نماز تو اس وقت نماز بنتی ہے جب نمازی خشوع وخضوع کا مجسم پیکر بن جائے ۔اقامت صلاۃ کی جھلک اسی وقت ہویدا ہوتی ہے جب فرایض وواجبات کے ساتھ سنت کا اہتمام ہو، اداب و مستحبات کی رعایت ہو، ذہن دنیا ومافیہا سے ہٹ کر بارگاہِ خداوندی میں مستغرق ہو، سارے خیالات سے دل پاک ہوں،سودائے دل میں خدا سمایا ہو،
ایسے کھڑا ہو جیسے خدا کے سامنے کھڑا ہے، نماز کو یوں ادا کرے جیسے اسکی آخری نماز ہے،
پھرتو أن تعبد الله كأنك تراه سماں بندھے گا ۔۔
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رح سرتاپا نماز تھے۔انکی نماز٠أن تعبد اللّٰہ كأنك تراه٠کا عملی نمونہ تھی،سنن و مستحبات مکمل رعایت کرتے تھے پروقار خشوع وسکینہ سے معمور رہتی تھی ۔قیام وقعود ۔رکوع وسجود ۔قراءت وتشہد ۔درود ودعا، قومہ وجلسہ سنت کے موافق ہوتے تھے
انکی نماز گویا آخری نماز ہوتی تھی۔انکی نماز کو کفار بھی محسوس کرتے تھے---- 
 چنانچہ ایک بار آپ سفر میں تھے، اسٹیشن پر ظہر کی نماز کا وقت ہوا، جماعت کا انتظام کیا گیا۔ 
آپ نے ظہر کی سنتیں حسب عادت کمال اعتدال کے ساتھ پڑھیں، اور پھر فرضوں کی جماعت ہوئی
۔ چند انگریز بھی نماز کے منظر کو دیکھ رہے تھے، جماعت سے فارغ ہو کر سب نے سنتوں کی نیت باندھی، اور جب اس سے فارغ ہوگئے تو ایک انگریز نے ایک نمازی سے پوچھا کہ تم کس کی نماز پڑھ رہے ہو؟ کہا :خدا کی نماز پڑھتے تھے۔ انگریز نے حضرت کی طرف اشارہ کر کے پوچھاکہ یہ کس کی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ 
کہایہ بھی خدا کی نماز پڑھ رہے ہیں ۔
تو وہ انگریز بے ساختہ بولا:کہ ہاں یہ پادری تو بیشک خدا کی نماز پڑھتا ہے مگرتم خدا کی نماز نہیں پڑھتے 
معلوم نہیں کس کی نماز پڑھتے ہو۔

ایک بار آپ نے خود فرمایاکہ نماز پڑھتے ہوئےنہ مجھے شوروغل پر التفات ہوتا ہےنہ گانے بجانے پر ۔۔۔
البتہ کہا:کہ کوئی قرآن پڑھنے لگے تو منازعت ہونے لگتی ہے اور اس طرف التفات کے لیے مجبور ہو جاتا ہوں ۔
اسکا راز حبِ کلام اللہ تھا کہ اس کوسن کر خود بخود طبیعت مائل ہوجاتی تھی 
 مالی انازع القرآن کی حقیقت کا انکشاف کیا کرتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔
       نماز میں سنت واستحباب کی رعایت
 حضرت کو نماز کے ہر جز میں سنت و مستحبات کی رعایت اور 
فقہاء حنفیہ کے اتباع کا اہتمام تھا۔ 
ایک مرتبہ مولوی ظفر احمد صاحب سے فرمایا مولوی ظفر تم ظہر کی نمازمیں طوال مفصل نہیں پڑھتے؟
 عرض کیا: کہ نہیں بلکہ اوساط مفصل پڑھتا ہوں ۔ فرمایا :کہ فقہاء حنفیہ تو فجر و ظہر دونوں میں طوال کو سنت فرماتے ہیں اس کی رعایت کیا کرو۔
 اس روز مولوی صاحب نے نماز ظہر میں سورہ ق پڑھ دی جو نمازیوں پر بار ہوئی۔ نماز کے بعد حضرت نے فرمایا میرا یہ مطلب نہ تھا کہ فجر ظہر کی قرارت برابر کرو بلکہ فجر کو لمبا ہونا چاہئے اور ظہر کی کم ۔
دیکھو طوال میں سورۃ التکویر اور سورۃ الانفطار بھی تو ہے ،ظہرمیں طوال کی ایسی ہی سورتیں پڑھا کرو،زیادہ لمبی نہیں جو مصلین پر بھاری پڑے ۔۔۔
(تذکرۃ الخلیل ص312....)