شریف محض الفاظ کی تسبیح نہیں بلکہ وہ آیتِ قرآنی کی عملی تفسیر ہے جس میں ربِّ کائنات نے اعلان کیا کہ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔۔۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ذکر جس میں خالقِ کائنات اور ملائکہ شریک ہیں اس میں شامل ہونا کتنا بڑا شرف ہے۔۔ درود وہ نسیمِ رحمت ہے جو قلب کو جلا بخشتی ہے اور روح کو تازگی عطا کرتی ہے۔۔ احادیث میں آیا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے گویا یہ وہ سرمایہ ہے جو زبان سے ادا ہو کر عرش تک جا پہنچتا ہے اور پلٹ کر بندے کے اعمال کو نور میں ڈھال دیتا ہے۔۔ درود دعا کی قبولیت کی کنجی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ جب دعا مانگو تو ابتداء اور انتہا درود سے کرو تاکہ تمہاری حاجات کے درمیان درود کا نور واسطہ بن کر قبولیت کی ضمانت دے۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن زبانوں نے درود کو کثرت سے اپنایا ان کے قلوب زندہ رہے اور جنہوں نے اس کو ترک کیا وہ سختی اور قساوت میں ڈوب گئے۔ اولیاء و صلحاء کی زندگیاں درود کی خوشبو سے مہک رہی ہیں۔۔ کوئی امام احمد بن حنبل کی راتوں کی عبادت دیکھے کہ کس طرح زبان پر درود کی تکرار تھی، کوئی امام شافعی کا کلام پڑھے کہ درود کو انہوں نے اپنے وظیفے کا مرکز بنا رکھا تھا۔۔
یہی وجہ ہے کہ درود شریف کو عشقِ مصطفی کی علامت مانا گیا کیونکہ جب دل پر محبت کا غلبہ ہوتا ہے تو زبان درود کی لذت میں گم ہو جاتی ہے۔ اہلِ بیت کی محبت بھی اسی درود میں مضمر ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا کہ نبی اور آل پر درود بھیجا کرو۔ یہ ایسا ذکر ہے جو محبتِ رسول اور محبتِ اہلِ بیت کو ایک ہی مالا میں پرو دیتا ہے۔۔ درود محض آخرت کی نجات کا وسیلہ نہیں بلکہ دنیاوی غموں کا علاج بھی ہے۔ کتنے ہی واقعات ہیں کہ کسی نے تنگی میں درود پڑھنا شروع کیا اور اللہ نے فتوحات کے دروازے کھول دیے، کسی نے بیماری میں کثرتِ درود اختیار کیا اور شفا نصیب ہوئی، کسی قرض میں ڈوبے ہوئے نے درود کو معمول بنایا تو مشکلات دور ہو گئیں۔۔یہ سب تاریخ کے اوراق پر روشن ہے کہ درود نے ہر موڑ پر اہلِ ایمان کو سہارا دیا، امت کے زوال اور فکری انحطاط کا اصل علاج بھی درود ہے کیونکہ جب قلوب رسول اللہ کی محبت سے سرشار ہوں گے تو نہ مغربی تہذیب کا جادو اثر کرے گا نہ فکری ارتداد کا اندھیرا چھائے گا۔۔
شاعری اور ادب میں بھی درود کی جھلک اس طرح ہے جیسے چاندنی رات میں چاند کی روشنی، صوفیانہ کلام اور نعتیہ شاعری میں درود ہی وہ چراغ ہے جو جذبوں کو حرارت دیتا ہے۔۔۔جدید انسان جس کی روح مادیت کی دھول میں اٹک گئی ہے اس کے لئے درود وہ نسخہ ہے جو اندر کی ویرانی کو جنت کی خوشبو میں بدل سکتا ہے۔۔ یہ ذکر دل کی سکرین سے دنیا کے بوجھ ہٹاتا ہے اور قربِ مصطفی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔۔ قیامت کے دن بھی یہی درود نجات کا سہارا ہوگا، پل صراط پر روشنی کا ذریعہ ہوگا، شفاعتِ کبریٰ کے دربار تک لے جانے والا پاسپورٹ ہوگا۔۔۔۔
پس درود دراصل وہ کائناتی کلمہ ہے جس میں اللہ، فرشتے، انبیاء، اولیاء، عاشقانِ رسول سب شریک ہیں اور بندہ جب اس کارواں میں شامل ہوتا ہے تو اس کا نام بھی رحمت کے رجسٹر میں لکھ دیا جاتا ہے، لہٰذا جو امت چاہتی ہے کہ اس کا حال سنورے اور مستقبل نکھرے وہ درود کو اپنی زبان کا ورد اور اپنے دل کا نغمہ بنا لے۔۔ یہی وہ ذکر ہے جو دنیا کو گلزار اور آخرت کو جنت بنا دیتا ہے۔۔۔۔۔