹارگٹ کیا جس میں ان کے والد شہید ہو گئے ، انس الشریف نے اس حملے کے بعد ایک ویڈیو میں کہا کہ" سب سے پہلے میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے والد کی شہادت پر تعزیتی اور تسلی بخش کلمات کہے ہیں، تمام تر سفاکیت اور بمباری کے باوجود جس کا ارتکاب قابض ہمارے لوگوں ، شہریوں اور میرے خاندان کے خلاف کر رہا ، میں کوریج جاری رکھوں گا۔ میں جبالیہ ریفوجی کیمپ نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی میں شمالی غزہ سے نکلوں گا۔ میں اس علاقے میں باقی رہوں گا تا کہ صورتحال سے باخبر کرتا رہوں ۔"
غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے تقریباً دو سال ہونے والے تھے، اسرائیلی بھوک مری کی پالیسی نے غزہ کو اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ بھوک مری عام ہوچکی تھی، بوڑھے مرد و عورت راہ چلتے بھوک کی وجہ سے گرنا شروع ہوگئے تھے۔ انس الشریف نے اس دوران اس مسئلہ کو اور غزہ کی صورتحال کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ انہیں صورتحال میں انس الشریف ایک اسپتال کے باہر کوریج کررہے تھے کہ اسی دوران ایک خاتون چلتے چلتے بھوک کی وجہ سے گر گئی، اس منظر کو دیکھ کر لائیو کوریج کے دوران انس الشریف کے آنسو چھلک پڑے۔ انس الشریف جو مسلسل غزہ کی کوریج کررہے تھے، خون اور لاشوں کے درمیان سے انہوں نے غزہ کے پیغام کو پوری دنیا کے سامنے پہنچایا۔ حقیقت میں فلسطینی صحافیوں لاشوں اور انسانی اجزاء کے دیکھنے کے عادی ہوگئے تھے؛ لیکن اس کے باوجود اس منظر کو دیکھ کر انس الشریف خود کو قابو نہ رکھ سکے۔ لائیو کوریج ہی میں کچھ لوگوں کی آواز سنائی دیتی ہے، جو انس الشریف کے رکنے کے بعف کہتے ہیں "استمر یا انس انت صوتنا " " اے انس الشریف !! تم اپنی کوریج جاری رکھو، تم ہماری آواز ہو " انس الشریف کی یہ ویڈیو پوری دنیا میں بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو کے بعد اسرائیلی آفشیل نے ایک مرتبہ پھر انس الشریف کو دھمکیاں دیں۔
انس الشریف کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اسرائیلی سفاک فوج ایک نہ ایک دن ان کو ضرور نشانہ بنائے گی؛ بلکہ وہ راہ خدا میں شہادت کا شرف حاصل کرنے کے لیے تیار تھے۔ انس الشریف نے جو آخری پیغام اور وصیت لکھی تھی۔ اس کا ایک ایک لفظ تاریخ میں آب زر سے لکھنے لائق ہے۔ ذیل میں وہ پیغام نقل کرتے ہیں :
یہ میری وصیت ہے اور میرا آخری پیغام ہے ، اگر آپ تک میرے یہ آخری کلمات پہونچ جائیں تو جان لیں کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
سب سے پہلے آپ حضرات پر اللہ کی سلامتی ، اس کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، اللہ جانتا ہے کہ میں نے حتی الامکان اپنی پوری کوشش کی کہ میں اپنی قوم کا سہارا اور ان کی آواز بن سکوں، جب سے میں نے جبالیہ ریفوجی کیمپ کی گلیوں اور محلوں میں آنکھ کھولی ہے میری یہ آرزو تھی کہ اللہ رب العزت میری عمر دراز کرے تاکہ میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ اپنے اصلی شہر مقبوضہ عسقلان یعنی مجدل لوٹ سکوں لیکن مشیت الہی سبقت لے گئی اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہو گیا، میں نے ہر قسم کی تکلیف کے ساتھ زندگی گزاری ، بارہا اپنوں کو کھونے کا درد سہا، اس کے باوجود میں کسی ملمع سازی اور توڑ مروڑ کے بغیر حقیقت کو نقل کرنے سے ست نہیں پڑا۔
امید ہے کہ اللہ تعالی ان لوگوں کے خلاف گواہ ہو گا جو ہمارے قتل پر خاموش رہے اور اسے قبول کیا، جنہوں نے ہماری سانسوں پر بھی پہرے بٹھا دیے، اور ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے ہماری قوم جس نسل کشی کا سامنا کر رہی ہے اسے نہیں روکا، اور ہمارے بچوں اور عورتوں کے لاشیں بھی جمود کے شکار ان دلوں میں کوئی حرکت نہیں پیدا کر سکی ۔
میں مسلمانوں کے تاج کے موتی اور دنیا کے ہر آزاد شخص کے دل کی دھڑکن فلسطین کے سلسلے میں آپ حضرات کو وصیت کرتا ہوں آپ کو باشندگان فلسطین اور اس کے ان مظلوم و معصوم بچوں کے تعلق سے میری وصیت ہے جنہیں زندگی نے اتنی بھی مہلت نہیں دی کہ وہ خواب دیکھ سکیں اور امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، کیونکہ ان کے پاکیزہ جسموں کو ہزاروں ٹن وزنی اسرائیلی میزائلوں اور بموں سے مسل دیا گیا اور ان کی لاشیں دیواروں پر بکھر کر پھیل گئیں۔
آپ حضرات کو میری یہ وصیت ہے کہ بیڑیاں آپ کو خاموش نہ رہنے دیں اور سرحدیں آپ کو بیٹھنے نہ دیں، آپ اس ملک اور اللہ کے ان بندوں کو آزاد کرانے کے لیے پل بن جائیں یہاں تک کہ عزت اور آزادی کا سورج ہمارے غصب کردہ وطن پر طلوع ہو جائے۔
میری یہ وصیت ہے کہ آپ لوگ میرے اہل خانہ کا بھی اچھی طرح خیال رکھیں. میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری پیاری بیٹی شام کا بھی جس کے ساتھ حالات نے مجھے رہنے نہیں دیا کہ میں اسے ایسا ہی بڑھتا ہوا دیکھوں جس کا میں خواب دیکھتا تھا۔
آپ حضرات میرے پیارے بیٹے صلاح کا بھی خیال رکھنا، جس کے لیے میری تمنا تھی کہ میں اس کا مددگار اور اس کے راستے کا ساتھی بنوں تا کہ اس کا جسم مضبوط ہو اور وہ میری فکر کا بوجھ اٹھائے اور میرا پیغام پایہ تکمیل تک پہنچائے۔
اور میری وصیت اپنی پیاری والدہ کے تعلق سے بھی ہے جن کی دعاؤں کی برکت سے میں یہاں تک پہنچا ہوں اور ان کی دعائیں ہی میرا حصار تھیں اور ان کا نور میرا راستہ تھا، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ انہیں صبر کی طاقت دے اور میری طرف سے انہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔
میری رفیق حیات اور پیاری بیوی ام صلاح بیان کا بھی خیال رکھنا، جنگ نے ہمیں کئی مہینوں اور لمبے عرصے تک کے لیے ایک دوسرے سے دور رکھا لیکن وہ اپنے عہد پر جمی رہی، زیتون کے نہ جھکنے والے تنے کی طرح ثابت قدم رہی ، اللہ سے اجر کی امید کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رکھا اور میری غیر موجودگی میں پوری قوت اور ایمان کے ساتھ امانت کا بوجھ اٹھایا۔
آپ حضرات کو میری یہ وصیت ہے کہ آپ ان کے ارد گرد اکٹھا ر ہیں اور اللہ عز و جل کے بعد ان کا سہارا بنیں، اگر میں دنیا سے جارہا ہوں تو اپنے اصول پر ثابت قدم رہتے ہوئے جارہا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں مجھے اللہ سے ملاقات پر ایمان ہے اور یہ یقین ہے کہ جو کچھ اللہ کے یہاں ہے وہ زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔
اے اللہ دیگر شہداء کے ساتھ مجھے بھی قبول فرما، میرے اگلے پچھلے تمام گنا ہوں کو معاف فرما، اور میرے خون کو وہ روشنی بنا جس سے آزادی کا راستہ منور ہو۔
اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو آپ لوگ مجھے معاف کر دینا، اور میرے لیے رحمت کی دعا کرنا، کیونکہ میں اپنے عہد پر برقرار رہا میں نے اس میں کوئی تغییر اور تبدیلی نہیں کی ، آپ لوگ غزہ کو مت بھولیے گا، اور اپنی مغفرت اور قبولیت کی نیک دعاؤں میں مجھے بھی نہ بھولیے گا۔"
انس جمال الشریف
(ترجمانی، محمد اسحاق حلیمی، قاسمی )