انسان ہو اور ظرف نہ ہو گویا کہ کتاب ہو اور حرف نہ ہو ❤️
03 اگست، 2026
انسان ہو اور ظرف نہ ہو
گویا کہ کتاب ہو اور حرف نہ ہو
ظرف...
یعنی برداشت، اخلاق، تہذیب۔
یہی تو وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔
جس طرح حرف کے بغیر کتاب بے معنی ہوتی ہے،
اسی طرح ظرف کے بغیر انسان کی شخصیت بھی ادھوری رہ جاتی ہے
شکل و صورت،
ڈگری،
پیسہ،
شہرت... یہ سب تو باہر کا غلاف ہیں۔
اصل کتاب کے اندر کیا لکھا ہے،
یہ ظرف سے پتہ چلتا ہے۔
ایسا انسان جس کے پاس علم تو بہت ہو پر بات کرنے کی تمیز نہ ہو
وہ خوبصورت جلد والی کتاب کی طرح ہے... کھولو تو اندر صفحے خالی ہو۔
جس کے پاس طاقت ہو پر انصاف نہ ہو
وہ اس تلوار کی طرح ہے جس کی دھار ہی نہ ہو۔
جس کے پاس رشتے ہوں پر وفا نہ ہو
وہ اس گھر کی طرح ہے جس کی بنیاد ہی نہ ہو۔
ظرف والا انسان چھوٹی بات پر بھی بڑا نظر آتا ہے۔
بے ظرف انسان بڑی بات کر کے بھی چھوٹا لگتا ہے۔
"علم کے ساتھ ظرف کا ہونا ضروری ہے
کیونکہ
کتاب اگر بغیر حرف کے ہو تو وہ صرف کاغذ کا بوجھ ہے۔
اور انسان اگر بغیر ظرف کے ہو تو وہ صرف سانس لینے والی لاش ہے۔
عائشہ 🍁