معصوم دلوں کی حفاظت کیجیے
اولاد کی تربیت میں حکمت، شفقت اور انسانی نفسیات کی اہمیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (115)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
معزز قارئین! ہم سب کسی نہ کسی حیثیت سے ایک بچے کی زندگی سے وابستہ ہیں۔ کوئی باپ ہے، کوئی ماں، کوئی استاد، کوئی پڑوسی، کوئی رشتہ دار، اور کوئی محض معاشرے کا ایک فرد۔ اس لیے بچوں کی تربیت، ان کی عزتِ نفس اور ان کے معصوم جذبات کی حفاظت صرف والدین یا اساتذہ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسی احساس کے تحت چند گزارشات، مشاہدات اور تلخ تجربات نہایت اخلاص اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں ہمارے لیے اصلاح، خیرخواہی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔
اسی خیرخواہانہ جذبے کے ساتھ آئیے، اس عظیم نعمت کے بارے میں چند اہم پہلوؤں پر غور کرتے ہیں۔
اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ کریم نے مال و اولاد کو دنیا کی زندگی کی زینت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾
"مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔" (سورۃ الکہف: 46)
جب اللہ تعالیٰ نے اولاد کو انسان کے لیے زینت اور نعمت قرار دیا ہے تو فطری طور پر ہر ماں باپ کے دل میں اس کے لیے بے پناہ محبت، غیر معمولی شفقت اور گہری حساسیت بھی رکھ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد سے متعلق پیش آنے والا ہر خوشگوار یا ناخوشگوار واقعہ سب سے پہلے والدین کے دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ہر ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے فطری محبت، بے پایاں شفقت اور غیر معمولی حساسیت ودیعت کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے بچے کو برا بھلا کہے، اس کی تحقیر کرے، اس کا مذاق اڑائے، یا ان کے سامنے اسے سخت سزا دے، تو یہ منظر والدین کے دل پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ بہت سے والدین خاموش رہتے ہیں، دل ہی دل میں کڑھتے ہیں اور اس دکھ کو اپنے سینے میں دبا لیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات یہی کیفیت اختلاف، بداعتمادی بلکہ باہمی نزاع تک جا پہنچتی ہے۔
اسی حقیقت کے پیشِ نظر سب سے پہلے اساتذۂ کرام کی خدمت میں چند مؤدبانہ گزارشات پیش ہیں، کیونکہ والدین کے بعد بچوں کی شخصیت سازی اور کردار سازی میں سب سے مؤثر کردار استاد ہی کا ہوتا ہے۔
اساتذۂ کرام کے لیے ایک اہم گزارش
اساتذہ انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔ ان کا مقام نہایت بلند اور ان کی ذمہ داری انتہائی عظیم ہے۔ وہ صرف علم منتقل نہیں کرتے بلکہ نسلوں کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تعمیر بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے اس منصب کا تقاضا ہے کہ وہ طالب علم کی نفسیات، اس کے گھریلو ماحول اور والدین کے جذبات کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔
میری مؤدبانہ گزارش یہ ہے کہ حتی المقدور والدین کے سامنے بچے کو سزا دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اگر تنبیہ ناگزیر ہو تو وہ حکمت، انفرادی انداز، خیرخواہی اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ کی جائے، تاکہ بچے کی اصلاح بھی ہو، اس کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہے، اور استاد و شاگرد کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی متاثر نہ ہو۔
ایک اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ بسا اوقات والدین خود غصے، پریشانی یا بے بسی کے عالم میں استاد سے کہتے ہیں:
"حضرت! یہ بچہ بہت شرارت کرتا ہے، مدرسہ یا اسکول آنے کا نام ہی نہیں لیتا، آپ میرے سامنے ہی اسے سزا دیجیے تاکہ اسے سبق مل جائے۔
ایسے موقع پر استاد کو صرف والدین کے وقتی جذبات کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ ایک مخلص مربی، دور اندیش معلم اور حقیقی خیر خواہ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔ اس لیے کہ والدین اس وقت جذبات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں، جبکہ استاد کا ہر فیصلہ بچے کے مستقبل، اس کی نفسیات اور اس کی شخصیت کی تعمیر کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک حکیم استاد صرف موجودہ شرارت کو نہیں دیکھتا، بلکہ آنے والے برسوں کے نتائج پر بھی نظر رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بعض اوقات ایک لمحے کی بے احتیاطی ایسے اثرات چھوڑ جاتی ہے جن کی تلافی بعد میں ممکن نہیں رہتی۔
اسی حکمت کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس طرزِ عمل کے کئی ایسے نقصانات ہیں جو بسا اوقات برسوں بعد ظاہر ہوتے ہیں، مگر اس وقت ان کا ازالہ آسان نہیں رہتا۔
پہلی خرابی: بچے کی نفسیات متاثر ہو جاتی ہے
جب ایک بچہ اپنے والدین یا دوسرے لوگوں کے سامنے استاد کے سخت لہجے، ڈانٹ یا سزا کا سامنا کرتا ہے تو بظاہر وہ خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے ننھے دل میں ایک خاموش طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے اندر ضد، ہٹ دھرمی اور بغاوت کے جذبات جنم لینے لگتے ہیں۔ بعض اوقات استاد کی عظمت اور والدین کی وہ فطری ہیبت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ بنائی ہے۔
نتیجتاً وہ تعلیم سے بددل ہونے لگتا ہے، سبق میں دل نہیں لگتا، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جسم تو مدرسہ یا اسکول میں موجود ہوتا ہے، مگر دل علم سے دور ہو چکا ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا.
آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو، خوشخبری دو اور لوگوں کو نفرت میں مبتلا نہ کرو۔
(صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 69)
یہی تعلیم و تربیت کا وہ سنہرا اصول ہے جس پر ہر استاد، مربی اور والدین کو اپنی عملی زندگی کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ اصلاح کا مقصد دلوں کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں؛ اور تربیت کا اصل حسن یہی ہے کہ بچے کے دل میں علم، استاد اور دین کی محبت پیدا ہو، نہ کہ خوف اور نفرت۔
دوسری خرابی: ایک پرانا منظر، آئندہ کے ہر اختلاف کی بنیاد بن جاتا ہے
فرض کیجیے کہ وہی بچہ بعد میں سنبھل گیا، تعلیم بھی جاری رکھی، لیکن کسی نئی شرارت یا کوتاہی پر اسے دوبارہ تنبیہ یا سزا دینی پڑی، اور اس نے گھر جا کر والدین سے شکایت کر دی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین کے ذہن میں فوراً وہ پہلا منظر تازہ ہو جاتا ہے جب ان کے سامنے بچے کو سزا دی گئی تھی، اگرچہ اس وقت خود انہی کی خواہش، اجازت یا اصرار پر وہ سزا دی گئی ہو۔ لیکن انسانی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وقتی جذبات ٹھنڈے پڑ جانے کے بعد انسان کو اپنی رضامندی سے زیادہ اپنے بچے کی تکلیف یاد رہتی ہے۔
پھر موجودہ واقعہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ماضی کا وہ منظر دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ بات نئی سزا سے شروع ہوتی ہے، لیکن ختم برسوں پرانی یاد پر ہوتی ہے۔ یوں ایک معمولی سا اختلاف آہستہ آہستہ تلخی میں، تلخی بداعتمادی میں، اور بداعتمادی استاد اور والدین کے درمیان تعلقات کی کمزوری کا سبب بن جاتی ہے۔
اسی لیے ایک دور اندیش استاد وقتی جذبات کے بجائے مستقبل کے نتائج کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ وہ صرف ایک غلطی کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ اعتماد، احترام اور حسنِ تعلق کے اس رشتے کی بھی حفاظت کرتا ہے جس پر کامیاب تربیت کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔
تیسری خرابی: ایک تلخ یاد پوری زندگی کا بوجھ بن جاتی ہے
بچپن کی بعض تلخ یادیں وقت گزرنے کے ساتھ مٹتی نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کئی لوگ بڑے ہونے کے بعد اپنی تعلیمی زندگی کے واقعات بیان کرتے ہیں۔ کبھی افسوس کے ساتھ، کبھی حسرت سے، اور کبھی بظاہر ہنستے ہوئے؛ مگر ان کے لہجے میں چھپی ہوئی کسک اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بعض سخت رویّوں نے ان کے دل پر ایسے نقوش چھوڑے جو برسوں بعد بھی مٹ نہ سکے۔
اس لیے سزا ایسی ہونی چاہیے جو اصلاح کا ذریعہ بنے، انتقام کا نہیں؛ جو بچے کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے بلکہ اس کے کردار کو سنوارے؛ جو اسے علم، استاد اور دین سے قریب کرے، نہ کہ ان سب سے دور کر دے۔
اسلام کا تربیتی اصول
رسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ﴾
"یہ اللہ کی رحمت ہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم خو اور نرم مزاج ہیں۔"
(سورۃ آل عمران: 159)
چنانچہ آپ ﷺ نے سختی، تحقیر اور بے جا شدت کے بجائے محبت، حکمت، تدریج اور حسنِ اخلاق کے ذریعے دلوں کو فتح کیا، انسانوں کی اصلاح فرمائی اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد احترام، شفقت اور خیرخواہی پر قائم تھی۔
لہٰذا یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلام اصلاح کا مخالف نہیں، بلکہ بے حکمت سختی، تحقیر اور ایسی تادیب کا مخالف ہے جو اصلاح کے بجائے دلوں میں نفرت اور دوری پیدا کر دے۔
پڑوسی بھی یاد رکھیں… ہر بچہ صرف اپنے گھر کا نہیں، پورے معاشرے کا بچہ ہوتا ہے
یہ حقیقت صرف اساتذۂ کرام تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد، خصوصاً پڑوسیوں کے لیے بھی قابلِ توجہ ہے۔ ایک صحت مند اور پُرامن معاشرہ صرف اچھی تعلیم سے نہیں، بلکہ اچھے رویّوں سے تشکیل پاتا ہے۔
بچے اگر آپ کی گلی، صحن یا آنگن میں کھیلنے آ جائیں تو ہر معمولی بات پر غصہ کرنا، ڈرانا، دھمکانا یا مار کر بھگا دینا مسئلے کا حل نہیں۔
آخر بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے۔ اس سے غلطی بھی ہوگی، شور بھی ہوگا، دوڑے گا، کھیلے گا، اور کبھی اپنے ہم عمر بچوں سے معمولی جھگڑا بھی کر بیٹھے گا۔ یہی بچپن کی فطرت ہے۔
ایسے موقع پر اگر آپ بعض معمولی باتوں سے درگزر کر لیں، مناسب وقت پر شفقت اور محبت سے سمجھا دیں، تو نہ صرف بچے کے دل میں آپ کی عزت پیدا ہوگی بلکہ وہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھے گا، اور آئندہ آپ کی نصیحت کو زیادہ خوش دلی سے قبول کرے گا۔
لیکن افسوس! بعض اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کے دل میں پڑوسی کے بچے کے لیے ایسی ناگواری پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کا محض ان کی گلی یا آنگن میں آ جانا بھی انہیں ناگوار گزرتا ہے۔ پھر بات بات پر ڈانٹ، معمولی بات پر دھمکی، اور کبھی کسی چھوٹی سی شرارت پر مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
یوں ایک معصوم بچہ، جو محبت کی تلاش میں آیا تھا، نفرت کا احساس لے کر واپس لوٹتا ہے۔
بار بار کی شکایتیں… بڑے جھگڑوں کا آغاز
یہ منظر بھی ہمارے معاشرے میں بارہا دیکھنے کو ملتا ہے کہ بچہ کھیلتے کھیلتے کسی کے گھر کے سامنے چلا گیا، کسی چیز کو ہاتھ لگا دیا، یا دوسرے بچوں سے معمولی سا جھگڑا ہو گیا۔
اگر ایسے موقع پر برداشت، درگزر اور حکمت سے کام لیا جائے تو معاملہ وہیں ختم ہو سکتا ہے، بلکہ ایک مسکراہٹ اور دو محبت بھرے جملے اس کی بہترین اصلاح بھی کر سکتے ہیں۔
لیکن جب ہر دوسرے دن والدین کے دروازے پر جا کر یہ کہا جائے:
"تمہارا بچہ پھر آ گیا تھا..."
"تمہارا بچہ بہت خراب ہے..."
"اپنے بچے کو سنبھالو..."
تو آہستہ آہستہ شکایت، خیرخواہی نہیں رہتی بلکہ طعنہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
والدین بھی آخر انسان ہیں۔ وہ اپنے بچے کو سمجھاتے بھی ہیں، ڈانٹتے بھی ہیں، مگر آخر بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے، اس سے ہر وقت مکمل سمجھ داری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
جب شکایتوں کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ والدین کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ شاید ہمارے بچے سے زیادہ مسئلہ شکایت کرنے والے کے مزاج میں ہے۔
پھر یہی احساس دونوں خاندانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے، معمولی رنجشیں مستقل دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، اور جن گھروں سے سلام اور مسکراہٹ کی آوازیں آتی تھیں وہاں خاموشی، بدگمانی اور تلخی نے ڈیرے جما لیے ہوتے ہیں۔
بچپن کے زخم معاشرے کا مستقبل بدل دیتے ہیں
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچے جلدی سب کچھ بھول جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بچہ بہت سی باتیں زبان سے بیان نہیں کر پاتا، مگر اپنے دل کی گہرائیوں میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ کس نے اسے محبت دی، کس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا، کس نے اس کی غلطی پر پیار سے سمجھایا، اور کس نے اسے دوسروں کے سامنے ذلیل کیا۔
پھر وقت گزرتا ہے…
وہی معصوم بچہ جوان ہوتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، مگر بچپن کے بعض زخم اس کے شعور کے کسی گوشے میں خاموشی سے زندہ رہتے ہیں۔
نفسیات کے ماہرین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچپن کے تجربات انسان کی شخصیت، اس کے مزاج اور اس کے معاشرتی رویّوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر ایک بچہ بار بار ذلت، تحقیر، نفرت اور بے جا سختی کا سامنا کرے تو یہ احساسات رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی تلخیاں، باہمی نفرتیں، رشتوں کی کمزوری اور بھائی چارے کا فقدان صرف جوانی میں پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد اکثر بچپن ہی میں رکھ دی جاتی ہے۔
اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا معاشرہ محبت، امن، اخوت اور خیرخواہی کا گہوارہ بنے، تو ہمیں آج ہی اپنے بچوں کے دلوں میں محبت، عزت، اعتماد اور حسنِ اخلاق کے بیج بونے ہوں گے۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جو بچہ محبت پا کر بڑا ہوتا ہے، وہ محبت بانٹتا ہے؛ اور جو نفرت سہہ کر پروان چڑھتا ہے، وہ عمر بھر اپنے اندر کے زخموں سے نبرد آزما رہتا ہے۔
والدین بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیں
جس طرح اساتذۂ کرام اور پڑوسیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ حکمت، شفقت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں، اسی طرح والدین کی بھی ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
اگر کوئی استاد یا پڑوسی خلوصِ نیت اور خیرخواہی کے جذبے سے بچے کی کسی غلطی کی نشاندہی کرے تو فوراً غصے میں آنے یا جذبات کے زیرِ اثر فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے حقیقت معلوم کیجیے۔ ہر شکایت کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لینا دانش مندی نہیں، اور ہر سزا کو بلا تحقیق درست سمجھ لینا بھی انصاف کے خلاف ہے۔
تربیت کا حسن اسی میں ہے کہ والدین، اساتذہ اور پڑوسی تینوں ایک دوسرے کو اپنا معاون سمجھیں، نہ کہ مخالف۔ جب اعتماد قائم رہتا ہے تو بچے کی اصلاح آسان ہو جاتی ہے، اور جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو معمولی مسائل بھی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس لیے یاد رکھیے! اعتدال، انصاف، حکمت اور باہمی اعتماد ہی کامیاب تربیت کی مضبوط بنیاد ہیں۔
ہمارا مشترکہ فرض
استاد، والدین اور پڑوسی—یہ تینوں درحقیقت ایک ہی بچے کے معمار ہیں۔
اگر یہ تینوں محبت، صبر، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں تو یہی بچہ کل ایک باکردار مسلمان، صالح انسان، ذمہ دار شہری اور معاشرے کا مفید فرد بن کر ابھرے گا۔
لیکن اگر یہی تینوں اپنے رویّوں سے اس کے معصوم دل کو زخمی کرتے رہیں، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کریں، یا اس کے اندر نفرت اور احساسِ محرومی کو جنم دیں، تو یہی زخم آگے چل کر معاشرے میں بداعتمادی، نفرت، انتقام اور باہمی جھگڑوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
یاد رکھیے! ایک بچے کی صحیح تربیت صرف ایک گھر کو نہیں، بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو سنوارتی ہے؛ اور ایک بچے کی غلط تربیت صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا نقصان بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد، اپنے طلبہ، اپنے پڑوسیوں کے بچوں بلکہ ہر معصوم بچے کے ساتھ عدل، شفقت، حلم، حکمت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com ۔