✍🏻بنت ابوالخیر اعظمیؔ

الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں۔ ہماری زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہے، ہمارے نام اسلامی ہیں، ہماری شناخت مسلمان کی ہے، اور ہمیں اس بات پر فخر بھی ہے کہ ہم امتِ محمدیہ ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے دل سے یہ سوال ضرور کیجیے: کیا ہم حقیقتاً مسلمان ہیں، یا صرف نام کے مسلمان؟

اسلام صرف ایک مذہب کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات، ایک زندہ تہذیب، ایک پاکیزہ کردار اور ایک ہمہ گیر نظامِ زندگی کا نام ہے۔ مسلمان وہ نہیں جو صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کرے، بلکہ مسلمان وہ ہے جس کا عقیدہ خالص، عبادت درست، اخلاق حسین، معاملات شفاف اور کردار قرآن و سنت کا آئینہ دار ہو۔

آج المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو رسم و رواج تک محدود کر دیا ہے۔ عبادات میں سستی، معاملات میں خیانت، گفتار میں جھوٹ، وعدوں میں خلاف ورزی، تجارت میں دھوکا، اور زندگی کے بیشتر شعبوں میں شریعت سے بے اعتنائی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ہم قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں، مگر اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے سے غافل ہیں۔ ہم نبیِ کریم ﷺ سے محبت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر آپ ﷺ کی سنت کو اختیار کرنے میں تساہل برتتے ہیں۔

یہ کیسا اسلام ہے کہ مسجدوں میں صفیں بھری ہوئی ہیں مگر دل کینہ، حسد، تکبر اور بغض سے لبریز ہیں؟ زبان پر اللہ کا ذکر ہے، لیکن معاملات میں انصاف مفقود ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں مگر دوسروں کے حقوق پامال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم دین کی عزت چاہتے ہیں، مگر اپنے کردار سے دین کی نمائندگی نہیں کرتے۔

 اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا نام نہیں، بلکہ والدین کی خدمت، صلہ رحمی، سچائی، دیانت، حیا، عدل، رحم، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق بھی اسلام ہی کا حصہ ہیں۔ ایک مسلمان کی سب سے بڑی پہچان اس کا کردار ہوتا ہے، کیونکہ کردار وہ خاموش دعوت ہے جو بغیر الفاظ کے دلوں کو فتح کر لیتی ہے۔

آج امتِ مسلمہ کو دشمنوں سے زیادہ اپنے نفس، اپنی غفلت اور اپنی بے عملی سے خطرہ ہے۔ ہم نے قرآن کو طاقوں کی زینت بنا دیا، سنت کو مشکل سمجھ لیا، اور دنیا کی محبت کو اپنے دلوں پر غالب کر لیا۔ یہی وہ اسباب ہیں جنہوں نے ہمیں کمزور، منتشر اور بے اثر بنا دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کا محاسبہ کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ اپنے ایمان کی تازگی، اپنی عبادت کی اخلاص، اپنے اخلاق کی پاکیزگی اور اپنے معاملات کی درستگی کا جائزہ لیں۔ اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو ہمارا ہر قول، ہر فعل، ہر فیصلہ اور ہر قدم اسلام کی خوشبو سے معطر ہونا چاہیے۔

 آج ہم اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ ہم صرف نام کے مسلمان نہیں رہیں گے، بلکہ قرآن کو اپنا دستور، سنتِ رسول ﷺ کو اپنا راستہ، تقویٰ کو اپنا سرمایہ، اور حسنِ اخلاق کو اپنی پہچان بنائیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت، آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

آخر میں صرف ایک سوال
ہم مسلمان تو ہیں… مگر کیا ہمارا ایمان، ہمارا کردار، ہمارے معاملات اور ہماری زندگی بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں؟

اگر اس سوال کا جواب ہمیں خاموش کر دے، تو سمجھ لیجیے کہ یہی خاموشی ہماری اصلاح کی پہلی صدا ہے۔