ضروریاتِ خمسہ اور ان کی حفاظت — اسلام کے جامع نظامِ حیات کا بنیادی تصور ۔

بلاشبہ اسلام اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی جامع، کامل اور ہمہ گیر شریعت ہے جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لیے ہدایت، رہنمائی اور اصول فراہم کرتی ہے، اسلام صرف چند عبادات اور رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کے عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات، معاشرت، معیشت، سیاست اور اجتماعی زندگی سب کو منظم کرتا ہے، شریعتِ اسلامیہ کے بنیادی مقاصد میں یہ بات نہایت نمایاں ہے کہ انسان کی دینی و دنیوی مصلحتوں کو محفوظ رکھا جائے، اس کے لیے خیر و فلاح کے راستے ہموار کیے جائیں، ہر قسم کے فساد، ظلم، بے اعتدالی اور تباہی کے دروازے بند کیے جائیں اور فرد و معاشرے کی ایسی تعمیر کی جائے جس میں انسان اپنے خالق کے حقوق بھی ادا کرے اور مخلوق کے حقوق بھی محفوظ رکھے، اسی مقصد کے تحت فقہائے امت اور اصولیین نے شریعت کے ان بنیادی اور ناگزیر مقاصد کو ضروریاتِ خمسہ کے عنوان سے بیان کیا ہے، یعنی حفظِ دین، حفظِ نفس، حفظِ عقل، حفظِ نسل اور حفظِ مال؛ یہ وہ پانچ بنیادی ضروریات ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی کا دینی، اخلاقی، معاشرتی اور تمدنی نظام صحیح طور پر قائم نہیں رہ سکتا، اگر ان پانچوں کی حفاظت ہو تو فرد کی شخصیت محفوظ رہتی ہے، خاندان مضبوط ہوتا ہے، معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے، معیشت مستحکم ہوتی ہے، اخلاق و کردار پروان چڑھتے ہیں اور انسان اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوارنے کے قابل ہوتا ہے، لیکن اگر ان بنیادی ضروریات کو پامال کردیا جائے تو دین کمزور، جانیں غیر محفوظ، عقلیں ماؤف، خاندان تباہ اور اموال ضائع ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ میں ان بنیادی مقاصد کی حفاظت کے لیے متعدد احکام، حدود، ممانعتیں اور اخلاقی اصول مقرر کیے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ، غور کیا جائے تو ان آیاتِ مبارکہ میں توحید، والدین سے حسنِ سلوک، اولاد کی حفاظت، فواحش سے اجتناب، انسانی جان کی حرمت، یتیم کے مال کی حفاظت، معاملات میں انصاف، ناپ تول میں عدل، قول و قرار کی پابندی اور عہد کی پاسداری جیسے متعدد بنیادی احکام بیان ہوئے ہیں، جو درحقیقت انسانی زندگی کی انہی بنیادی ضروریات کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتے ہیں؛ سب سے پہلی اور سب سے بنیادی ضرورت حفظِ دین ہے، کیونکہ دین ہی انسان کی زندگی کا اصل مقصد متعین کرتا ہے اور اسے اس کے خالق و مالک سے جوڑتا ہے، دین کی حفاظت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان صحیح عقیدہ اختیار کرے، توحید کو مضبوطی سے تھامے، شرک و کفر سے بچے، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کرے، بدعات و خرافات سے اجتناب کرے، فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، یعنی پس آپ یکسو ہوکر اپنا رخ دین کی طرف قائم رکھیں، اللہ کی اس فطرت کو لازم پکڑیں جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی سیدھا اور درست دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے؛ چنانچہ دین کی حفاظت صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، علماء، اہلِ علم، دعوت و اصلاح سے وابستہ افراد اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی جائے، انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دی جائے، صحیح اور غلط، حق اور باطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان فرق سمجھایا جائے اور انہیں ایسے فکری، اخلاقی اور معاشرتی فتنوں سے محفوظ رکھا جائے جو ان کے ایمان کو کمزور کرسکتے ہیں؛ ضروریاتِ خمسہ میں دوسری بنیادی ضرورت حفظِ نفس یعنی انسانی جان کی حفاظت ہے، اسلام نے انسانی جان کو بے حد محترم قرار دیا ہے اور کسی بے گناہ انسان کی جان لینے کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ یعنی اس جان کو جسے اللہ نے محترم قرار دیا ہے، حق کے بغیر قتل نہ کرو، اسی طرح فرمایا وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا، یعنی جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضب ناک ہوگا، اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے؛ انسانی جان کی حفاظت کا تقاضا یہ ہے کہ قتل و غارت، ظلم و زیادتی، دہشت، خودکشی، جسمانی تشدد اور ہر اس عمل سے اجتناب کیا جائے جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ بنے، اسی طرح معاشرے میں امن و امان، باہمی احترام، انسانی ہمدردی اور حقوق العباد کا شعور پیدا کیا جائے، کیونکہ اسلام کا مطلوب ایسا معاشرہ ہے جس میں انسان خود کو اپنی جان، عزت اور بنیادی حقوق کے اعتبار سے محفوظ محسوس کرے؛ ضروریاتِ خمسہ میں تیسری بنیادی ضرورت حفظِ عقل ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی جس کے ذریعے وہ حق و باطل، خیر و شر، نفع و نقصان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان امتیاز کرتا ہے، عقل ہی انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، آیاتِ الٰہی میں غور و فکر، علم کے حصول، تجربے سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگی کو صحیح اصولوں کے مطابق منظم کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، اسی لیے اسلام نے عقل کو تباہ کرنے والی ہر چیز سے روکا اور انسان کو علم، تدبر، تفکر اور شعور کی طرف متوجہ کیا، قرآنِ کریم نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، یعنی اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے لیے نصب کیے گئے آستانے اور فال کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بالکل بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ؛ اس حکم میں شراب اور نشہ آور چیزوں کی حرمت کی بنیادی حکمتوں میں عقل کی حفاظت بھی شامل ہے، کیونکہ نشہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، اسے بے قابو بناتا ہے، اس کے اخلاق و کردار کو تباہ کرتا ہے اور بسا اوقات اسے ایسے جرائم تک پہنچا دیتا ہے جن کے نتائج خاندان اور معاشرے دونوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، اس لیے عقل کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ جہالت کو دور کیا جائے، علم کی روشنی عام کی جائے، نوجوانوں کو منشیات، شراب، نشہ آور اشیاء اور فکری گمراہیوں سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں قرآن و سنت، علم و حکمت اور صحیح فکر و شعور سے آراستہ کیا جائے؛ ضروریاتِ خمسہ میں چوتھی بنیادی ضرورت حفظِ نسل ہے، جس میں انسانی نسل، خاندان، نسب، عفت و عصمت اور عزت و آبرو کی حفاظت شامل ہے، اسلام نے خاندان کو انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیا اور نکاح کو پاکیزہ اور جائز خاندانی نظام کی بنیاد بنایا، اسی لیے زنا، بدکاری، بے حیائی اور ہر اس راستے کو حرام قرار دیا جو خاندان کے نظام کو تباہ کرتا، نسب کو مشتبہ بناتا یا انسانی عزت و آبرو کو مجروح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا یعنی اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ کھلی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے، یہاں صرف زنا سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی روک دیا گیا، کیونکہ اسلام انسانی معاشرے کو صرف جرم کے وقوع سے نہیں بلکہ ان تمام اسباب و ذرائع سے بھی محفوظ کرنا چاہتا ہے جو انسان کو جرم کی طرف لے جاتے ہیں، اسی طرح قرآنِ کریم نے پاک دامن مؤمن عورتوں پر تہمت لگانے کو بھی سخت جرم قرار دیتے ہوئے فرمایا إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ، یعنی بے شک جو لوگ پاک دامن، بے خبر اور مؤمن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے صرف نسل کی بقا ہی نہیں بلکہ نسل کی پاکیزگی، خاندان کی عزت، نسب کی حفاظت، عورت و مرد کی عفت، معاشرتی پاکیزگی اور انسانی آبرو کے تحفظ کو بھی غیر معمولی اہمیت دی ہے، آج کے دور میں جب بے حیائی، فحاشی، ناجائز تعلقات، عریانی، فکری بے راہ روی اور خاندانی نظام کی کمزوری جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، حفظِ نسل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، اس لیے والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کریں، حیا و عفت کی اہمیت اجاگر کریں اور نکاح و خاندان کے پاکیزہ نظام کو مضبوط بنائیں؛ ضروریاتِ خمسہ میں پانچویں بنیادی ضرورت حفظِ مال یعنی مال و دولت کی حفاظت ہے، اسلام نے مال کو انسانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت تسلیم کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے حصول، استعمال اور تحفظ کے لیے واضح اصول مقرر کیے ہیں، اسلام نے جائز محنت، تجارت، کسبِ حلال اور مالی تعاون کی ترغیب دی، جبکہ چوری، ڈاکہ، خیانت، دھوکا، رشوت، غصب، ناحق مال کھانا، سود، قمار اور تمام ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کو حرام قرار دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ، یعنی اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ اسے حاکموں تک اس غرض سے پہنچاؤ کہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ذریعے ہڑپ کر جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو؛ اس آیتِ کریمہ میں مالی معاملات میں دیانت، امانت اور شفافیت کا عظیم اصول بیان کیا گیا ہے، کسی دوسرے شخص کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا، دھوکے سے مال حاصل کرنا، رشوت دے کر حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنا، خیانت کرنا یا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس کا مال ہڑپ کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، اسی طرح اسلام نے چوری کو بھی سخت جرم قرار دیا اور فرمایا وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِیمٌ، یعنی اور چور مرد اور چور عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ ان کے کیے ہوئے جرم کی سزا ہے، اللہ کی طرف سے عبرت کے طور پر، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے؛ البتہ حدود کے نفاذ کا اختیار افراد کو نہیں بلکہ شرعی عدالت اور مجاز حاکمِ وقت کو حاصل ہے، اس لیے اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں مال و ملکیت کے تحفظ کی اہمیت واضح کی جائے اور چوری جیسے جرم کے سدباب کے لیے شرعی نظام کی ضرورت سمجھائی جائے، اسی طرح اسلام نے سود کو حرام قرار دے کر معاشی ظلم کا راستہ بند کیا، زکوٰۃ کے ذریعے دولت کی گردش اور معاشرتی کفالت کا نظام قائم کیا، وراثت کے ذریعے مال کی منصفانہ تقسیم مقرر کی، یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم دیا اور ناپ تول میں کمی، دھوکا دہی اور تجارتی خیانت سے سختی سے منع فرمایا، چنانچہ قرآنِ کریم کا یہ جامع ارشاد بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ یعنی ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو**؛ اس طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں مال محض دنیاوی منفعت کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے جس کے بارے میں انسان سے سوال کیا جائے گا کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، لہٰذا مال کی حفاظت کا مطلب صرف چور سے مال بچانا نہیں بلکہ مال کے حلال ذرائع کو اختیار کرنا، اس میں خیانت سے بچنا، اس کے حقوق ادا کرنا، زکوٰۃ دینا، یتیم اور کمزور کے مال کی حفاظت کرنا، قرض اور امانت کی ادائیگی کرنا، تجارت میں دیانت داری اختیار کرنا اور مال کو ظلم و فساد کا ذریعہ بننے سے روکنا بھی ہے؛ پس ضروریاتِ خمسہ درحقیقت اسلامی شریعت کے ان عظیم مقاصد کا جامع عنوان ہیں جن کے ذریعے انسان کے دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت ہوتی ہے، اسلام نے ان پانچوں ضروریات کے تحفظ کے لیے عقائد و عبادات، اخلاق و آداب، معاملات و معاشرت اور حدود و تعزیرات تک ایک مکمل اور متوازن نظام عطا فرمایا ہے، دین کی حفاظت کے لیے ایمان، توحید، عبادات اور تعلیمِ دین کو لازم قرار دیا، جان کی حفاظت کے لیے قتل و ظلم سے روکا اور انسانی جان کو محترم قرار دیا، عقل کی حفاظت کے لیے علم و فکر کی ترغیب دی اور شراب و نشہ آور اشیاء کو حرام کیا، نسل کی حفاظت کے لیے نکاح، حیا، عفت اور پاکیزگی کا نظام قائم کیا اور زنا و فحاشی سے منع فرمایا، جبکہ مال کی حفاظت کے لیے حلال کمائی، امانت، دیانت، تجارت، زکوٰۃ اور عدل و انصاف کی تعلیم دی اور چوری، خیانت، رشوت، سود، قمار اور باطل طریقوں سے مال کھانے کو حرام قرار دیا؛ یہی اسلام کی جامعیت ہے کہ وہ انسان کی روحانی ضرورت کے ساتھ جسمانی ضرورت، فرد کے ساتھ خاندان، خاندان کے ساتھ معاشرہ اور دنیا کے ساتھ آخرت سب کی اصلاح کا اہتمام کرتا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ ہم ضروریاتِ خمسہ کو محض فقہی یا اصولی اصطلاح سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ انہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا عملی دستور بنائیں، اپنے دین کی حفاظت کریں، اپنی اور دوسروں کی جانوں کا احترام کریں، اپنی عقل و فکر کو نشہ اور جہالت سے محفوظ رکھیں، اپنے خاندانوں، نسلوں، عزت و آبرو اور معاشرتی پاکیزگی کی حفاظت کریں اور اپنے مال کو حلال ذرائع سے حاصل کرکے امانت و دیانت کے ساتھ استعمال کریں؛ اگر فرد اور معاشرہ ان پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھ لے تو بہت سے معاشرتی جرائم، اخلاقی برائیاں، خاندانی انتشار، معاشی ظلم، فکری گمراہی اور دینی کمزوری خود بخود کم ہوسکتی ہے، کیونکہ شریعت کا مقصد انسان کو مشقت اور فساد میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اسے دنیا و آخرت کی حقیقی فلاح سے ہم کنار کرنا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، یعنی اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے؛ لہٰذا شریعتِ محمدی ﷺ کے یہ بنیادی مقاصد درحقیقت پوری انسانیت کے لیے رحمت، عدل، امن، پاکیزگی اور فلاح کا راستہ ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان مقاصد کو سمجھیں، اپنی زندگی میں نافذ کریں اور اپنی آنے والی نسلوں تک ان کی صحیح تعلیم پہنچائیں، کیونکہ جس معاشرے میں دین محفوظ ہو، جانیں محفوظ ہوں، عقلیں محفوظ ہوں، خاندان اور نسل محفوظ ہوں اور مال و حقوق محفوظ ہوں، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں صالح، مضبوط، پُرامن اور فلاح یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ضروریاتِ خمسہ کی حقیقت کو سمجھنے، ان کی حفاظت کرنے، دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنے اور شریعتِ اسلامیہ کے جامع نظام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
مولانا پرویز رسول اشاعتی ٹھنڈوسوی کشمیری