Translation unavailable. Showing original.
علم کا شوق ایک خوبصورت واقعہ
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے زمانے میں ایک نوجوان کو علم سیکھنے کا شوق ہوا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ امام احمد بن حنبلؒ سے علم سیکھے ، اس نے لوگوں سے حضرت کا پتہ پوچھا ، لوگوں نے کہا کیوں ؟ نوجوان نے کہا ’’ میں ان سے علم سیکھنا چاہتا ہوں ‘‘
لوگوں نے کہا ’’ تم ان سے علم نہیں سیکھ سکتے ، اس لئے کہ وہ تو حکومت کی جانب سے اپنے گھر میں نظر بند کئے گئے ہیں ۔‘‘
نوجوان نے کہا : ’’ مجھے صرف ان کے گھر کا پتہ بتا دو ‘‘ لوگوں نے پتہ بتا دیا ، اب اس نے یہ تدبیر کی کہ اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھ لیں اور فقیر جیسا حلیہ بنا لیا ، پہلے زمانے میں گداگر اور فقیر لوگ مانگنے کے لئے پیسوں کا مطالبہ نہیں کرتے تھے ، بلکہ ایسی صدا لگاتے تھے کہ اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰہِ ۔ لوگ یہ آواز سن کر معلوم کرلیتے کہ کوئی گداگر ہے اور اسے جو کچھ دینا ہوتا دے دیتے ۔ یہ شخص بھی اسی طرح پورے گاؤں جاتا اور صدا لگاتا رہتا کہ اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰہِ ۔
اسی طرح صدائیں لگاتا ہوا یہ شخص امام احمد بن حنبل کے مکان پر بھی پہنچا ، جہاں امام احمد بن حنبل نظر بند تھے اور آپ کو اس گھر سے باہر نکلنے پر حکومت کی اجازت نہیں تھی ، نوجوان وہاں پہنچا اور صدا لگائی >اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰہِ< ۔
امام صاحب نے گداگر کی آواز سنی اور اوپری منزل سے جھانک کر نوجوان کو دیکھا ، یہ سمجھتے ہوئے کہ کوئی فقیر آیا ہے ، انہوں نے اوپر سے ایک درہم پھینکا ۔
نوجوان نے موقع غنیمت جانا اور کہا ’’ حضرت میں درہم کے واسطے نہیں آیا بلکہ میں آپ سے علم سیکھنے کے واسطے آیا ہوں ‘‘ ۔
امام صاحب نے کہا : ’’ بھائی میں سکھا نہیں سکتا ، اس لئے کہ میرے درس پر پابندی لگی ہوئی ہے ، میں قید میں ہوں ۔
نوجوان نے کہا : ’’ حضرت میں روز اسی طرح فقیر بن کر آؤں گا آپ اوپر سے چٹھی میں حدیث لکھ کر پھینک دینا میں اس کو یاد کرلوں گا ‘‘ ۔
امام صاحب نے حامی بھرلی ، چنانچہ یہی معمول رہا ، روزانہ وہ نوجوان امام صاحب کے گھر پر آکر آواز لگاتا اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰہِ ، لوگ سمجھتے کہ گداگر بھیک مانگ رہا ہے اور امام صاحب سمجھ جاتے کہ طالب علم آیا ہے چنانچہ وہ اوپر سے ایک حدیث لکھ کر ڈال دیتے ، یہ اس کاغذ کو لے کر چلا جاتا اور یاد کرلیتا ، اس طرح کافی عرصہ گذر گیا ۔ ایک عرصہ کے بعد حکومت بدل گئی اور امام صاحب سے وہ پابندیاں ختم کردی گئیں بلکہ حکومت ہی کی اجازت واصرار سے جامع مسجد میں آپ کا باقاعدہ درس ہونا شروع ہوگیا