Translation unavailable. Showing original.
أصحاب الاخدود
03 اگست، 2026
انسان بندہ ہے خدا کا،بندہ کا کام خدا کی بندگی کرنا ہے، ۔اسی کے نام پر جینا اور مرنا،اسی سے ڈرنا ،کسی غیر سے نہ گھبراناہے ،اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا ہی خدا کی بندگی ہے،۔خواہ حالات کیسے بھی ہوں
کتنی بھی مہیب وبھیانک آندھیاں آئیں،کتنے بھی حالات ۔واذ بلغت القلوب الحناجر کا مصداق بن جائیں،انکے آگے بے بس ہوجانا،بندگی کے لبادہ کو اتاردینا ۔بندوں کا کام نہیں، گندوں کاعمل ہے ۔کیوں کہ دنیا کی تکالیف آخرت کی تنگنائیو کے مقابلے میں ہیچ ہے
اصحاب الاخدود اسی کا درس دیتا ہے ۔۔
واقعہ اخدود ۔
یہ المناک واقعہ نبی ص کی ولادت سے ٧٠ سال قبل پیش آیا تھا،
نجران میں ایک بادشاہ جسکا نام یوسف ذونواس تھا ،اسکا مصاحب ایک کاہن ،اور ایک روایت کے مطابق جادو گر تھا وہ بوڑھا ہوچلا تھا ۔اس نے بادشاہ سے عرض کیا کہ میں موت کی عمر کو آلگا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ میں دنیا کو الوداع کہہ دوں اور میرا علم منقطع ہوجائے ؛لہذا آپ میرے لیے کوىی ہوشیار لڑکا تلاش کریں تاکہ میں اسے اپنا علم سکھادوں-
چناں چہ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا کہ ساحر سے علم سیکھتا رہے ۔لڑکے نے آمدورفت سلسلہ شروع کردیا ۔۔۔
وہ لڑکا جس راہ سے جاتا تھا اس راہ میں ایک راہب کی خانقاہ پڑتی تھی لڑکا ساحر کے پاس آمدورفت کے ساتھ ساتھ خانقاہ کے چکرلگاتا راہب سے بات چیت سوالات وجوابات تبادلۂ خیال کیا کرتا تھا،جسکی وجہ سے ساحر کے گھر دستک دیر سے ہونے لگی،
ساحر نے بچے کے اہل خانہ سے شکایت کی کہ آپ کا بچہ میری کلاس میں تاخیر سے آتا ہے ۔بچہ کو اسکا علم ہوا، اس نے راہب کو بتایا کہ گھر پر شکایت پہونچ گئی ہے ۔راہب نے کہا:جب تو پادری کے پاس دیرسے پہونچے تو کہنا گھر والوں نے روک لیا،اور جب تو گھر دیر سے پہونچے تو کہنا کہ اسٹرا کلاس چل رہی ہے ،ایک مدت تک یہی سلسلہ جاری رہا -
ایک بار لڑکا ساحر کے پاس جارہا تھا اس نے ایک بہت بڑا جانور (شیر) دیکھا جس نے لوگوں کی چلت پھرت روک رکھی تھی،پس لڑکے نے جی میں کہا کہ:آج حق وباطل کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کون حق کی راہ پر گامزن ہے؟
چناں چہ لڑکے نے ایک پتھر اٹھاکر کہا:اے اللہ:اگر راہب کا عمل زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ہلاک کردے --
لڑکے نے پتھر اٹھاکر مارا وہ جانور یکایک ہلاک ہوگیا _
بچہ نے راہب کو اس واقعہ کی خبر دی،راہب نے کہا:بے شک تیری ایک شان ہوگی اور تیری آزمائش بھی زیادہ ہوگی تم میرے متعلق کسی کو نہ بتلانا_
ادھر لوگوں کے مابین چہ میگوئیاں ہونے لگی کہ اس بالک کے پاس ایسا علم ضرور ہوگا جس سے ہم کورے ہیں۔شدہ شدہ یہ بات ایک نابینا کے پاس پہونچی جو بادشاہ کا مصاحب تھا۔وہ بچے پاس آکر کہتا ہے۔تم میری آنکھیں درست کردو میں گرانقدر انعام سے نوازوں گا ۔بچے نے کہا:مجھے اسکی آرزو نہیں لیکن اگر آپکی آنکھ بحال ہوگئی تو بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لاؤ گے؟اس نے کہا: ضرور -
بچہ اللہ سے دعا گو ہوا،وہ نابینا شخص یکلخت شفایاب ہوگیا،وہ فوراً درست دین کی آغوش میں آگیا ۔۔۔۔
وہ آدمی شاہی دربار میں حسب معمول جابیٹھا ۔جب بادشاہ نے دیکھا تو گویاں ہوا کہ تمہاری بینائی کس نے لوٹائی؟.مصاحب نے جواب دیا،میرے پالنہار خدا نے ۔بادشاہ نے کہا کہ میرے سوا بھی تمہارا کوئی رب ہے؟اس نے جواب دیا کہ اللّٰہ میرا اور تمہارا رب ہے ،جب بادشاہ کو اسکی تفصیل معلوم ہوئی ۔تواس نے۔راہب ۔نابینا۔اور بچہ کو بلایا،بادشاہ نے راہب اور نابینا کے آرے سے دو ٹکڑے کروادیا،اور لڑے کے لیے حکم دیا،کہ اسکو پہاڑ سے سر کے بل گرادیا جاۓ، بادشاہ کے غلام اس کو پہاڑ پر لے کر گئے پہاڑ سے گرانے کا ارادہ کیا ۔بچہ نے دعاکی کہ اے اللّٰہ ان سے جس طرح بدلہ لینا چاہتا ہے بدلہ لے لے ۔
چناں چہ بادشاہ کے سپاہی پہاڑ سے لڑھکنے لگے اور ہلاک ہوگیے،صرف لڑکا بچا وہ لڑکا واپس دربار میں واپس آگیا ۔بادشاہ نے کہا: میرے آدمیوں کے ساتھ کیاکیا؟ اس نے کہا:میرے رب نے جیسے چاہا ویسے بدلہ لیا ----
بادشاہ نے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیا ،بادشاہ کے سپاہی اس کو سمندر لے گیے بچہ نے وہی دعا کی،اللّٰہ نے ان افراد کو ہلاک کر دیا لڑکے کو نجات دی ۔لڑکا پانی پر چلتا ہوا باہر نکل آیا،بادشاہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا اسکے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگی-
پھر لڑکے نے کہاکہ: تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟اس نے جواب دیا:ہاں،لڑکے نے کہا: تم مجھ پر ہرگز غالب نہیں آسکتے ہو ۔ہاں ایک صورت ہے کہ لوگوں کو میدان میں جمع کرو،مجھے ایک تختہ سے باندھ دو،یہ کہہ کر تیر مارو ۔بِسْمِ اللّٰه رَبِّ هٰذَا الْغُلَامِ___
بادشاہ نے ایسا ہی کیا لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا لڑکے کو تخت سے باندھنے کا حکم دیا بادشاہ نے بچہ کے ترکش سے تیر نکالا یہ کہہ کر لڑکے کو تیر مارا ۔بِسْمِ اللّٰه رَبِّ هٰذَا الْغُلَامِ___ تیر سیدھا بچہ کی کنپٹی پہ لگا بچہ شہید ہوگیا شہید ہوتے وقت اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھ لیا تھا ۔یہ منظر دیکھ کر لوگ جوق در جوق حلقۂ بگوش اسلام ہونے لگے ۔چناں چہ بادشاہ نے فرمان جاری کیا کہ خندقیں کھودی جائیں ۔لکڑیاں چنی جاییں،خندقوں میں ڈالی جاییں،پھر آگ لگائی جائے،اور جنھوں نے بچہ کے مذہب کو قبول کیا اگر وہ باز نہ آئیں تو انھیں آگ کے سپرد کردیا جائے،چناں چہ مسلمان آگ میں ڈالے جانے لگے اسی دوران ایک عورت کو آگ میں ڈالنے لگے اس کی آغوش میں شیر خوار بچہ تھا وہ عورت اس پھول کیوجہ سے گھبرا گیی،اس بچہ نے کہا:اماں جان: آپ خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ آپ حق پر ہیں ۔۔۔
یہ وہ قصہ ہے جسکا قرآن نے بہت ہی لاجواب انداز میں نقشہ کھینچا ہے ۔۔
( قُتِلَ أَصْحَبُ الْأَخْدُودِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ ) وَ مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ....
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ اس لڑکے کا نام (عبد اللہ بن التامر)تھا دور فاروقی میں کسی نجرانی آدمی نے ضرورت کی بناء پر ایک ویران جگہ کھودی انہیں دیوار کے نیچے ایک لڑے کی لاش ملی لڑکے کا ہاتھ کنپٹی پر رکھا ہوا تھا جہاں پر تیر لگا تھا،اس کی انگشت میں ایک انگوٹھی تھی جس پر،رَبِّيَ الله کندہ تھا ۔۔حضرت عمر رض کو بذریعہ تحریر اس واقعہ کی اطلاع ملی ۔حضرت عمر رض نے جواب بھیجا کہ اس لاش کو اس کے حال پر چھوڑ دو،لوگوں نے لاش کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔
(حیات الحیوان ج٢ص٣٩)