`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com 

محبت… وہ آگ ہے جو جلانے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کو بدل دینے کے لیے آتی ہے۔ جب یہ دل میں اترتی ہے تو نگاہ کا زاویہ بدل جاتا ہے، سوچ کا انداز بدل جاتا ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں، بلکہ انسان خود بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔ پھر محبوب صرف ایک شخصیت نہیں رہتا، بلکہ اس کی ہر نسبت، ہر نشانی، ہر یاد، ہر لفظ اور ہر ادا دل کی دھڑکن بن جاتی ہے۔
اسی لیے اہلِ دل نے کہا ہے:
> "اہلِ محبت کو محبوب کی ہر چیز محبوب معلوم ہوتی ہے۔"

یہ محبت کی دنیا کا سب سے سچا اصول ہے۔
دیکھو! جب ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے تو اس کے چھوٹے سے کپڑے بھی سینے سے لگا لیتی ہے، اس کے ٹوٹے ہوئے کھلونے بھی سنبھال کر رکھتی ہے، اس کی لکھی ہوئی ٹیڑھی میڑھی تحریریں بھی اس کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی دولت بن جاتی ہیں۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ محبت چیزوں کی قیمت نہیں دیکھتی، نسبت کی عظمت دیکھتی ہے۔

تو پھر ذرا سوچو…
جس دل میں اللہ رب العزت کی محبت جاگزیں ہو جائے، وہ اس کی ہر نسبت سے کیوں نہ محبت کرے؟
اسے قرآن کیوں نہ محبوب ہو، جبکہ وہ محبوبِ حقیقی کا کلام ہے؟
اسے سجدہ کیوں نہ محبوب ہو، جبکہ وہ محبوب کے دربار میں پیشانی رکھنے کا شرف ہے؟
اسے مسجد کیوں نہ محبوب ہو، جبکہ وہ محبوب کا گھر ہے؟
اسے تہجد کی تنہائی کیوں نہ عزیز ہو، جبکہ انہی ساعتوں میں بندہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے؟

پھر محبت ایک اور منزل طے کرتی ہے…
وہ منزل ہے عشقِ محمد ﷺ۔
جب عشقِ رسول ﷺ دل میں اترتا ہے تو زندگی کا ہر رنگ بدل جاتا ہے۔ پھر سنت صرف ایک شرعی حکم نہیں رہتی، بلکہ محبوب کی یادگار بن جاتی ہے۔
عاشق جب مسواک کرتا ہے تو اسے لکڑی نہیں دکھائی دیتی، اسے اپنے آقا ﷺ کے لبوں کی نسبت دکھائی دیتی ہے۔
وہ جب درود پڑھتا ہے تو اسے صرف الفاظ ادا کرنے کا احساس نہیں ہوتا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح مدینہ کی گلیوں میں پہنچ گئی ہو۔
وہ جب مدینہ کا نام سنتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، کیونکہ عاشق کے لیے مدینہ ایک شہر نہیں، محبوب کا آستانہ ہے۔
وہ جب گنبدِ خضرا کی تصویر دیکھتا ہے تو دل بے اختیار دھڑک اٹھتا ہے، کیونکہ محبت دلیل نہیں مانگتی، محبت تو بس جھک جانا جانتی ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسی محبت کی زندہ تصویریں تھے۔
کبھی وہ حضور ﷺ کے وضو کے پانی کو ہاتھوں میں لے کر برکت حاصل کرتے، کبھی آپ ﷺ کے مبارک بالوں کو آنکھوں سے لگاتے، کبھی آپ ﷺ کے قدموں کی خاک کو اپنی متاعِ حیات سمجھتے۔ دنیا نے یہ منظر دیکھے اور حیران ہوئی، مگر محبت نے کہا: "یہ تو ابھی ابتدا ہے، عاشق تو محبوب پر اپنی جان بھی نچھاور کر دیتا ہے۔"
یہی محبت تھی جس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو غارِ ثور میں یہ کہنے پر آمادہ کیا کہ اگر کوئی قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا، مگر دل میں صرف ایک فکر تھی کہ کہیں میرے محبوب ﷺ کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔
یہی محبت تھی جس نے حضرت بلالؓ کو تپتی ہوئی ریت پر "أحدٌ أحدٌ" کہنے کا حوصلہ دیا۔
یہی محبت تھی جس نے حضرت خبیبؓ کو تختۂ دار پر یہ اعلان کرنے کی قوت بخشی کہ اگر میری جان چلی جائے تو جائے، مگر میرے آقا ﷺ کے قدم میں کانٹا بھی نہ چبھے۔
اور جب محبت اپنی آخری منزل پر پہنچتی ہے تو اس کا نام فنا فی اللہ ہوتا ہے۔

فنا فی اللہ کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنی حقیقت کھو بیٹھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی انا فنا ہو جائے، خواہش فنا ہو جائے، نفس کی سرکشی فنا ہو جائے، اور باقی صرف اللہ کی رضا رہ جائے۔
پھر بندہ اپنی خوشی نہیں ڈھونڈتا، اللہ کی خوشی ڈھونڈتا ہے۔
اپنی مرضی نہیں چاہتا، اللہ کی مرضی چاہتا ہے۔
اپنی تعریف نہیں چاہتا، اللہ کی رضا چاہتا ہے۔

اس کا ہر قدم یہ کہتا ہے:
> "اے اللہ! میں تیرا ہوں، میری سانسیں تیری ہیں، میری آرزوئیں تیری ہیں، میرا جینا تیرے لیے ہے، میرا مرنا تیرے لیے ہے۔"
پھر عشقِ رسول ﷺ اس محبت کو حسن عطا کرتا ہے، اور محبتِ الٰہی اسے کمال عطا کرتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ دنیا کے ہجوم میں رہ کر بھی صرف اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس کی زبان پر درود ہوتا ہے، دل میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، آنکھوں میں مدینہ کی تڑپ ہوتی ہے، اور سجدوں میں قربِ الٰہی کی پیاس۔

کاش! ہمارا دل بھی اس محبت سے آباد ہو جائے، کہ پھر ہمیں دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر قرآن عزیز ہو، سنت عزیز ہو، مسجد عزیز ہو، اذان عزیز ہو، مدینہ عزیز ہو، اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے محبوب حضرت محمد ﷺ عزیز ہو جائیں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے:
> جس نے اللہ کو پا لیا، اس نے سب کچھ پا لیا؛ اور جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت پا لی، اس نے اللہ تک پہنچنے کا سب سے روشن راستہ پا لیا۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H