شعائر اسلام کی حفاظت ہماری ذمہ داری
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
اسلام ایک آفاقی اور سماوی دین ہے، جس کے تمام احکامات فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تکلف یا تصنع نہیں پایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو احکامات عطا فرمائے ہیں، وہ مکمل حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں، اور انسان کو اس کی طاقت و استطاعت سے بڑھ کر کسی چیز کا مکلف نہیں بنایا گیا۔
دین کے احکامات ہی دراصل شعائرِ اسلام ہیں، جن کی تعظیم ہر مسلمان پر لازم ہے۔ ان کے بغیر کسی شخص کا مسلمان ہونا مکمل نہیں ہوتا۔ ان پر ایمان لانا، دل و جان سے ان کا اقرار کرنا اور ان کی تعظیم کرنا واجب ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ سب شعائرِ اسلام ہیں، جن کے ذریعے ایک شخص کے مسلمان ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔
حدیثِ نبوی میں بھی ایک مسلمان کی پہچان بیان کی گئی ہے: "من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فھو مؤمن"۔ یعنی جو ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے، وہ مومن ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شعائرِ اسلام کا احترام کرے، ان پر عمل کرے، ان کی حفاظت کرے اور ان کی ترویج و اشاعت کو اپنا فرض سمجھے۔ بلکہ اپنی جان سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرے۔ شعائرِ اسلام کی بقا کے لیے صحابۂ کرام اور ان کے متبعین نے ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کیا اور کبھی سستی یا غفلت کو روا نہیں رکھا۔ انہوں نے دین کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کر دیا۔ سنت کو زندہ رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی زندگیوں کو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے تابع بنا لیا اور کسی صورت شعائرِ اسلام میں کمی کو برداشت نہیں کیا۔
آج کے دور میں منظم انداز میں شعائرِ اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مساجد پر پابندیاں، اذان پر اعتراضات، حجاب اور طلاق جیسے مسائل پر سوالات، اور اوقاف کی جائیدادوں پر قبضے کی کوششیں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ اسلام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ افسوس کہ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان شعائر کی حفاظت کریں، ان کے دفاع میں آواز بلند کریں، اور ان کی بقا کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ لیکن آج ہم بزدلی اور غفلت کے باعث یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔