دینی مجالس کے آداب
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
دینی مجالس کی اہمیت اور اخلاصِ نیت
اسلام میں دینی مجالس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مبارک محفلیں ہیں جہاں قرآن و سنت کی تعلیم دی جاتی ہے، ایمان تازہ ہوتا ہے، علم میں اضافہ ہوتا ہے اور عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہی مجالس کے ذریعے انسان اپنے عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کی درست رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔(جامع ترمذی)
دینی مجالس سے مکمل فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ان میں شرکت کرنے والے ان کے آداب کا خیال رکھیں۔ اگر مجلس میں نظم، ادب اور اخلاص نہ ہو تو علم کا فائدہ بھی کم ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔
سب سے پہلی چیز اخلاصِ نیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری) ہر شخص کو یہ نیت کرنی چاہیے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، دین سیکھنے اور اپنی اصلاح کے لیے مجلس میں حاضر ہو رہا ہے۔ اگر مقصد شہرت، لوگوں میں نام پیدا کرنا یا صرف رسم پوری کرنا ہو تو اس عمل کی برکت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر دینی مجلس کی ابتدا خالص نیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔
مجلس میں حاضری اور نظم و ضبط
دینی مجلس میں حتیٰ الامکان باوضو حاضر ہونا بھی ادب کا حصہ ہے۔ اسی طرح کوشش کرنی چاہیے کہ مقررہ وقت سے پہلے مجلس میں پہنچ جائیں۔ تاخیر سے آنے کی صورت میں دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور مجلس کا نظم بھی متاثر ہوتا ہے۔
مجلس میں داخل ہوتے وقت سکون اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلند آواز سے گفتگو، غیر ضروری سلام دعا یا شور شرابا مناسب نہیں۔ جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جانا چاہیے اور آگے جانے کے لیے لوگوں کے کندھوں کو پھلانگنے سے بچنا چاہیے۔ اگر کسی نئے آنے والے کے لیے جگہ بنانے کی ضرورت ہو تو خوش دلی سے گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
"اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا فرمائے گا۔"
اسی طرح کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا بھی درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اگر کسی نے خوش دلی سے اپنے پاس جگہ دی ہے تو اسے قبول کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ مسلمان بھائی کی عزت افزائی ہے۔
باہمی احترام اور حسنِ اخلاق
دینی مجلس میں خاموشی اور توجہ کے ساتھ بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ مقرر یا استاد کی بات غور سے سننی چاہیے، درمیان میں غیر ضروری گفتگو نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ایسی حرکتیں کرنی چاہئیں جن سے دوسروں کی توجہ بٹے۔ بار بار موبائل فون دیکھنا، مسلسل باتیں کرنا، ہنسنا، اشارے کرنا یا بے مقصد اِدھر اُدھر دیکھتے رہنا مجلس کے ادب کے خلاف ہے۔ آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ موبائل فون کو خاموش (Silent) کر دیا جائے تاکہ کسی کی عبادت، درس یا بیان میں خلل نہ آئے۔
اسلام نے باہمی احترام پر بھی بہت زور دیا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان بلا اجازت بیٹھنا، سرگوشیاں کرنا، کسی کی نجی گفتگو سننے کی کوشش کرنا یا دوسروں کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا مناسب نہیں۔ ایسے اعمال دوسروں کے لیے تکلیف اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں، جبکہ مسلمان کو ہمیشہ اپنے بھائی کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے۔
اگر مجلس شروع ہونے سے پہلے یا اختتام کے بعد کچھ وقت مل جائے تو اسے فضول گفتگو میں ضائع کرنے کے بجائے ذکرِ الٰہی، درود شریف یا تلاوتِ قرآن میں گزارنا چاہیے۔ البتہ جب درس، بیان یا تلاوت جاری ہو تو اسی کو توجہ سے سننا اصل مقصد ہے۔ اسی طرح مجلس کے دوران صفائی، نظم و ضبط اور منتظمین کے ساتھ تعاون کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر خدمت کا موقع ملے تو اسے سعادت سمجھ کر انجام دینا چاہیے، کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اپنے سامان کی حفاظت بھی کرنی چاہیے۔
اختتامِ مجلس اور حاصلِ کلام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس کے اختتام پر ایک دعا پڑھنے کی تعلیم بھی دی ہے:
"سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھ لے، اگر اس مجلس میں اس سے کوئی لغزش ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ (جامع ترمذی)
مختصر یہ کہ دینی مجالس اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں۔ ان میں حاضر ہونا سعادت ہے اور ان کے آداب کی رعایت کرنا اس سعادت کی حفاظت ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ، وقت کی پابندی کرتے ہوئے، ادب و احترام کے ساتھ اور علم حاصل کرنے کی نیت سے ان مجالس میں شریک ہوں تو نہ صرف ہمارا علم بڑھے گا بلکہ ہمارے اخلاق، کردار اور عملی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔ ایسے ہی افراد ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دینی مجالس کی قدر کرنے، ان کے آداب کی پابندی کرنے، علمِ نافع حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔