امام یونس بن عبید رحمہ اللہ (١٣٩ھ) کسی مصیبت کا شکار ہوئے تو لوگوں نے کہا : ”آپ کے دوست ابن عون رحمہ اللہ آپ سے افسوس کرنے نہیں آئے۔“ یونس کہنے لگے : ”جب ہم ایک دفعہ اپنے دوست کی محبت کا اعتبار کر لیتے ہیں تو اُس کو آنے یا نہ آنے کے میزان پر نہیں تولتے۔“

(روضة العقلاء لابن حبان : ٨٩ ، العزلة للخطابي : ٤١)

امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ (١٩٦ھ) فرماتے ہیں : سفیان ثوری رحمہ اللہ بیمار ہوئے تو میں ان کی عیادت میں تاخیر کا شکار ہو گیا۔ پھر جب میں ان کے پاس گیا تو عذر پیش کیا۔ سفیان کہنے لگے: ”میرے بھائی! عذر نہ پیش کرو، کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ عذر بیان کرنے والا جھوٹ نہ بولے۔ بات تو یہ ہے کہ دوست سے کسی بات پر حساب نہیں لیا جاتا، اور دشمن کو کسی حساب میں نہیں رکھا جاتا۔“

(شعب الإيمان للبيهقي : ٧٩٩٥)

https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu