کبھی چند لمحوں کے لیے ٹھہر کر اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم آخر بھاگ کہاں رہے ہیں؟
صبح آنکھ کھلتے ہی ایک نئی دوڑ شروع ہوجاتی ہے
پڑھائی کی فکر، مستقبل کی فکر، کامیابی کی فکر، لوگوں کی رائے کی فکر، دنیاوی خواہشات کی فکر… ہم دن بھر ایک منزل کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اکثر ہمیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ جس منزل کی طرف ہم اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وہ آخر ہے کہاں؟

ہم نے اپنی زندگی کو مصروفیات سے بھر لیا، مگر اپنے دل کو خالی چھوڑ دیا۔
ہم نے دنیا بنانے میں اتنی محنت کی کہ اپنے باطن کی دنیا سنوارنا بھول گئے۔
ہم نے لوگوں کو خوش کرنے کی فکر میں اپنے رب کی رضا کو پسِ پشت ڈال دیا۔
ہم نے مستقبل محفوظ کرنے کے لیے بہت کچھ جمع کیا، مگر اس مستقبل کی تیاری نہ کی جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

ذرا رک کر سوچیے
!
ہم جس دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، وہ خود ہم سے دور بھاگ رہی ہے۔
آج جو چیز ہمارے لیے بہت اہم ہے، کل شاید وہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی۔ آج جس مقام، تعریف، شہرت یا کامیابی کو ہم زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سمجھ رہے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ وہ سب محض ایک یاد بن جائے گا۔
دنیا بری نہیں، مگر دنیا کو مقصدِ زندگی بنا لینا انسان کو اس کے اصل مقصد سے غافل کردیتا ہے۔
ہمیں رزق چاہیے، کامیابی چاہیے، عزت چاہیے، بہتر مستقبل چاہیے—اور یہ سب اپنی جگہ درست خواہشات ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان سب کے حصول میں ہم نے اپنے رب کو تو نہیں کھو دیا؟

کتنی عجیب ترجیحات ہیں ہماری!
نماز کے لیے وقت نہیں، مگر دنیا کے کاموں کے لیے وقت ہے۔
قرآن کے لیے فرصت نہیں، مگر بے مقصد مشغولیات کے لیے گھنٹوں موجود ہیں۔
ذکر کے لیے دل نہیں لگتا، مگر دنیا کی باتوں میں گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔
اللہ سے تعلق کمزور ہوتا جارہا ہے، مگر دنیا سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔

ہم کہتے ہیں:
"ابھی بہت وقت ہے…"
مگر کس نے ضمانت دی ہے کہ وہ "بعد میں" ہمارے نصیب میں بھی لکھا ہے؟
کتنے لوگ کل کے منصوبے بنا کر سوئے تھے، مگر صبح ان کے لیے نہ آئی۔
کتنے لوگ "ایک دن" توبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر وہ ایک دن کبھی نہ آیا۔
کتنے لوگ سوچتے رہے کہ پہلے دنیا سنوار لیں، پھر اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے؛ مگر زندگی نے مہلت ہی نہ دی۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم مصروف ہیں
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کس چیز میں مصروف ہیں۔

اگر ہماری ساری دوڑ ہمیں اللہ کے قریب لے جارہی ہے، تو یہ دوڑ سعادت ہے۔
لیکن اگر ہماری مصروفیت ہمیں نماز سے دور، قرآن سے غافل، والدین سے بے نیاز، دل کو سخت اور آخرت سے بے فکر کررہی ہے، تو پھر ہمیں رک کر اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ رفتار سے زیادہ اہم سمت ہوتی ہے۔
ایک شخص بہت تیزی سے سفر کررہا ہو، مگر راستہ غلط ہو، تو اس کی تیز رفتاری اسے منزل کے قریب نہیں بلکہ منزل سے مزید دور لے جائے گی
۔
ہم بھی کہیں ایسا ہی تو نہیں کررہے؟
ہم دن رات محنت کررہے ہیں، مگر کیا کبھی یہ سوچا کہ ہم اپنی آخری منزل کے لیے کیا لے کر جارہے ہیں؟
وہاں نہ مال ہماری پہچان ہوگا، نہ ظاہری نمود و نمائش، نہ لوگوں کی تعریف، نہ دنیاوی مرتبہ۔ انسان کے ساتھ اس کے اعمال ہوں گے، اس کا ایمان ہوگا، اس کی نیتیں ہوں گی، اس کی نماز ہوگی، اس کا قرآن سے تعلق ہوگا، اس کے حقوق العباد ہوں گے، اس کی توبہ ہوگی اور اس کا اللہ کے ساتھ تعلق ہوگا۔
اس لیے کبھی کبھی زندگی کی دوڑ سے چند قدم باہر نکل کر اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:
میں کیا حاصل کررہی ہوں؟
میں کیا کھو رہی ہوں؟
میری ترجیحات کیا ہیں؟
اور اگر میری زندگی کا سفر آج ہی ختم ہوجائے تو کیا میں اپنی موجودہ سمت سے مطمئن ہوں؟

زندگی ہمیں بار بار رکنے کا موقع نہیں دے گی۔
وقت گزر جائے گا، عمر ڈھل جائے گی، مصروفیات بدل جائیں گی، چہرے بدل جائیں گے، حالات بدل جائیں گے؛ مگر جو وقت گزر گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔
لہٰذا دنیا کی دوڑ میں اتنا بھی نہ دوڑیے کہ اپنے رب سے دور ہوجائیں۔
کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کامیاب کہیں؛
کامیابی یہ ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔
کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی بہت سی چیزیں جمع ہوجائیں؛
کامیابی یہ ہے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں وہ نیکیاں جمع ہوجائیں جو آخرت میں ہمارے کام آئیں۔
کامیابی یہ نہیں کہ ہم دنیا میں سب سے آگے نکل جائیں؛
کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے نفس، اپنی غفلت اور اپنی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے اللہ کی رضا کی طرف آگے بڑھتے رہیں۔
تو آج ذرا ٹھہریے…
اپنی رفتار نہیں، اپنی سمت دیکھیے۔
اپنے قدموں سے نہیں، اپنے دل سے پوچھیے۔
اور پھر خود سے ایک سوال کیجیے:
"ہم بھاگ کہاں رہے ہیں؟"
اگر جواب دنیا ہے، تو سمت درست کیجیے۔
اگر جواب اللہ کی رضا ہے، تو قدم مضبوط کیجیے۔
اور اگر جواب معلوم ہی نہیں…
تو شاید یہی وقت ہے کہ انسان پہلی مرتبہ ٹھہر کر سوچے۔