Translation unavailable. Showing original.
اپنے عجز و عدم شکر کا استحضار عبدیت ہے
08 اگست، 2026
`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
بانی و مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
منعمِ حقیقی کی نعمتوں کا احصاء بھلا کہاں ممکن ہے؟
وہ رب جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا، بے جان مٹی سے انسان بنایا، اندھیری کوکھ میں ہماری پرورش فرمائی، ماں کے سینے سے رزق عطا کیا، آنکھوں کو بینائی، کانوں کو سماعت، دل کو احساس، عقل کو شعور اور روح کو اپنی معرفت کی طلب عطا فرمائی—اس کی نعمتوں کو آخر کون شمار کرسکتا ہے؟
قرآنِ کریم کا اعلان ہے:
﴿وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾
"اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔"
(النحل: 18)
حقیقت یہ ہے کہ ہم جس نعمت کو نعمت سمجھ کر گنتے ہیں، اس کے پیچھے بھی بے شمار نعمتیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔
ایک سانس لیجیے...
یہ بھی نعمت ہے۔ مگر اس ایک سانس کے لیے پھیپھڑے، دل، خون، آکسیجن، اعصاب اور بے شمار نظاموں کا بیک وقت کام کرنا بھی تو نعمت ہے۔
آنکھ سے ایک منظر دیکھیے...
مگر آنکھ کا سلامت ہونا، روشنی کا موجود ہونا، دماغ کا اسے سمجھنا اور دل کا اس منظر کا ادراک کرنا—یہ سب اسی ایک نظر کے ساتھ عطا ہونے والی نعمتیں ہیں۔
پھر ذرا دل کی طرف دیکھیے!
ایمان کی ایک چنگاری، اللہ کو یاد کرنے کی ایک ساعت، سجدے میں گرنے کی ایک توفیق، آنکھ سے نکلنے والا ایک آنسو...
یہ سب کیا ہے؟
یہ بھی اسی کا فضل ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جس رب کی نعمتوں سے ہمارا وجود لمحہ بہ لمحہ معمور ہے، اسی رب کے شکر میں ہماری زبان کتنی مختصر اور ہماری غفلت کتنی طویل ہے!
ہم نے اگر ایک بار "الحمدللہ" کہہ دیا تو سمجھ بیٹھے کہ شکر ادا ہوگیا؛
حالاں کہ "الحمدللہ" کہنے کی توفیق بھی اسی کی ایک نئی نعمت ہے، جس کا شکر ابھی باقی ہے۔
یہاں بندہ اپنی عبادت دیکھ کر مغرور نہیں ہوتا، بلکہ اپنی کوتاہی دیکھ کر رو پڑتا ہے۔
وہ کہتا ہے: یا اللہ! میں تیرا شکر بھی کیا ادا کروں؟
میرا وجود تیرا عطا کردہ، میری زبان تیری عطا کردہ، میرا ذکر تیری عطا کردہ توفیق، اور پھر اسی زبان سے تیرے شکر کا دعویٰ!
کیا عجب مقام ہے عبدیت کا!
بندہ جب اپنی عبادتوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے عمل نظر آتے ہیں،
اور جب اپنے رب کو دیکھتا ہے تو اسے اپنا عجز نظر آتا ہے۔
وہ اپنے سجدوں پر نہیں اتراتا، بلکہ اس بات پر روتا ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود میرا سجدہ کتنا کم ہے!
وہ اپنے ذکر پر ناز نہیں کرتا،
بلکہ سوچتا ہے کہ جس دل کو ہر لمحہ اس کی یاد میں ڈوبا رہنا چاہیے تھا، وہ کتنی بار دنیا میں کھو گیا!
وہ اپنے شکر پر فخر نہیں کرتا،
بلکہ اپنے عدمِ شکر پر شرمسار ہوتا ہے۔
یہی عبدیت ہے!
اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا،
اس کے فضل کو سب کچھ سمجھنا؛ اپنے عمل کو کم دیکھنا، اس کی رحمت کو وسیع دیکھنا اپنی عبادت پر بھروسا نہ کرنا، اس کے کرم پر بھروسا رکھنا۔
اے دل! اگر کبھی اپنی عبادت پر تجھے فخر ہونے لگے تو ذرا نعمتوں کی فہرست کھول کر دیکھ لینا؛
اگر کبھی اپنے شکر پر ناز ہونے لگے تو ذرا اس کی نعمتوں کا شمار کرنے کی کوشش کرلینا؛
اور اگر کبھی یہ خیال آئے کہ "میں اللہ کا حق ادا کر رہا ہوں" تو ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لینا:
جس رب کی ایک نعمت کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا، اس کی پوری زندگی کی نعمتوں کا شکر کیسے ادا کرسکتا ہوں؟
پھر شاید آنکھ نم ہوجائے... اور دل سے بے اختیار نکلے: اے میرے رب میں تیرا شکر ادا کرنے سے بھی عاجز ہوں، اور اپنے اس عجز کا اقرار ہی میری سب سے بڑی بندگی ہے۔
یا اللہ! ہماری عبادت کو قبول فرما، ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، اور ہمیں ایسا دل عطا فرما جو تیری نعمتوں کو دیکھ کر شکر سے جھک جائے، اپنی کم مائیگی کو دیکھ کر رو پڑے، اور تیرے فضل کو دیکھ کر ہمیشہ تیرا محتاج بنا رہے۔
فَإِنَّ الْعَجْزَ عَنِ الشُّكْرِ شُكْرٌ،
وَالْعُجْزَ عَنِ الْعِبَادَةِ عُبُودِيَّةٌ۔
"شکر کی حقیقت کو پوری طرح ادا نہ کر پانا بھی شکر کے احساس کی ایک صورت ہے، اور اپنی بندگی کی کمی کا احساس ہی عبدیت کی روح ہے۔"
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H