✍🏻بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ موت کی طرف سفر ہے۔ انسان خواہ کتنی ہی منصوبہ بندی کر لے، کتنی ہی آرزوؤں کے محل تعمیر کر لے، کتنی ہی دنیا سمیٹ لے، مگر موت نہ کسی سے اجازت لیتی ہے، نہ مہلت مانگتی ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات کا انتظار کرتی ہے۔ وہ اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے، اور جب آتی ہے تو انسان کی ہر آرزو، ہر منصوبہ اور ہر تعلق ایک لمحے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر موت ابھی آ جائے تو ہمارے پاس اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے کیا ہے؟
کیا ہمارے اعمال نامے میں ایسی نمازیں ہیں جو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی ہوں؟ کیا ہماری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہی ہے یا غیبت، جھوٹ اور فضول گفتگو میں مصروف رہی؟ کیا ہمارے دل میں اخلاص، تقویٰ اور خوفِ خدا نے جگہ بنائی یا دنیا کی محبت نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا؟ کیا ہم نے کسی کا دل جوڑا یا دل دکھائے؟ کیا ہم نے کسی محتاج کے آنسو پونچھے یا اپنی آسائشوں ہی کو زندگی کا مقصد سمجھ لیا؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیا میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، موت کے بعد وہی چیز سب سے کم اہم رہ جاتی ہے۔ دولت، شہرت، حسن، منصب، جائیداد، تعلقات اور خواہشات… سب یہیں رہ جاتے ہیں۔ قبر میں نہ بینک بیلنس ساتھ جاتا ہے، نہ قیمتی لباس، نہ بلند عمارتیں اور نہ دنیا کی تعریفیں۔ وہاں اگر کوئی چیز انسان کا ساتھ دیتی ہے تو وہ صرف اس کا ایمان، اس کے اخلاص بھرے اعمال اور اللہ کی رحمت ہے۔
کتنے ہی لوگ صبح اپنے گھروں سے نکلے مگر شام اپنے اہلِ خانہ کے پاس واپس نہ لوٹ سکے۔ کتنے ہی افراد نے کل کے منصوبے بنائے، لیکن ان کی زندگی آج ہی ختم ہو گئی۔ کتنے ہی لوگوں نے توبہ کو بڑھاپے تک مؤخر رکھا، مگر بڑھاپا آنے سے پہلے ہی موت نے ان کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دانا وہ ہے جو موت کو یاد رکھ کر زندگی گزارتا ہے، کیونکہ موت کی یاد انسان کے غرور کو توڑتی، دل کو نرم کرتی اور آخرت کی تیاری کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔
یہ دنیا مسافر خانہ ہے، مستقل قیام گاہ نہیں۔ ہم سب ایک ایسے سفر پر ہیں جس کی آخری منزل قبر ہے، پھر حشر کا میدان ہے، پھر اللہ رب العالمین کے حضور جواب دہی ہے۔ اس دن نہ نسب کام آئے گا، نہ مال، نہ اولاد اور نہ دنیاوی مرتبہ؛ کامیاب وہی ہوگا جو پاکیزہ دل، سچا ایمان اور نیک اعمال لے کر حاضر ہوگا۔
آئیے! اپنے آپ سے چند سوال کریں۔ اگر آج ہماری آنکھ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے تو کیا ہمارے نامۂ اعمال میں ایسی نیکیاں موجود ہیں جن پر ہمیں امید ہو؟ کیا کسی مظلوم کی بددعا ہمارا تعاقب تو نہیں کر رہی؟ کیا والدین ہم سے راضی ہیں؟ کیا ہمارے حقوق العباد ادا ہیں؟ کیا ہم نے اپنی توبہ کو کل پر چھوڑ رکھا ہے؟ اور کیا ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ "کل" ہمیں نصیب بھی ہوگا؟
ابھی بھی وقت ہے۔ سانس باقی ہے، درِ توبہ کھلا ہے، رحمتِ الٰہی وسیع ہے اور رب اپنے بندے کی واپسی سے خوش ہوتا ہے۔ اپنے دل کو گناہوں کی گرد سے صاف کیجیے، نمازوں کو سنواریے، قرآن سے تعلق مضبوط کیجیے، ذکر و استغفار کو معمول بنائیے، والدین کی خدمت کیجیے، لوگوں کے حقوق ادا کیجیے اور ہر دن اس طرح گزاریے جیسے یہ زندگی کا آخری دن ہو۔
شاید یہی آج کا ایک سچا فیصلہ، کل ہماری نجات کا سبب بن جائے۔
موت اچانک آتی ہے، لیکن آخرت کی تیاری اچانک نہیں ہوتی۔ اس کے لیے آج، ابھی اور اسی لمحے سے عمل شروع کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب موت کا فرشتہ دروازے پر آ جائے گا، تب نہ مہلت ملے گی، نہ عذر قبول ہوگا، نہ وقت واپس لوٹے گا۔ اس دن صرف یہی سوال باقی رہ جائے گا:
"ہم اپنے رب کے حضور لے جانے کے لیے کیا ساتھ لائے ہیں؟"