ترتیب و پیشکش:- مولانا پرویز رسول اشاعتی ٹھنڈوسوی 
 دنیا کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام، سربلندی اور دائمی بقا کا راز محض مادی وسائل، عسکری قوت، سیاسی اقتدار یا اقتصادی خوش حالی میں پوشیدہ نہیں، بلکہ اس کی اصل بنیاد صالح کردار، اعلیٰ اخلاق، مضبوط اقدار اور ایسے عملی نمونوں میں ہوتی ہے جو افراد کے دل و دماغ کو متاثر کرکے ان کی عملی زندگی کی سمت متعین کریں۔ جب کسی قوم کے سامنے ایک مثالی شخصیت، پاکیزہ کردار اور بلند اخلاقی معیار موجود ہو تو اس قوم کی نئی نسلیں بھی انہی خطوط پر پروان چڑھتی ہیں، لیکن جب معاشرے سے صالح نمونے ختم ہو جائیں، کردار کی جگہ گفتار، اخلاص کی جگہ نمود و نمائش اور دیانت کی جگہ مفاد پرستی لے لے تو قومیں اپنے تمام تر وسائل کے باوجود زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے انسانیت کی تعمیر و اصلاح کے لیے "اسوۂ حسنہ" کو بنیادی حیثیت عطا کی اور پوری انسانیت کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کو کامل ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا یعنی یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہو۔ امام ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ رسول اللہ ﷺ کے تمام اقوال، افعال، احوال اور اخلاق کی اقتدا کو مسلمانوں پر لازم قرار دیتی ہے، لہٰذا ہر مسلمان کے لیے آپ ﷺ کی سیرت ہی کامل معیار ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء کو بھی اسوۂ حسنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی پوری زندگی انسانیت کے لیے عملی نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اہلِ ایمان کو انبیاء کے ایمان، توکل، استقامت اور قربانی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، قرآن مجید کی تعلیمات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں کی اصلاح کے لیے ایسے رہنما بھیجے جن کی زندگیاں خود ان کی دعوت کی عملی تفسیر تھیں، کیونکہ محض وعظ و نصیحت کبھی اتنا اثر نہیں رکھتی جتنا ایک زندہ کردار رکھتا ہے۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کے مقصد کو ان الفاظ میں بیان فرمایا إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ یعنی مجھے تو صرف اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاقِ حسنہ کو مکمل کروں۔ اس ارشادِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تعمیر کا اصل ستون حسنِ اخلاق ہے اور یہی اخلاق اسوۂ نبوی کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی "آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن تھا۔ اس مختصر مگر جامع جملے میں اسوۂ محمدی کی پوری تصویر سمو دی گئی ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے ہر حکم کی عملی تفسیر تھے۔ چنانچہ عدل، دیانت، رحم، عفو، حلم، صبر، امانت، سخاوت، تواضع اور وفاداری جیسی تمام صفات اپنی کامل ترین شکل میں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں جلوہ گر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کے بارے میں فرمایا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ ، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے اس حکم کو اس درجہ نافذ فرمایا کہ فرمایا إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، یعنی تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان کا کوئی بااثر شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور کمزور پر حد قائم کرتے تھے۔ یہ حدیث اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ قوموں کی تعمیر انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح علم و تربیت کو بھی اسوۂ نبوی کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا۔ ارشادِ نبوی ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، اگرچہ اس روایت کی سند پر اہلِ علم نے کلام کیا ہے، لیکن اس کا مفہوم دیگر نصوص سے ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صفہ کے چبوترے پر ایسے افراد تیار کیے جنہوں نے بعد میں پوری دنیا کو علم، ایمان اور تہذیب سے روشناس کرایا۔ یہی صالح نمونہ نسلوں کی تعمیر کا اصل ذریعہ بنا۔ قرآن مجید نے والدین کی صالح زندگی اور اولاد کی دینی تربیت کے تعلق کو بھی نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ، امام طبریؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صالح والدین کی برکت سے اولاد کی رفعتِ درجات کا بیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے والدین کو بہترین معلم اور مربی قرار دیتے ہوئے فرمایا مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ نِحْلًا أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ، یعنی "کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھے ادب سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دیا۔" اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کے لیے سب سے بڑی میراث مال و دولت نہیں بلکہ صالح کردار ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے معاشرے کے ہر فرد کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فرمایا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، یعنی ہر شخص اپنی ذمہ داری کے دائرے میں ایک نمونہ ہے اور اسی کے مطابق اس سے بازپرس ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال سے زیادہ آپ کے اعمال سے تربیت حاصل کی، اور اسی عملی تربیت نے انہیں تاریخ کا بہترین معاشرہ بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے سچے پیروکار تھے۔ خلافتِ راشدہ کا پورا دور اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب حکمران، قاضی، عالم، تاجر، استاد اور عام شہری سب رسول اللہ ﷺ کے نمونے پر چلنے لگیں تو چند ہی برسوں میں ایک منتشر اور پسماندہ قوم دنیا کی سب سے مہذب، منصف اور باوقار امت بن جاتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صداقت، حضرت عمر فاروقؓ کا عدل، حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور حضرت علیؓ کا علم و حکمت دراصل اسوۂ محمدی ہی کی عملی شعاعیں تھیں۔ بعد کے ادوار میں بھی جہاں جہاں مسلمانوں نے اس کردار کو اپنایا وہاں علم، تہذیب، عدل، تحقیق اور انسان دوستی نے فروغ پایا، جیسا کہ اندلس، بغداد اور دمشق کی علمی تاریخ اس پر گواہ ہے، لیکن جب کردار کمزور ہوا، امانت کی جگہ خیانت، عدل کی جگہ ظلم، اخلاص کی جگہ ریا اور اتحاد کی جگہ تفرقہ نے لے لی تو امتِ مسلمہ سیاسی، فکری اور تہذیبی زوال سے دوچار ہوگئی۔ قرآن مجید نے اسی اٹل اصول کو بیان کرتے ہوئے فرمایا إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ، یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کردار اور اپنے باطن کو نہ بدلے۔ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اسوۂ حسنہ کو نظریاتی طور پر تو قبول کیا، لیکن عملی زندگی میں اسے اپنا معیار نہیں بنایا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں میں والدین، مدارس اور جامعات میں اساتذہ، مساجد میں ائمہ و خطباء، تجارت میں تاجران، سیاست میں قائدین اور معاشرے کا ہر فرد اپنے آپ کو اسوۂ نبوی کا عملی نمونہ بنائے، کیونکہ قوموں کی تعمیر محض قوانین سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے، اور نسلوں کی اصلاح نصیحتوں سے زیادہ صالح نمونوں سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ، اس ارشادِ مبارک میں دراصل اس امت کا تعمیری منشور بیان کر دیا گیا ہے کہ جو خود قرآن کے مطابق زندگی گزارے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دے، وہی بہترین انسان اور بہترین نمونہ ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ نیک نمونہ ہی قوموں اور نسلوں کی تعمیرِ نو کا حقیقی سرچشمہ ہے، اسوۂ محمدی ﷺ ہی وہ دائمی اور آفاقی معیار ہے جس سے وابستہ ہو کر فرد صالح بنتا ہے، خاندان مستحکم ہوتا ہے، معاشرہ پاکیزہ بنتا ہے، ریاست عادل بنتی ہے اور پوری امت عزت، وقار اور سربلندی کی منزلیں طے کرتی ہے۔