ایک حاسد نے خدام محرم نبوی کے افسر اعلی کوجو کہ ترکی کا تھا حضرت(مولانا خلیل احمد سہارنپوری رح)کی طرف سے اس طرح مشتعل کیا کہ اس وقت حرم نبوی میں بیٹھا ہوا ایک شخص درس دے رہا ہے جو معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اچھا اعتقاد نہیں رکھتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ ترکی افسریہ سن کر جھلا گیا اور غصہ میں سرخ ہو گیا باب الرحمۃ کے قریب پہنچا جہاں حضرت درس دے رہے تھے حضرت کا چہرہ مبارک دیکھ کرتر کی افسر کا غصہ یلکلخت ٹھنڈا ہو گیا اور وہ کچھ دیر کھڑا ہوا درس سنتا رہا۔ پھر بی ساختہ بولا :اے شیخ اس وقت ایک شخص نے مجھ سے اس طرح شکایت کی ہے مگر میں آپ کی صورت دیکھ کر سمجھ گیا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے، وما هذا وجہ کذاب( اور آپ کا چہرہ جھوٹوں کا سا نہیں ہے) 
 حضرت نے فرمایا اولئك يفترون علينا وعلى اكابرنا ويحرفون اقوالنا ونقوض امرهم وأمرنا إلى الله. وه لوگ ہم پر اور ہمارے اکابر پر بہتان لگاتے اور ہماری باتوں کو الٹ پلٹ کر غلط طور سے مشہور کرتے ہیں۔ ہم اپنا اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کرتے ہیں۔

اس کے بعد افسر نے کہا کہ آپ مطمئن رہیں اور اپنا با برکت درس جاری رکھیں مگر آپ کے مدنی تلامذہ نے کہ خوشحال و نازک مزاج تھے اس قصہ کا اتنا اثر لیا کہ دوسرا بڑا مکان خالی کرا کے حضرت کو مجبور کیا کہ ہم کو وہاں درس دیں تاکہ آئندہ ہم اپنے شیخ کے متعلق کوئی لفظ ایسا نہ سن سکیں جس کی برداشت نہ ہو سکے اور مسجد شریف میں زبان یا ہاتھ سے جواب دینے کی نوبت آوے چنانچہ اگلے دن سے حضرت نے وہاں درس دیا اور سب کو اجازت و سند عطا فرمائی۔
(تذکرۃ الخلیل ص287)