*گاؤں دیہات میں بال بیچنے کی بڑھتی ہوئی رسم: علماء کرام کی فوری توجہ کی ضرورت*
خامہ بکف: محمد معصوم ارریاوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمارے گاؤں دیہات اور قصبات میں بعض ایسی رسمیں خاموشی کے ساتھ رائج ہیں جنہیں لوگ معمولی سمجھ کر انجام دیتے رہتے ہیں، حالانکہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وہ درست نہیں ہوتیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ لاعلمی کی وجہ سے ان کاموں کو جائز سمجھتے ہیں، بلکہ بعض اوقات پورا معاشرہ ایک غلط رواج کو معمول بنا لیتا ہے۔
چند دن پہلے ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس نے دل کو بے حد بے چین کر دیا۔ ایک (بھائی) صاحب نے فون کرکے ایک شرعی مسئلہ دریافت کیا کہ سر سے کنگھی کرتے وقت گرنے والے یا ٹوٹے ہوئے بالوں کو جمع کرکے بیچنا کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ (بھابھی صاحبہ) کئی سال سے اپنے گرے ہوئے بال جمع کرتی رہی ہیں، اس نیت سے کہ جب کافی مقدار میں ہوجائیں گے تو انہیں فروخت کرکے کچھ رقم حاصل کر لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاؤں میں بہت سی عورتیں ایسا کرتی ہیں، بلکہ بعض بچے بھی یہ بال فروخت کرکے اس کے پیسے سے کھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں۔
یہ سن کر نہایت افسوس ہوا۔ مزید حیرت اس وقت ہوئی جب معلوم ہوا کہ یہ کوئی ایک گھر کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے بہت سے گاؤں دیہات میں یہ ایک عام رواج بن چکا ہے۔ اس گفتگو نے بچپن کی وہ یادیں بھی تازہ کر دیں جب ہم بھی اپنے اردگرد عورتوں اور بچوں کو اسی طرح بال جمع کرتے اور فروخت کرتے دیکھا کرتے تھے۔
میں نے حتیٰ المقدور انہیں سمجھایا کہ انسان کے بال اس کے جسم کا حصہ ہیں، ان کی خرید و فروخت شریعت میں درست نہیں ناجائز ہے۔ اور بعض فقہاء نے حرام بھی لکھا ہے۔ انہوں نے بات قبول بھی کی، لیکن ساتھ ہی یہ دلیل دی کہ "ہمارے گاؤں کی اکثر عورتیں تو یہی کرتی ہیں۔"
یہی وہ جملہ ہے جو ہمارے معاشرے کے ایک بڑے المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کسی کام کا عام ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔ حق وہی ہے جو قرآن و سنت اور اہلِ علم کی رہنمائی کے مطابق ہو، نہ کہ وہ جو لوگوں میں رائج ہو۔
اسی دوران اگلے دن بعد نمازِ عصر حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم العالیہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس میں شرکت کا موقع ملا۔ حضرت نے نہایت مؤثر انداز میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت بیان فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ جو علم اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے، اسے دوسروں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر انسان حق بات جاننے کے باوجود اسے لوگوں تک پہنچانے میں غفلت برتے تو یہ بہت بڑی کوتاہی ہے۔ حضرت کی یہ نصیحت دل میں اتر گئی، اور فوراً یہی خیال آیا کہ اس مسئلے پر بھی علماء کرام اور عوام الناس کی توجہ دلائی جانی چاہیے تاکہ اس غلط رواج کا خاتمہ ہوسکے۔
علماء کرام، ائمہ مساجد اور دینی کارکنان سے گزارش
ہم اپنے علاقے کے تمام علماء، ائمہ، حفاظ، خطباء اور دینی کارکنان سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو معمولی نہ سمجھیں۔ جمعہ کے خطبات، اصلاحی بیانات، خواتین کی دینی مجالس اور گھریلو نشستوں میں اس موضوع پر بھی روشنی ڈالیں۔ خصوصاً خواتین کو یہ بتایا جائے کہ گرے ہوئے بالوں کو فروخت کرنے کے بجائے انہیں مناسب طریقے سے ضائع کر دیا جائے، مثلاً زمین میں دفن کر دیا جائے یا ایسی جگہ ڈال دیا جائے جہاں ان کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔
اسی طرح والدین بھی اپنے بچوں کو اس بات کی تعلیم دیں کہ وہ بال جمع کرکے فروخت کرنے یا اس کے عوض چیزیں خریدنے کی عادت سے بچیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا معاملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب ایک غلط رسم پورے معاشرے میں عام ہوجائے تو اس کی اصلاح بھی اجتماعی کوشش سے ہی ممکن ہوتی ہے۔
آخر میں ہم سب کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح علم عطا فرمائے، اس پر عمل کی توفیق دے، اور ہمارے ذریعے دوسروں کی اصلاح کا بھی ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گاؤں دیہات، ہمارے گھروں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہر قسم کی غلط رسومات، بدعات اور خلافِ شریعت اعمال سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یارب العالمین
٤/اگست ٢٠٢٦
٢٠/صفر المظفر ١٤٤٨ منگل