*فلسفۂ خطابت* 
بقلم: معاذ حیدر 
٢٣/ صفر ١٤٤٨ھ
٧/ اگست ٢٠٢٦ء

    ( انجمن اصلاح الطلبۃ، مدھیہ پردیش کے ششماہی مسابقۂ خطابت -منعقدہ ٢١/ صفر ١٤٤٨ھ- میں اراکین کے سامنے "فنِ خطابت" سے متعلق چند باتیں پیش کی تھیں، یہ سطور انہی معروضات پر مشتمل ہیں)

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على شمس الهداية والمرسلين وعلى آله وأصحابه أجمعين، أما بعد!
   ششماہی مسابقۂ خطابت کا انعقاد "انجمن اصلاح الطلابۃ" کے شعبۂ نظامت کی بہت بڑی کامیابی ہے، یہ صوبہ "مدھیہ پردیش" کی بڑی فعال انجمن ہے، یہ "دارالعلوم دیوبند" میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے، اس کی ایک مستقل تاریخ ہے، یہ منظم شکل میں اپنی سرگرمیوں کو انجام‌ دے رہی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے، قدر دانی کی سب سے بڑی علامات یہ ہے کہ ہم انجمن کی ہر آواز پر لبیک کہیں، ہر سرگرمی میں حصہ لیں، پابندی کے ساتھ شریک ہوں، یہی انجمن کی روح ہے، یہی انجمن کا "رأس المال" ہے، ہم سب کے اندر انجمن کی طلب پیدا ہونا بہت ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو انجمن کی ترغیب دینا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے، موافق اور مخالف ہر طرح کے ماحول میں انجمن کی ضرورت کو ثابت کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے، اس جذبہ کا پیدا ہونا بہت ضروری ہے، یہ اجتماعی کام ہے، اجتماعی کام میں جو آگے بڑھ کر کام کرتا ہے اللہ اس کو آگے بڑھاتے ہیں، اس کی تنظیم و ترقی میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنا چاہیے، طالبِ علمی کے زمانے سے اجتماعی مفاد کے لیے کچھ نہ کچھ یومیہ وقت صرف کرنے کا مزاج بنے؛ اس کے لیے انجمن کی مشغولی سے بہتر کوئی مشغولی نہیں، آپ علاقے میں اپنی انجمن کا تعارف کرائیں، آپ باضابطہ اپنی ذات سے تحریری اور تقریری، مادی اور جسمانی طور پر جڑیں، اپنے فارغ اوقات میں انجمن کو اپنا ہم اور غم بنائیں۔
      ہمارے لیے سعادت کی بات ہے کہ ہمیں آپ کے مسابقہ میں حاضر ہونے کا موقع ملا، ہم تو اس میدان کے طفلِ مکتب ہیں، اس کے باوجود اس انجمن کے صدرِ محترم، رفیقِ گرامی قدر، مفتی ابو عبد اللہ، سفیان الطائی زید علمہ نے حکمیت کی درخواست کی، تمرین کی ذمہ داری اِن دنوں بہت زیادہ تھی، اس کے باوجود میں استفادہ کی نیت سے حاضر ہوگیا، پورا مسابقہ سنا، ماشاء اللہ ہر ایک نے بہت اچھی تقریر کی، بہت شاندار مسابقہ رہا، ابھی صدر صاحب کا حکم ہوا کہ تم کچھ کہہ دو، میں حکم کی تعمیل میں چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں: 
    سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ انجمن کے مسابقاتی نظام سے مقصود کیا ہے؟ اس کے متعدد مقاصد ہوسکتے ہیں، لیکن اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ "محدود وقت میں پر مغز مواد کو مؤثر اسلوب، متاثر کن انداز اور اچھے لب ولہجے میں اس طرح پیش کریں کہ سامعین کو یہ محسوس نہ ہو کہ آپ رٹ کر بول رہے ہیں، بلکہ انھیں آپ کے اندازِ القاء اور اسلوبِ بیان سے یہ تأثر ملے کہ یہ آپ کی دل کی آواز ہے۔"
   مسابقہ میں مواد کی کثرت مطلوب نہیں ہوتی، بل کہ جامعیت مطلوب ہوتی ہے، محدود وقت میں کثیر مواد پیش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، یہ کمزوری سمجھی جاتی ہے، اس طرح کے مزاج رکھنے والے خطباء کے بیانات عموما ذوق وشوق سے نہیں سنے جاتے، قابو یافتہ خطیب وہی کہلائے گا جو مجمع سے متعلق بات کو محدود وقت میں پوری سلاست کے ساتھ پیش کردے، الغرض مسابقہ کے نظام سے مقصود یہ ہے کہ محدود وقت میں برجستگی کے ساتھ بولنے کی لیاقت پیدا ہو۔
    مسابقے میں موضوع عام طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک موضوع ایجابی ہوتا ہے، اور ایک تردیدی، ایجابی موضوع پر بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلوب اچھا ہو، مواد عمدہ ہو، مصادرِ اصلیہ سے مبرہن ہو، یادداشت مضبوط ہو، برجستگی ہو، گفتگو میں ترتیب ہو، اچھے موقع پر دلائل پیش کرنے کی مہارت ہو، برمحل اقتباسات درج ہوں‌ وغیرہ
    اسی طرح اگر تردیدی موضوع ہو، تو اس بارے قابلِ لحاظ بات یہ ہے ہم اگر کسی کے رد میں کچھ کہہ رہے ہیں تو اشارے کنایے میں ان کی تردید کریں، نام‌ کی صراحت نہیں ہونی چاہیے، جن حضرات کا خطاب کا موضوع تردید سے متعلق تھا ان میں سے چند مساہمین نے رد کرتے ہوۓ نام کی صراحت کی ہے، اس سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، ہندوستان کی فضا اس کی اجازت نہیں دیتی، آپ کو آئندہ کبھی سیاسی، کبھی غیر سیاسی جماعت کی تردید کرنے کی ضرورت پڑے گی، اس میں آپ نام کی صراحت کیے بغیر تردید کریں، ان کے غلط نظریے کا اینٹی ڈوز پیش کریں، لیکن ان کا نام نہ لیں، تردید کریں ان کے نظریے کی، تردید کریں ان کے کام کی، تردید کریں ان کے نعروں کی، تردید کریں ان کے تمام تر جزئیات کی، سوائے نام کی تصریح کے آپ سب کچھ کریں۔
   یہ اصول اتنا مضبوط ہے کہ اگر تمام کے تمام مسلمان خطباء اس کو اپنالیں تو سیاسی دنیا کبھی بھی ان کی گرفت نہیں کرسکتی، اس لیے ہمیں اس اصول کو برتنے کی ضرورت ہے۔
  خطابت کے میدان میں مہارت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، سب سے ماہر خطیب وہ ہے جو موقع شناس ہو، مجمع سے متاثر نہ ہو، جسے مضمون پر مکمل گرفت ہو۔
     ماہر خطیب کے بارے میں مصر کے مشہور عالم دین شیخ ابو زہرہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
     "والخطباء هم المسيطرون على الجماعات، وهم الذين يقيمونها، ويقعدونها، وفي الحكومات الشورية، يكون الخطباء هم الغالبين؛ تصدع الأمة بإشاراتهم، وتخضع لسلطانهم؛ لأن الغلب في ميدان الكلام، والسبق في حلبة البيان لهم، فآراؤهم فوق الآراء؛ لأنهم يستطيعون أن يلحنوا بحجتهم، ويسبقوا إلى غاياتهم"
  (الخطابة: أصولها، وتاريخها في أزهر عصورها عند العرب للإمام محمد أبي زهرة رحمه الله: فائدة الخطابة، ص: ٢٢، ط: دارالفكر العربي) 
    (خطباء ہی عوام کے قائد ہیں، انہی کے اشاروں پر جماعتیں اٹھتی اور بیٹھتی ہیں، شورائی طرزِ حکومت میں بھی بالادستی انہی کو حاصل ہوتی ہے، امت ان کے اشاروں سے حرکت میں آتی ہے اور ان کے بیان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے، اس کی وجہ قوت بیان کی مضبوطی ہے، اسی بنا پر ان کی آرا کو دوسروں کی آرا کے مقابلے میں فائق سمجھا جاتا ہے، یہ اپنے مؤثر انداز اور دل نشین اسلوب سے مخالف کو مغلوب کرکے اپنے مقاصد تک سب سے پہلے پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔)
    اس بارے اردو زبان کے مشہور ادیب شورش کاشمیری لکھتے ہیں: 
    "خطیب میں تخلیقی جوہر ہوتا ہے، جو کچھ وہ کہتا، جس طرح کہتا ہے اور جس گہرائی وگیرائی سے بولتا ہے، ایک جادو کی طرح ہے کہ دماغ ودل مبہوت ومسحور ہوجاتے ہیں، اس کے الفاظ ومعانی وہی ہوتے ہیں؛ جو زبان کا خزینہ اور لغت کا سفینہ ہیں، خطیب بولتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دماغوں سے اٹھا کر دلوں میں اتار رہا ہے، عوام یہ بات محسوس کرتی ہے کہ ان کی گم شدہ متاع انھیں مل رہی ہے، اور وہ ان جواہر پاروں سے اپنے دامن بھر رہے ہیں؛ جن کی تلاش میں تھے، خطیب کا اجتماعی تاثر عطیۂ الہی ہوتا ہے، اس کے الفاظ در وبست کی رو میں ذہنوں پر بیٹھتے چلے جاتے ہیں، اس کی حیثیت خیالات وجذبات کے سفیر کی ہے، وہ اپنے فن کو وہبی اور اکتسابی خصوصیتوں کے امتزاج سے پیش کرتا ہے، جو کچھ اس کے پاس ہے؛ اس کو اچھالتا اور اجالتا ہے، جس کی طلب ہے اس کی تصویر کھینچتا ہے، وہ طبیعتوں کو تیار کرتا ہے، دماغوں کو آواز دیتا، دلوں کو گرماتا ہے، اور قدموں کو دوڑاتا ہے، گویا خطیب اپنے فن کی مملکت کا شہر یار ہے کہ ذہنوں پر فرماں روائی کرتا ہے، اور مقرر میکدۂ عوام کا پیرِ مغاں ہے، جس کے پیمانوں کی گردش تشنہ کاموں کی پیاس بجھاتی ہے۔
  (فن خطابت: شورش کاشمیری، ص: ٢٢ - ٢٣، ط: دارالکتاب دیوبند)
    خطابت کے بے شمار فائدے ہیں، ان میں سے چند کو امام ابو زہرہ رحمہ اللہ نے شمار کیا ہے: 
       فهي التي تفض المشاكل، وتقطع الخصومات، وهي التي تهدئ النفوس الثائرة، وهي التي تثير حماسة ذوى النفوس الفاترة، وهي التي ترفع الحق، وتخفض الباطل، وتقيم العدل، وترد المظالم، وهي صوت المظلومين، وهي لسان الهداية، هي الدعامة التى قامت عليها الانقلابات العظيمة، والثورات الكبيرة التي نقضت بنيان الظلم، وهدمت قصور الباطل، وهي قوة تثير حمية الجيوش، وتدفعهم إلى لقاء الموت، وتزيد قواهم المعنوية؛ ولذلك كان قواد الجيوش المظفرين في القديم، والعصور الحديثة "خطباء مصاقع"، (وهم الذين) حملوا معهم سلاحا معنويا بجوار السلاح الحديدي.
   (الخطابة: أصولها، وتاريخها في أزهر عصورها عند العرب للإمام محمد أبي زهرة رحمه الله: فائدة الخطابة، ص: ٢٢، ط: دارالفكر العربي)
   (خطابت ہی وہ قوت ہے جو پیچیدہ مسائل کو حل کرتی ہے، نزاعات کو ختم کرتی ہے، باہمی اختلافات کو رفع کرتی ہے، مشتعل اور بے قرار طبیعتوں کی تسکین کا کام کرتی ہے، کم ہمتوں کے دلوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتی ہے، یہی حق کو سربلند اور باطل کو زیر کرتی ہے، عدل کو قائم کر کے مظلوموں کے حقوق کو دلواتی ہے، یہ مظلوموں کی آواز اور ہدایت کی ترجمان ہے، نیز یہ اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ ہے۔
    اسی قوتِ خطابت کی مدد سے تاریخ کی عظیم انقلابی تحریکوں نے ظلم کے ایوانوں کو منہدم کیا اور باطل کے محلات کو نیست ونابود کیا، یہی وہ معنوی طاقت ہے جو لشکروں کے دلوں میں غیرت و حمیت کی آگ بھڑکاتی ہے، انہیں موت کو گلے لگانے کا حوصلہ دیتی ہے، اور ان کی قوتِ معنوی کو دوچند کر دیتی ہے، اسی لیے قدیم زمانے سے لے کر جدید ادوار تک کامیاب اور فاتح سپہ سالار عموماً فصیح وبلیغ خطیب بھی ہوتے تھے، جو اپنے فولادی اسلحے کے ساتھ ایک نہایت مؤثر معنوی ہتھیار رکھتے تھے)
    ہم خطابت کی شناور کیسے بنیں؟، اس کوچہ میں مہارت پیدا کرنے کے لیے کیا باتیں ضروری ہیں؟، اس سلسلے میں حضرت رحمہ اللہ نے بڑی مفید باتیں ذکر ہیں: 
(١) أن يكون الخطيب خالياً من العيوب الكلامية من فأفأة ونحوها، وأن تكون مخارج حروفه صحيحة، وأن يكون فصيحا، طلق اللسان.
      کلام کی غلطی نہیں ہونی چاہیے، آواز اچھی ہونی چاہیے، اتنی زیادہ آواز بے قابو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس سے اخیر میں اس کی آواز پھٹ جائے، گفتگو میں سلاست ہونی چاہیے، سلاست یہ خطابت کی روح ہے۔

(٢) قراءة كلام البلغاء: فقراءة كلام البلغاء تقدم للقارئ أرسالا من المعانى والأساليب ينال منه بيسر وسهولة من غير معاناة ولا كد ذهن.
  خطباء کے کلام کو پڑھنے کی بھی عادت ہونی چاہیے، خطباء کے بیانات کو سننے کی بھی عادت ہونی چاہیے، تب جا کر ہم ایک اچھے اور بامقصد خطیب بن پائیں گے۔
(٣) الاطلاع على كثير من العلوم التى تتصل بالجماعات : كالاقتصاد، والشرع، والأخلاق، والاجتماع، وعلم النفس، والأديان؛ فإن الاطلاع على هذه العلوم فوق أنه ينمى فكره، ويوسع مداركه، يجعله على بصيرة في مهمته، ويضع أمامه المصباح الذى يهديه إلى طرق التأثير؛ فيصيب غايته، وينال غرضه.
لوگوں کو کیا مطلوب ہے؟ ماحول میں کس مواد کی زیادہ ضرورت ہے؟ اس کا ادراک ہونا چاہیے، صحیح بات یہ کہ اس کے اندر نبض شناسی ہونی چاہیے، لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے کی لیاقت ہونی چاہیے، بسا اوقات قوم کو کچھ چاہیے ہوتا ہے اور ہمارے خطباء کچھ اور پیش کر رہے ہوتے ہیں، بیشتر مسجدوں میں جانا ہوا، وہاں یہ بات دیکھی کہ خطیب بیان کررہے ہیں، اور پورا مجمع محو نوم ہے، وجہ اس کی یہ کہ یہ خطیب نبض شناس نہیں ہے، قوم کی نفسیات سے واقف نہیں ہے، موجودہ مسائل پر اس کی نگاہ نہیں ہے۔
(٤) الثروة الكثيرة من الألفاظ والأساليب:
يحفظ كثير من خطب من اشتهر باللسن والبيان؛ فإن الخطابة تحتاج إلى تعابير كثيرة، تحتاج إلى أن يعبر عن المعنى الواحد بعدة عبارات، وأساليب متغايرة؛ لكيلا تذهب جدة المعنى، ويصيب السأم النفوس، ولا يمد الخطيب بالعبارات المتغايرة المتحدة المعنى إلا ثروة في الألفاظ والأساليب؛ وحفظ كثير لأقوال المتقدمين، واستيلاء تام على نواحي البيان.
اس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔

(٥) ضبط النفس واحتمال المكاره: فإذا لم يدرع الخطيب بضبط نفس، وسيطرة تامة على إحساسه ومشاعره، لم يستطع السير إلى غاياته، وقديما قال خطيب عربي: "لقد شيبنى ارتقاء المنابر"، وهو قول يدل على مقدار ما كان يعانيه ذلك الخطيب في الاستيلاء على نفسه حتى لا تجشأ و لا نجيش، وحتى لا يضطرب، ولا تأخذه الحبسة.
   (خطیب کے اندر صبر وضبط کا مادہ ہونا چاہیے، قدیم زمانے کے ایک عرب خطیب نے کہا تھا: "
" منبروں پر چڑھنے نے ہی مجھے قبل از وقت بوڑھا کر دیا"، یہ جملہ اس شدید باطنی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جو ایک خطیب کو اپنے نفس پر قابو رکھنے کے لیے برداشت کرنی پڑتی ہے، تاکہ نہ اس کی آواز لڑکھڑائے، نہ جذبات کا سیلاب اس پر غالب آئے، نہ وہ اضطراب کا شکار ہو اور نہ ہی گھبراہٹ کی وجہ سے اس کی زبان بند ہوجائے۔)
(٦) الارتياض والممارسة: إن الفطرة والاطلاع، وثروة الألفاظ، والقراءة الكثيرة، والعلم بالأصول الخطابية لا تكفى في تكوين الخطيب؛ لأن الخطابة ملكة وعادة نفسية لا تتكون دفعة واحدة، بل لابد لمريدها من المعاناة، والممارسة والمران؛ لكي ينمى مواهبه.
  (فطری صلاحیت، وسیع مطالعہ، الفاظ کا وافر ذخیرہ، کثرتِ مطالعہ اور فنِ خطابت کے اصولوں سے آگاہی؛ یہ سب امور مل کر بھی کسی شخص کو کامل خطیب نہیں بنا سکتے؛ اس لیے کہ خطابت ایک ایسا ملکہ نہیں ہے جو یک بارگی حاصل ہوجاۓ، بلکہ اس کے طالب کو مسلسل محنت اور عملی مشق کرنی پرتی ہے، تب جاکر اس کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور اس کی خداداد استعداد پروان چڑھتی ہے۔)
    (الخطابة: أصولها، وتاريخها في أزهر عصورها عند العرب للإمام محمد أبي زهرة رحمه الله: فائدة الخطابة، ص: ٢٣ - ٢٥، ط: دارالفكر العربي)
   ہم سب عہد کریں کہ انجمن کے ذریعے سے پوری ذخیرۂ شریعت کو زبان سے ادا کرنے کی ہم مشق کریں گے،‌ انجمن کے شعبۂ نظامت کا مقصد یہ ہے کہ "ہم پوری ذخیرۂ شریعت کو زبان سے پیش کرنے کی مشق کرلیں" اور انجمن کے شعبۂ ادارت کا مقصد یہ ہے کہ "ہم پوری ذخیرۂ شریعت کو قلم سے‌ لکھنے کی مشق کرلیں"، طالب علمی کے زمانے میں جب یہ دونوں چیزوں کی مشق ہوجاۓ گی تو آپ جہاں بھی ہوں گے تقریر آپ کی سنی جاۓ گی، آپ جہاں بھی ہوں گے تحریر آپ کی پڑھی جائے گی، اگر خدا نخواستہ اس میں کمی رہ گئ تو پوری زندگی اس کا احساس رہے گا، یہ کمی ہمیں ہمیشہ ستائے گی۔
   آپ کو اللہ نے مادرِ علمی؛ دارالعلوم دیوبند سے طالب علمانہ انتساب عطا کیا ہے، اس دیار کے اساطینِ علم کے ماتحت رہ کر آپ شریعت فہمی حاصل کررہے ہیں، اگر آپ کے پاس زبان نہیں ہوگی، قلم نہیں ہوگا، تو قوم کی پیشوائی مشکل ہوگی، ہماری اس کمزوری کی وجہ سے فساق وفجار کو اس باب میں قسمت آزمائی کا موقع مل جاۓ گا۔
   اسی کمی کی وجہ سے اس زمانے میں موٹیویشنل اسپیکر (Motivational Speaker) کی طرف لوگوں کی توجہ بڑھ رہی ہے؛ جن کے پاس علم نہیں ہوتا، صرف لسانیات میں مہارت ہوتی ہے، مغرب زدہ ادیبوں کی تحریریں پڑھی جارہی ہیں، ان کو سننے اور پڑھنے سے لوگوں کو روکنا چاہیے، لیکن یہ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے، بلکہ آپ کو احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے لسانیات کا ماہر بننا پڑے گا، تقریر وتحریر میں بالکل آخری درجہ کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی، اس کے لیے انجمن کے نظام میں شریک ہونے کی مستقل ضرورت ہے۔
   اس مسابقہ میں ماشاء اللہ سب کی تقریریں اچھی رہیں، سب کا مواد عمدہ تھا، یادداشت مضبوط تھی، طرزِ ادا بھی اچھا تھا، ایک بات قابلِ توجہ یہ کہ تقریر میں اشارات طبعی ہونے چاہیے مصنوعی نہیں چاہیے، جب تک مضامین خطیب کے جگر اور فکر کا حصہ نہیں بنتے اس وقت تک اشارات طبیعت کی آمادگی سے ظاہر نہیں ہوپاتے، اس لیے اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
     یہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ آتے ہی آواز کو تیز کردیں، بلکہ آواز کے زیر وبم کو موضوع کے تابع رکھیں، غیر جذباتی موضوع میں آواز کو بالکل آسمان تک پہنچانا یا جذباتی موضوع میں بالکل نرم گفتاری سے کام لینا کمزوری کی بات ہے، لہذا اس سلسلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ موضوع کے اعتبار سے آواز کا انتخاب کریں، موضوع اصلاحی ہوگا تو آواز اس کے حساب سے ہوگی، خطابت کی بہت ساری قسمیں ہیں، اصلاحی خطابت اور ہے، انقلابی خطابت اور ہے، ہر قسم کا مزاج الگ ہے، جب آپ نے اس میدان میں دلچسپی پیدا کی ہے تو اس فن کو اپنے مطالعے کا موضوع بنائیں، آپ اپنی بیاض میں اپنے حاصلِ مطالعہ کو لکھتے جائیں، یہاں تک کہ جب آپ میدان میں اتریں گے تو تیس سالہ پینتیس سالہ تقریری تجربے رکھنے والے کے مقابلے میں خود کو فائق محسوس کریں گے۔
 اللہ تعالی عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!