مضمون (50)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"سچ کی آواز، ظلم کی پہچان — مدنی صاحب پر اعتراض کیوں؟"
______--_____-__
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، مختلف تہذیبیں اور مختلف قومیتیں ایک ہی دھرتی پر سانس لیتی آئی ہیں۔ لیکن افسوس کہ بدلتی ہوئی سیاست اور نفرت کی فضا نے وہ ماحول مجروح کر دیا ہے جو کبھی امن، رواداری اور بھائی چارے کی علامت تھا۔
آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مکالمہ اور انصاف کی آواز کو سننے کے بجائے اکثر اسے جرم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حقیقت کو حقیقت کے طور پر دیکھا جائے اور ظلم کو ظلم کہا جائے. چاہے وہ کسی کے بھی ساتھ ہو۔
اسی تناظر میں ایک نہایت اہم بات سمجھنی ضروری ہے، جو بعض عناصر شعوری یا غیر شعوری طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔آپ ذرا انصاف کے ساتھ بتائیں
مولانا محمود مدنی صاحب کا آخر جرم ہی کیا ہے؟
انہوں نے تو صرف حقیقت کو سامنے رکھا ہے۔
کیا مسلمانوں کے مقدس لفظ "جہاد" کی مسلسل توہین نہیں کی جا رہی؟
کوئی اسے ووٹ جہاد کہتا ہے، کوئی تعلیمی جہاد، کوئی لو جہاد، کوئی تھوک جہاد۔
کیا ایسے الزامات سے مسلمانوں کی دل آزاری نہیں کرتے؟
مزید یہ کہ کچھ شر پسندوں کی کرتوت اور دہشتگردی کو بھی "جہاد" کا نام دے دیتے ہیں، جبکہ پوری مسلم قوم کی صاف اور دوٹوک آواز ہے کہ دہشتگردی کو کسی بھی دھرم سے جوڑنا نہ مناسب ہے اور نہ منصفانہ ہے.
دنیا کا کوئی بھی مذہب دہشتگردی نہیں سکھاتا۔
ہمارا ملک امن، پیار، خلوص اور وفا کی سرزمین ہے۔اور یہی اس ملک کا پہچان ہے
یہاں ہر شہری کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی بات کہنے اور اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
لہٰذا مولانا مدنی صاحب بھی نفرت یا شدت پسندی نہیں پھیلا رہے ہیں —
وہ صرف اپنی قوم کے دکھ، مسائل اور حقائق بیان کر رہے ہیں، جو ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
مولانا مدنی صاحب کا پتلہ جلانے اور ان کی بے حرمتی کرنے والے شاید یہ بنیادی بات بھی نہیں سمجھتے کہ جہاد (سنگھرس) ظلم کے جواب میں ہوتا ہے.
اور اگر ظلم نہیں تو سنگھرس بھی نہیں ہوتا۔
اور مولانا مدنی صاحب کا صاف کہنا ہے یہ ہمارا پیارا سیکولر ملک ہے یہاں جہاد کی بات کرنا ہی موضوعِ بحث نہیں. لہٰذا
سب سے پہلے ان افراد کو یہ طے کر لینا چاہیے کہ
کیا واقعی.؛مسلمانوں پر ظلم نہیں ہو رہا ہے ؟
کیا مسلمان موب لنچنگ کا شکار نہیں ہوئے؟
کیا ٹرین میں ایک مسافر کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے گولی نہیں ماری گئی؟. وغیرہ وغیرہ
ایسے بے شمار واقعات ہیں جنہیں نظر انداز کر کے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ظلم نہیں ہو رہا؟
اور اگر آپ واقعی یہ مانتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم نہیں ہوا—
تو پھر سنگھرس کی بات کیوں کرتے ہیں؟ اس کو اتنا ہوا اور جرم بناکر کیوں پیش کرتے ہیں ؟
پھر آپ آگ بگولہ کیوں ہوتے ہیں جب ہم اپنے دکھ، اپنی مظلومیت، اور اپنے مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں؟
یہ ملک ہم سب کا ہے۔
ہمیں اپنا درد بیان کرنے دیجئے،
ہمیں بھائی چارگی نبھانے دیجئے،
اور آئیں—
ہم سب مل کر، ایک ساتھ، ہر ظلم کے خلاف انصاف کی آواز بلند کریں.
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافات کو بڑھانے کے بجائے انصاف، حقیقت اور بھائی چارگی کو ترجیح دیں۔
ظلم کے خلاف متحد ہونا کمزوری نہیں بلکہ بھارت کی جمہوری روح کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں—
یہ ہماری شناخت، ہمارا وجود، ہماری مشترکہ میراث ہے۔
آئیں، اس مشترکہ گھر کی حفاظت کے لیے سب مل کر آواز اٹھائیں،
یہ دیش ہم سب کا ہے — اور ہم سب اس کے برابر کے وارث ہیں۔
"یا اللہ! اس ملک کو امن، اتحاد، خیر و سلامتی سے بھر دے، اس کی فضاؤں میں محبت، انصاف اور بھائی چارگی قائم فرما، اور ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔"
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com